دیوان جی کی سمادھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رائے بہادر دیوان پربھداس شیوک رام آڈوانی کی سمادھی پر ایک سفید الو آنکھیں بند کیے بیٹھا بے ثباتی عالم پر غور کرتا رہتا ہے۔ اس کا رنگ بگلے جیسا ہے اور پروں پر جگہ جگہ گہرے کتھئی رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے اس کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ عموماً وہ آنکھیں بند کیے گہری سوچ میں ڈوبا رہتا ہے لیکن اگر کوئی قریب سے گزرے تو وہ آہٹ پا کر اپنی بلی جیسی پیلی پیلی آنکھیں کھول کر اسے دیکھتا ہے۔ اس کے سامنے ایک لق و دق میدان ہے جس میں لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

اس کی آنکھیں ہر گزرنے والے کا اس وقت تک تعاقب کرتی ہیں جب تک کہ وہ دور نہ چلا جائے۔ پھر وہ دوبارہ آنکھیں بند کر کے اپنے خیالات کی دنیا میں لوٹ جاتا ہے۔ اسے وہاں بیٹھے ہوئے لگ بھگ سوا سو برس ہوچکے ہیں مگر کسی کو اس کے وجود کا علم نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ دیوان پربھداس آڈوانی کا موجودہ روپ ہے۔

آنجہانی دیوان جی 20 مئی 1939 ء کو سور گ باش ہوئے۔ اگرچہ وہ بڑے نیک انسان تھے مگر ابھی تک نروان کے درجے تک نہیں پہنچے تھے اور انہیں ابھی مزید آواگون کی چکی میں پسنا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اگلے جنم میں الو ہوں تاکہ لمبی عمر پائیں اور عقل میں کوئی ان کا ثانی نہ ہو۔ ویسے بھی الو لکشمی دیوی کی سواری کی حیثیت سے دولت اور عقل کی نشانی ہے۔ ان کی نیک دلی کی بنا پر ان کی خواہش پوری ہوئی اور وہ مرنے کے بعد الو کے روپ میں جنم لے کر اپنی سمادھی پر آبیٹھے، مگر شرط یہ تھی کہ وہ سب کی آنکھوں سے اوجھل رہیں گے اور چپ چاپ گیان دھیان میں لگے رہیں گے۔

دیوان جی اپنے پچھلے جنم میں انجینئر تھے مگر بچوں کی تعلیم کے لیے ان کا جوش اور ولولہ جنون کی حد تک تھا۔ چناں چہ انہوں نے ملازمت چھوڑکر ذاتی جمع پونجی سے 1897 ء میں ایک اسکول تعمیر کیا اور اس کا نام نوودیالہ ہائی اسکول فا ر بوائز اینڈ گرلز رکھا۔ انہوں نے بقیہ زندگی اسی اسکول میں اخلاقیات کے استاد کی حیثیت سے گزاردی۔ اس اسکول کا شمارسندھ کے بہترین اسکولوں میں ہوتا تھا۔ اس زمانے میں سندھ کے ہندوؤں میں لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی اور معدودے چند ہی اسکول تھے جن میں لڑکیاں پڑھتی تھیں۔ جب نو ودیالہ کی داغ بیل پڑی تو ایک صاحب جن کا نام نرمل داس گوربکسانی تھا، تانگہ چلاتے تھے اور جن گھروں کے سامنے انہیں لڑکیاں کھڑی نظر آتیں ان کے والدین کو ترغیب دیتے کہ بچیں کو اسکول بھیجیں اور انہیں خود اپنے تانگے میں اسکول لانے اور لے جانے کی پیش کش کرتے۔

اس اسکول کی دو منزلہ عمارت فن تعمیرکا ایک نادر نمونہ ہے اور حیدرآباد سندھ گھومنے کے لیے آنے والے اگر اس عمارت کو نہ دیکھیں تو انہوں نے حیدرآباد دیکھا ہی نہیں۔ ٹھنڈی سڑک پر سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی یہ دیو قامت عمارت دور سے کسی راجستھانی راجہ کا محل لگتی ہے اور اس کا گھنٹا گھر ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک صحیح وقت بتا رہا ہے۔

پربھداس آڈوانی کی روشن خیالی اور انسانیت پرستی کا اندازہ اس عمارت کے ڈیزائن سے لگایا جاسکتا ہے۔ محراب دار دروازے دیکھ کر کسی مسجد کا گمان ہوتا ہے جب کہ وسیع و عریض چبوترے مندرکا احساس دلاتے ہیں۔ اونچی اونچی چھتیں اور رنگین شیشوں سے مزین پتلی پتلی اور بلندو بالا کھڑکیاں دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی گرجا میں بیٹھے ہوں، بلکہ اگر لائبریری کے وسیع و عریض ریڈنگ روم میں کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں تو فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور حمدیہ گیتوں کی گنگناہٹ صاف سنائی دیتی ہے۔

دیوان جی کی سمادھی ان کی ودیالہ کی پشت پر ایک میدان میں ہے جس میں بچے دوڑتے بھاگتے اور فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ جب کوئی بچہ ان کی سمادھی کے سامنے سے گزرتا تو ایک لمحے کے لیے وہاں رک کر احتراماً ہاتھ جوڑتا اور آگے بڑھ جاتا۔ ان کی پشت پر پرائمری کلاسیں تھیں جن سے بچوں کی پہاڑے گانے کی آوازیں آتی تھیں۔

ہک چھک چھ، بہ چھک بارہں
ٹرے چھک ارڑہں، چار چھک چوویہہ

انہوں نے اپنی سمادھی پر بیٹھے بیٹھے زمانے کے اتار چڑھاؤ دیکھے تھے اور پھر اچانک ایک وقت ایسا آیا جب بچوں نے وہاں آنا بند کر دیا۔ دیوان جی کو تجسس ہوا مگر ان کی مجبوری یہ تھی کہ وہ دریافت حال کے لیے اڑ کر ادھر ادھر نظر بھی نہیں ڈال سکتے تھے کیوں کہ انہیں موجودہ زندگی صرف اس لیے دی گئی تھی کہ وہ اپنی سمادھی پر بیٹھے سوچ بچار کرتے رہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک میدان میں لوگ چلتے پھرتے نظر آتے تھے کیوں کہ انہوں نے دوسرے سرے پر اساتذہ کے لیے مکانات بنائے تھے مگرمعلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی خالی ہو گئے ہیں۔ انہیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ ان گھروں کے مکین کہاں چلے گئے کیوں کہ انہیں یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ پاکستان بن گیا تھا اور ان کا اسکول مع اس کے اساتذہ اور طلبہ کے بمبئی منتقل ہو گیا تھا۔

دیوان جی تین سال تک اپنی سمادھی پر آنکھیں بند کیے دھیان میں لگے رہے کہ اچانک ان کے کانوں میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ انہوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تومیدان میں لوگ چلتے پھرتے نظر آئے، سامنے اساتذہ کے کوارٹر بھی آباد ہو گئے تھے۔ ان کی پشت پر عمارت میں بھی لڑکے لڑکیوں کے چلنے پھرنے اور قہقہے لگانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ یہ سال 1950 ء تھا جب سندھ یونی ورسٹی، جس کی بنیاد قیام پاکستان کے موقع پر کراچی میں رکھی گئی تھی، تین سال کے بعد حیدرآباد سندھ میں نو ودیا کی عمارت میں منتقل کردی گئی۔ دیوان جی اپنے بنائے ہوئے اسکول میں ایک بار پھر چہل پہل دیکھ کر مطمئن ہو گئے اور دوبارہ آنکھیں بند کر کے اپنے گیان دھیان میں لگ گئے۔

اگر آپ کبھی حیدرآباد سندھ جائیں تو ٹھنڈی سڑک پر واقع سندھ یونی ورسٹی اولڈ کیمپس ضرور جائیں۔ جب آپ برآمدوں اور راہ داریوں سے گزر کر عمارت کی پشت پر پہنچیں تو آپ کو سامنے ہی سیڑھیوں سے اتر کر میدان میں دیوان پربھداس آڈوانی کی سمادھی نظر آئے گی۔ آپ وہاں چند لمحات کے لیے ضرور رکیں اور احتراماً ہاتھ جوڑ کرکھڑے ہوجائیں۔ دیوان جی خوش ہوجائیں گے۔ (زیر طبع ناول سے ماخوذ)

حوالہ جات:
https://www.dawnnews.tv/news/1028211
https://www.geni.com/surnames/advani
https://www.facebook.com/mkhtiar.unar/photos/a.2428213370743254/2700856713478917/?type=3

https://timesofindia.indiatimes.com/city/mumbai/100-yr-old-khar-school-gets-the-stamp-of-honour/articleshow/5118016.cms

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply