مونچھیں ہوں تو نٹور لال جیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین نے کسی ملک کے سربراہ کے افعال کے حوالے سے ذہن میں کچھ پختہ، کچھ خام تصورات ضرور تشکیل دے رکھے ہوں گے۔ عام خیال یہ ہے کہ اس زمانے میں جب سربراہ مملکت کو خلیفہ وقت کہہ کر پکارا جاتا تھا، اس زمانے میں حاکم وقت کا تصور یہ تھا کہ وہ رات کے وقت بھیس بدل کر گلیوں میں گشت کرتا، چوری چھپے عوام میں گھل مل جاتا، ان کے دکھ درد سے واقفیت حاصل کرتا اور علی الصبح عدالت سجاتا ہوگا، جہاں قاضی شہر بھی حاضر ہوتا ہو گا، سائل زنجیر عدل ہلا کر دربار عالیہ میں دندناتے ہوئے داخل ہوتا ہو گا، بادشاہ وقت بے کس فریادی کی فریاد پر کان دھرتا، وزیر باتدبیر کے مشورے سے فیصلہ کرتا اور شہر بھر میں عدل کی دہائی پڑ جاتی ہو گی۔

عموماً ایسی کہانیوں کے انجام میں قاضی شہر کی گوشمالی ہوتی ہے اور فریادی کو بادشاہ کی جانب سے خلعت فاخرہ اور شاہی حکیم کی جانب سے خمیرہ گاؤ زبان مع مروارید عطا کیا جاتا ہے۔ لیکن اب وہ وقت بیت گیا۔ اب جماعت اسلامی کے سوا کسی کو خلیفہ وقت کی خواہش نہیں اب وزرائے اعظم کا دور ہے، اب جدید خطوط پر حکومت ہوتی ہے۔ چند امریکی فلمیں دیکھنے کے بعد اب سربراہ مملکت کے افعال کے بارے میں ہمارا تصور بھی بدل گیا۔

اب یوں لگتا ہے کہ سربراہ مملکت کو ہر وقت کوئی نہ کوئی جنگ درپیش ہوتی ہو گی، وہ ہر وقت کنٹرول روم میں ہی براجمان رہتا ہو گا، جہاں دنیا بھر کے نقشے ایک بڑی سکرین پر گردش کرتے ہوں گے، مسائل پیدا کرنے والے ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا جاتا ہو گا، اس کارروائی سے فارغ ہو معیشت کے بین الاقوامی سمٹ سے خطاب کرتا ہو گا، کبھی سیاسی جماعتوں سے الجھتا ہو گا، کبھی دہشت گردوں کو سبق سکھاتا ہو گا، کبھی دساور کے سفیروں سے ملتا ہو گا، کبھی غربت کے عفریت سے لڑتا ہو گا، کہیں کسی وبا کے پھیلنے کے خوف سے نبرد آزما ہوتا ہو گا، کبھی ملک میں مخالف گروہوں کے تصادم کے نتیجے میں معصوم شہریوں سے ہونے والی زیادتی پر مناسب اقدامات کے بعد ان سے معافی کا طلب گار ہوتا ہو گا، کہیں اقلیتی عوام کی دل داری کے لیے ان کی ثقافتی سرگرمیوں میں شامل ہوتا ہوگا، کبھی کاروباری حلقوں کو سرمایہ کاری پر راغب کرتا ہو گا گویا اس کو سر کھجانے کی فرصت نہ ہوتی ہو گی، ہر وقت ملک و ملت کی فکر میں غرق رہتا ہو گا۔

اللہ بھلا کرے اپنے خان صاحب کا جنھوں نے حکومت میں آ کر سربراہ مملکت کے ضمن میں تمام تصورات مسمار کر دیے اور ایک ایسے سربراہ مملکت کا تصور دیا جس کے سامنے ہر مشکل ہیچ ہے، ہر کٹھن مرحلہ آسان ہے

وہی کام جو دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا تھا، اب نہایت سہل معلوم ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خان صاحب کتنی سہولت سے ملک کو چلا رہے ہیں، ہر دشواری کا حل ان کے پاس موجود ہے۔ اگر کوئی خان صاحب سے بڑھتی قیمتوں کا ذکر کرے تو خان صاحب کو معلوم ہے کہ اس کا ذمہ دار اس کرپشن کو ٹھہرانا ہے جو گزشتہ ادوار میں ہوئی تھی، کوئی ڈالر کی اونچی اڑان کا قصہ لے بیٹھے تو اس کا دوش پچھلی حکومتوں کو دے کر اپنا ذمہ توش پوش کا نعرہ لگا دینا ہے، جب کوئی پٹرول، چینی اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کی طرف اشارہ کرے تو آرام سے بتا دینا ہے کہ ان کی قیمتیں پہلے والی حکومتوں نے کرپشن کر کے کنٹرول کی ہوئی تھیں جن کو اب بحال کیا گیا ہے۔ اب صالح اور ایمان داروں کی حکومت آئی ہے اب یہ تو ہو گا۔ کوئی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تباہی کا ذکر کرے تو خان صاحب کو وہی جواب دہرانا ہے جو نسخہ کیمیا کی طرح ان کے پاس موجود ہے۔

