سیارہ زمین: اکیسویں صدی کے اکیس سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوہری جنگ، ماحولیاتی خاتمے اور تکنیکی خرابی ان تینوں مسائل میں سے ہر ایک انسانی تہذیب کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ لیکن ان سب نے مل کر غیر معمولی وجودی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ یہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ماحولیاتی بحران انسانی تہذیب کی بقا کے لیے خطرہ ہے لیکن پھر بھی مصنوعی ذہانت اور بائیو انجینئرنگ کی ترقی کو روکنے کا امکان نہیں ہے۔ اگر سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح، غذائی اجزا میں کمی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے مسئلہ کو ابھار کر ہماری توجہ الگورتھم اور جینز سے ہٹانا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ اور سوچنے کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ آب و ہوا کی تبدیلی بالکل اسی طرح اپنا اثر و رسوخ دیکھا سکتی ہے جیسے دو عالمی جنگیں دیکھا چکی ہیں۔ 1914 سے 1918 کے درمیان اور پھر 1939 سے 1945 کے درمیان تکنیکی ترقی کی رفتار تیزی ہوئی ہے۔ کیونکہ پوری شدومد سے جنگ میں شامل قوموں نے احتیاط اور معیشت کو ہوا میں اڑا دیا ہے اور ہر طرح کے قابل اور حیرت انگیز منصوبوں میں بے پناہ و سائل کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں سے بہت سارے منصوبے ناکام ہو گئے، لیکن کچھ نے ٹینک، راڈار، زہریلی گیسیں، سوپر سونک جیٹ، بین البراعظمی میزائل اور جوہری بم تیار کیے۔

اسی طرح اقوام عالم کو آب و ہوا کی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ اپنی امیدوں کو مایوسی کے ساتھ تیکنیکی جوئے میں لگانے کے لیے آمادہ ہوسکتے ہیں۔ انسانیت کو مصنوعی ذہانت اور بائیو انجینئرنگ سے کافی جواز بخش خدشات ہیں، لیکن بحرانوں کے درمیان انسان خطرناک اقدامات کر گزرتے ہیں۔ ان تباہ کن ٹیکنالوجیز کو ریگولیٹ کرنے کے بارے میں جو بھی آپ سوچتے ہیں تو آپ اپنے سے پوچھیں کہ کیا یہ قواعد و ضوابط برقرار رکھنے کا کوئی امکان ہے؟ یہاں تک کہ اگر موسمیاتی تبدیلی عالمی خوراک کی قلت کا سبب بنے اور پوری دنیا کے شہر سیلاب اور لاکھوں مہاجرین کو سرحدوں کے باہر بھیج دیں، تو پھر کیا کرنا ہے؟

نتیجتاً ان تکنیکی رکاوٹوں سے نہ صرف عالمی تناو میں اضافہ ہوگا، بلکہ طاقت کے جوہری توازن کو غیر مستحکم کرنے سے معاشرتی جنگوں کے خطرہ میں اضافہ ممکن ہے۔ 1950 کے بعد سے سپر پاور ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات سے گریز کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جنگ کا مطلب دونوں اطراف کی لازمی تباہی ہے۔ لیکن جیسے ہی نئے قسم کے جارحانہ اور دفاعی ہتھیار ظاہر ہوتے ہیں، ایک بڑھتی ہوئی تکنیکی سپر پاور اپنے دشمنوں کو (اپنے ملک کے متعلق کلی حفاظتی اقدامات کے ساتھ ) تباہ کر سکتی ہے۔

اس کے برعکس، گرتی ہوئی طاقت سے یہ خدشہ ہو سکتا ہے کہ وہ سوچے کہ جلد ہی اس کے روایتی جوہری ہتھیار متروک ہوجائیں گے، اس لیے بہتر ہے کہ ان کے ناکارہ ہونے سے پہلے ان کا استعمال کر لیا جائے۔ روایتی طور پر، ایٹمی محاذ آرائی ایک انتہائی عقلی شطرنج کے کھیل کی مشابہت رکھتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اس وقت کیا ہوگا جب کھلاڑی حریف کے ملک پر قابو پانے کے لیے سائبر حملوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ کیونکہ جب یہ تیسرا گمنام فریق اپنی چال چلتا ہے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی ہے کہ کون کہاں سے چال چل رہا ہے، یا پھر اس وقت کیسا منظر ہوگا جب الفا زیرو ترقی کر کے نیو کلیئر شطرنج میں بدل جائے گا؟

یوں مختلف چیلنجوں کا ایک دوسرے میں ضم ہو جانے کا امکان ہے۔ اس لیے خیر سگالی کے لیے ضروری ہے کہ ایک چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے، دوسرے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہا جائے۔ وہ تمام ممالک جو جنگی مقابلہ جات میں سرگرم ہیں، ان کے لیے تقریباً ناممکن ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے پر متفق ہوں اور وہ تمام ممالک جو ان تکنیکی محاذوں میں اپنے حریفوں سے آگے نکلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، ان کو موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے مشترکہ منصوبے پر اتفاق رائے کرنا بہت مشکل ہوگا۔ جب تک دنیا حریف ممالک میں منقسم رہے گی، تب تک ایک ساتھ ان تینوں مسائل پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگا۔

یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی قوم پرست لہر دنیا کو پھر سے 1939 یا 1914 کی طرف نہیں موڑ سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے عالمی وجود کے خطرات کا ایک سیٹ بنا کر ہر چیز کو تبدیل کر دیا ہے، جسے کوئی بھی قوم خود ہی حل نہیں کر سکتی ہے۔ ایک مشترکہ شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترک دشمن کا مفروضہ بہترین کیٹالسٹ (Catalyst) کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ اور اس وقت انسانیت کے کم از کم تین ایسے دشمن جوہری جنگ، آب و ہوا کی تبدیلی اور تکنیکی خرابی ہیں۔ اگر ان تمام خطرات کے باوجود انسان اپنی مخصوص قومی وفاداری کو ہر چیز سے بڑھ کر استحقاق دینے کا انتخاب کرتے ہیں تو نتائج 1914 اور 1939 کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

یورپی یونین کے آئین میں ایک بہتر راستہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اپنی قومی شناخت اور تاریخ پر فخر کرتے ہوئے یورپ کی عوام اپنی سابقہ تقسیم کی حد کو عبور کرنے کے لیے پر عزم ہے اور ایک مشترکہ منزل کے حصول کے لیے مزید متحد ہونے کو تیار ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام تر قومی تشخص کو ختم کردیں، مقامی روایات کو تبدیل کردیں اور جب الوطنی کے تمام تاثرات کو ختم کردیں۔ درحقیقت براعظمی فوجی اور معاشی حفاظتی سیل فراہم کر کے یورپی یونین نے فلینڈرس، لومبارڈی، کاتالونیا اور اسکاٹ لینڈ جیسے مقامات پر حب الوطنی کو فرو غ دیا۔ آزاد اسکاٹ لینڈ یا کاتالونیا کے قیام کا خیال اس وقت زیادہ پرکشش لگتا ہے، جب آپ کو جرمنی کے حملے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور جب آپ گلوبل وارمنگ اور عالمی کارپوریشنوں کے خلاف مشترکہ یورپی محاز پر اعتماد کر سکتے ہیں۔

اسی لیے یورپی نیشنلسٹ اس خیال کو آسانی سے قبول کر پا رہے ہیں۔ قوم پرستی کے خیال سے متعلق ساری گفتگو میں چند ایک یورپین ہی مارنے یا مرنے کے خیال پر متفق ہیں۔ جب اسکاٹ قوم نے ولیم واٹس اور رابرٹ بروس کے دنوں میں لندن کی گرفت سے الگ ہونے کی کوشش کی تو انہیں ایسا کرنے کے لیے ایک فوج بنانے کی ضرورت پڑی۔ اس کے برعکس 2014 کے سکاٹش ریفرنڈم کے دوران ایک بھی فرد کو ہلاک نہیں کیا گیا اور اگر اگلی بار اسکاٹ لینڈ نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تو اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ بینکوبرن کی جنگ کو بحال کرنا پڑے۔ سپین سے علیحدگی اختیار کرنے کی کاتالان کی کوشش کے نتیجے میں کافی زیادہ تشدد ہوا ہے۔ لیکن یہ بی بار سلونا 1939 یا 1714 میں ہونے والے قتل عام سے بہت کم ہے۔

امید ہے کہ باقی ساری دنیا یورپی مثال سے سیکھ سکتی ہے۔ یہاں تک ایک متحدہ سیارے پر بھی اس نوعیت کی حب الوطنی کے لیے کافی گنجائش موجود ہوگی، جو میری قوم کی انفرادیت کا جشن مناتا ہے اور اس کی طرف میری خصوصی ذمہ داریوں پر زور دیتا ہے۔ پھر بھی اگر ہم نے زندہ رہنا اور پھلنا پھولنا چاہتے ہیں تو انسانیت کے پاس عالمی برادری کی طرف خاطر خواہ ذمہ داریوں کے ساتھ ایسی مقامی وفاداریوں کی تکمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ایک فرد اپنے کنبے، اس کے ہمسائیوں، اپنے پیشے اور اپنی قوم کے ساتھ بیک وقت وفادار رہ سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، تو کیوں نہ اس فہرست میں انسانیت اور سیارہ زمین تو بھی شامل کر لیا جائے؟ بلاشبہ جب آپ کی متعدد وفاداریاں ہوتی ہیں تو تنازعات کبھی کبھی ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ کس نے کہا کہ زندگی آسان ہے؟ اس کا سامنا کریں۔

پچھلی صدیوں میں قومی شناخت جعلی قرار دی گئی، کیونکہ انسانوں کو ایسے مسائل اور مواقع کا سامنا کرنا پڑا جو مقامی قبائل کے دائرہ کار سے کہیں زیادہ دور تھے اور صرف ملک گیر تعاون ہی اس کا حل تھا۔ اکیسویں صدی میں قومیں خود کو پرانے قبائل کی سطح پر ہی پاتی ہیں۔ لیکن اب وہ نظام اس دور کے سب سے اہم چیلنجوں کو سنبھالنے کے لیے درست فریم ورک نہیں ہے۔ ہمیں ایک نئی عالمی شناخت کی ضرورت ہے کیونکہ قومی ادارے بے مثال عالمی پیش گوئیوں کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔

اب ہمارے پاس عالمی ماحولیات، عالمی معیشت اور عالمی سائنس ہے۔ لیکن ہم ابھی بھی صرف قومی سیاست کے ساتھ پھنسے ہوتے ہیں۔ یہ غلط مماثلت سیاسی نظام کو ہمارے بنیادی مسائل کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے سے روکتی ہے۔ موثر سیاست کے لیے ہمیں ماحولیات، معیشت اور سائنس کو عالمگیر بنانا چاہیے یا پھر ہمیں اپنی سیاست کو عالمگیر بنانا ہو گا۔ چونکہ ماحولیات اور سائنس کو غیر عالمگیر بنانا ناممکن ہے اور چونکہ معیشت کو عالمگیر نہ بنانا شاید ممنوع ہو اس لیے واحد حل سیاست کو عالمگیر بنا نا ہے۔ اس کا مطلب عالمی حکومت کا قیام نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک مشکوک اور غیر حقیقی سوچ ہے۔ بلکہ سیاست کو عالمگیر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف ممالک بلکہ شہروں کے اندر سیاسی حرکیات کو عالمی مسائل اور مفادات کو کافی زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

اس پس منظر میں قوم پرست جذبات کی مدد کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ شاید تب ہم دنیا کو متحد کرنے میں انسانیت کی آفاقی مذہبی روایات پر بھروسا کر سکتے ہیں؟ سینکڑوں سال پہلے عیسائیت اور اسلام جیسے مذاہب مقامی سطح کی بجائے عالمی سطح پر سوچا کرتے تھے اور ہمیشہ سیاسی جدوجہد کی بجائے زندگی کے بڑے سوالوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن کیا روایتی مذاہب کا ابھی بھی کوئی جواز ہے؟ کیا وہ دنیا کو اب بھی تشکیل دینے کی طاقت کو برقرار رکھتے ہیں یا پھر وہ ہمیں ان جدید ریاستوں، معیشتوں اور ٹیکنالوجی کے درمیان ماضی کے یادوں کے سہارے ادھر ادھر اچھالتے پھریں گے۔

اس سیریز کے دیگر حصےتکنیکی تباہی: اکیسویں صدی کے اکیس سبقکیا مذہب اب انسانیت کے کام آ سکے گا؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments