پک اینڈ ڈراپ (افسانچہ)
”جی! آپ کو سننے کے لئے ہی مسلسل منتظر ہوں۔ آپ نہ جانے کہاں رہ گئیں، اتنی دیر سے۔ آپ کا فون مسلسل آف جا رہا تھا۔“
”جی۔ معذرت عزیز من! سفر میں فون کی چارجنگ ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ اسی لئے فون آف ہو گیا تھا، مگر میرا دھیان مسلسل آپ ہی کی جانب اٹکا ہوا تھا۔ کہ کہیں آپ واپس نہ چلے گئے ہوں۔ بقول گلزار صاحب کے :
کوئی اٹکا ہوا تھا پل شاید
وقت میں پڑ گیا تھا بل شاید۔ ”
”شعر تو اداس کر دینے والا ہے، مگر یہ خستہ آپ کی آواز اور خیریت سن کر گلزار ضرور ہوا۔ اس وقت کہاں ہیں آپ؟“
”میں ابھی ابھی گھر پہنچی ہوں۔ آتے کے ساتھ فون کو دو منٹ چارج پہ لگا کر، آپ کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ آپ کہاں ہیں! ؟ چلے تو نہیں گئے ہیں؟ ہم ابھی مل نہیں سکتے کیا؟ اس سے پہلے کہ آپ واپس اپنے شہر چلے جائیں۔“
وہ بے چینی سے سوال در سوال کرتی گئی۔
”آپ سے ملنے ہی کا منتظر ہوں، حضور! ورنہ میں تو کب کا نکل چکا ہوتا۔ بلکہ اس وقت تک تو گھر پہنچنے والا بھی ہوتا شاید! میں نے سوچا، ایک کا سفر پورا نہیں ہوا، تو دوسرا سفر کیسے شروع کردے۔“
”ہیں کہاں! ؟“
”اسی ریسٹورنٹ پہ۔
آئیں۔ کافی پییں ناں۔
مل لیں تو کچھ آپ کے شہر آنے کا مصرف پورا سمجھوں اور دل کی تسلی بھی ہو! اور شاید ان آنکھوں کی بھی۔ ”
”کیسے آؤں! ؟ اس وقت کوئی ڈراپ کرنے والا نہیں۔ کیا آپ مجھے ’پک‘ نہیں کروا سکتے؟ اور پھر جاتے ہوئے ’ڈراپ‘ نہیں کروا سکتے! ؟“
’‘ پک ’کرواؤں؟ کیا مطلب! ؟ اپنے ہوتے ہوئے، کسی اور سے آپ کو‘ پک ’کرواؤں؟ یہ ممکن ہے؟ اور کیا مناسب بھی ہے۔ ؟“
”اچھا۔“ شرم اور اعتماد کے ملے جلے جذبات سے گویائی ہوئی۔
ایک چھوٹے سے توقف کے بعد اگلی طرف سے آواز آئی:
”اور ہاں۔ یہ سن لیں نگار من! ’پک‘ تو میں نے آپ کو کر ہی لیا ہے، البتہ ’ڈراپ‘ میں آپ کو ہرگز ہرگز نہیں کر سکتا۔ آپ چاہیں، تب بھی نہیں!“