خان صاحب ایسے سربراہ مملکت ہیں جن کو زیادہ کام وام نہیں کرنا پڑتا۔ بس ٹیپ کے ریکارڈ کے طرح وقتاً ًفوقتاً ایک ہی بیان دینا ہے کہ ماضی کی حکومتیں، گزشتہ دور، کرپٹ سیاست دان وغیرہ وغیرہ۔ موقع کی مناسبت سے اس میں این آر او نہ دینے کا نعرہ اور گالم گلوچ بھی شامل کر دی جاتی ہے۔ جتنا مسالا تیز رکھنے کا حکم ملتا ہے خان صاحب ویسی ہی ہنڈیا چڑھا دیتے ہیں۔

اہم کاموں میں البتہ ڈرائیونگ شامل ہے، اس کے مواقع بھی اب مفقود ہوتے جا رہے ہیں ورنہ خان صاحب نے یہ خدمات نہایت جانفشانی سے ادا کی ہیں۔ اگر چہ معیشت کی گاڑی کو ریورس گیئر لگ گیا ہے لیکن کسی خوشنودی کی خاطر ڈرائیونگ کرنے میں اب وہ طاق ہو گئے ہیں۔

ممالک کو عموماً زرمبادلہ کے حصول جیسے فروعی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ خان صاحب نے اس کا بھی سہل فارمولا ایجاد کر لیا ہے کہ کسی بھی ملک سے مدد مانگ کر دیکھ لو، اس میں کسی سائنس اور حکمت عملی کو مداخلت کی اجازت نہیں، نہ ہی رنگ، نسل، دوستی، جغرافیائی حالات یا باہمی اشتراکی عوامل پر نظر ڈالنے کے وہ قائل ہیں۔ ادھر سے بات نہ بنے تو سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے ہاتھ پھیلا لیتے ہیں۔ ہر سانحہ ہاتھ پھیلانے کا زریں موقع ثابت ہوتا ہے۔

دفتر جانے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں خان صاحب کے پاس چنگچی سے بھی ارزاں ہیلی کاپٹر دستیاب ہے۔ لباس کا بھی مسئلہ کوئی اہم نہیں۔ کبھی پاجامے میں اجلاس بلا لیا کبھی رات کے ٹراؤزر میں ہی میٹنگ کر لی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خان صاحب کی زیادہ تر میٹنگ سرکاری ترجمانوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خود سوچیئے کوئی کیچڑ میں قدم رکھنے سے پہلے بھی لباس تبدیل کرتا ہے؟

خان صاحب کی نوکری کی سب سے اہم خوبی یہ ہے اس میں انھیں نکالے جانے کا کوئی خدشہ نہیں، وہ جانتے ہیں کہ چاہے وہ جاپان کو جرمنی سے ملا دیں، ایران جا کر دہشت گردی کا اعتراف کر لیں، سال کے بارہ موسم ایجاد کر لیں، روز قیامت کو چاہے روز قیادت پڑھ دیں، انھیں نوکری سے کوئی نہیں نکال سکتا، ان کی نوکری پکی۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے رخصت ہو جانے پیش گوئی ہوئی تو خان صاحب کو اطمینان ہوتا ہے کہ یہ ان کا مسئلہ تو ہے ہی نہیں، ان کے لانے والوں کا مسئلہ ہے اس لیے پی ڈی ایم کے جلسے، لانگ مارچ کی دھمکیاں، اپوزیشن کا اتحاد، عوام کا غیض و غضب خان صاحب کے سامنے ریت کی دیوار ہے، وہ جانتے ہیں کہ اس کا حل وہی نکال لائیں گے جنھوں نے اس حکومت کا سیٹ لگا کر خان صاحب کو ہیرو کی مسند پر لا بٹھایا ہے۔ اس لیے خان صاحب کبھی بھی ان باتوں سے پریشان نہیں ہوتے۔ انھیں علم ہے ان کا ”کلا“ مضبوط ہے، ان کی پہنچ بہت اوپر تک ہے۔

امیتابھ بچن کی فلم شرابی کا مشہور ڈائیلاگ ہے ”مونچھیں ہوں تو نٹور لال جیسی۔“ پاکستان میں جو فلم چل رہی اس کا ڈائیلاگ ہونا چاہیے ”نوکری ہو تو خان صاحب جیسی۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 216 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *