زیادتی کے شکار بچے اور ریٹنگ مارکہ اینکرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس موضوع پر میں لکھنے جا رہا ہوں ، وہ ایک بہت حساس معاملہ ہے ۔ یہ بات ہمارے ملک کے بڑے بڑے میڈیا گروپس کو ناگوار گزرے گی۔ یہ مجھے معلوم ہے مگر میں لکھوں گا۔

آپ اکثر و بیشتر ان بچوں بچیوں اور ان کے لواحقین کے انٹرویوز سنتے ہیں کا جن کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ میں اتنے ایتھکس ہونے چاہئیں کہ اگر کسی خاندان کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا ہے تو اس کے ساتھ کس طرح بات کرنی ہے۔

ہمارے ہاں ہوتا کیا ہے؟

سوال: جب آپ کو پتا چلا کہ آپ کی بیٹی/بیٹے کے ساتھ زیادتی کی گئی تو آپ کو کیسا محسوس ہوا؟
سوال: آپ ذرا تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ اس وقت کیا ہوا تھا؟
سوال: آپ کے ساتھ اس درندے نے کیا کام کیا؟
سوال: آپ نے اس وقت شور نہیں مچایا کہ پلیز مجھے چھوڑ دو؟

سوال: آپ نے اس وقت کیا دیکھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟
سوال: آپ کے ساتھ زیادتی کرنے والے کتنے لوگ تھے؟
سوال: آپ کے ساتھ سب سے پہلے کس نے زیادتی کی؟

سوال: آپ یہ بتائیں کہ آپ کا کیا کہنا ہے اس سب معاملے پر ، ان درندوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
سوال: یہ آپ کے ساتھ پہلی بار ہوا یا پہلے بھی ایسا کوئی عمل ہوا آپ کے ساتھ؟

احساسات سے عاری درندہ نما اینکرز سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا اوپر درج ایک بھی سوال اس درندگی کے شکار بچے یا اس مظلوم خاندان سے کرنے کا کوئی جواز ہے آپ کے پاس؟

خدا کبھی بھی، کبھی بھی ایسا وقت آپ کے دشمن پر بھی نہ لائے۔ خدا نہ کرے یہی واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہو تو آپ اپنے بچے سے اس انداز میں پوچھیں گے یہ سوال! ️ بتائیں

پہلی بات تو یہ ہے کہ جب وہ مظلوم خاندان ایک درد سے گزر چکا ہے، اس ٹراما سے گزر رہا ہے تو تمام زخم ہرے کرنے کی وجہ؟ ان زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے۔

آپ کا بچہ خدا نہ کرے کسی ایسے سانحے سے گزرے تو اس سے پوچھیں گے بیٹا آپ نے کیسا محسوس کیا،  آپ نے شور مچایا ،  آپ کے ساتھ کس نے کتنی کتنی بار یہ عمل کیا؟ اور وہ بھی کیمرے کے سامنے۔

اگر میں حقیقت پسندی سے کام لوں تو اندھیر نگری چوپٹ راج میں ایک ہی بات سمجھ آئے گی کہ یہ سب گند ریٹنگ کے لئے کیا جاتا ہے۔ آپ نے بس مزہ لینا ہے اور ریٹنگ بڑھانی ہے۔

تو یاد رکھیے گا

زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

مکافات عمل کی چکی چلتی تو آہستہ ہے مگر پیستی بہت باریک ہے۔ میری درخواست ہے کہ آپ ان مظلوموں کی آواز بنیں۔ ان کا درد سمجھیں ، ان کو اپنا سمجھیں ۔ ان کو اس واقعے اور صدمے سے باہر نکالیں اور اس واقعے کی تفصیلات جان کر آپ کو ریٹنگ ، لوگوں کو چسکا اور اس خاندان کو مزید دکھ کے علاوہ کچھ نہیں ملنا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

زیرک سجاد شاکر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments