قبائلی لشکر کے کشمیر میں داخلے کے عوامل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کا ایک طبقہ ہمیشہ سے یہ الزام لگاتا آ رہا ہے کہ اگر پاکستان قبائل کے ذریعے کشمیر میں جارحیت نہ کرتا تو مسئلہ کشمیر پیدا نہ ہوتا۔ یہ ایک ایسا نقطہ ہے جس کی بنیاد پر کشمیر کی نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر گھولا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کرنے کے باوجود قبائل کو لڑنے کے لیے بھیج کر معاہدے کی خلاف ورزی اور جارحیت کی۔ اس بے بنیاد الزام کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر پاکستان جارحیت نہ کرتا تو مہاراجہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کرنے پر مجبور نہ ہوتا اور مسئلہ کشمیر پیدا نہ ہوتا۔

آئیں وہ عوامل جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے قبائل کشمیر میں داخل ہوئے۔

کہانی کا آغاز کابینہ وفد کے دورہ کشمیر اپریل 1946 کے بعد ہوتا ہے جب مہاراجہ نے محسوس کیا کہ کشمیر اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا تو اس نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے ہاتھ، پاؤں مارنے شروع کر دیے۔ ایک حکم کے ذریعے مسلمانوں سے اسلحہ جمع شروع کر دیا اس کے بعد 1947 کے اوائل سے ہی مظفرآباد کو ڈوگرہ حکومت، اکالی دل اور آر ایس ایس اپنا مرکز بنانے لگے۔ جنوری 1947 میں آر ایس ایس کے ماسٹر تارا سنگھ اور اکالی دل کے ڈاکٹر ہرنام سنگھ نے مظفرآباد میں سنگھ سبھا کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب کیا جس میں انھوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کیں۔

پھر 11 اگست 1947 کو پاکستان سے الحاق کے حامی سمجھے جانے والے وزیراعظم رام چندرا کاک کو مہاراجہ نے برطرف کر کے گرفتار کروا لیا۔

15 اگست 1947 کو سٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کرنے کے بعد مہاراجہ نے معاملات کو کیسے جوں کا توں رکھا یہ جاننا بھی بڑا دلچسپ ہے۔ یہ حکم تو پہلے ہی جاری کیا جا چکا تھا کہ جتنے مسلمان ہیں وہ اپنا اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروا دیں مگر اب کی بار ایک نیا حکم نامہ جاری ہوا کہ جو مسلمان فوج میں ہیں وہ بھی اپنا اسلحہ جمع کروا دیں انھیں بھی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی دوران ناصرف آر ایس ایس کے غنڈے جموں میں داخل ہو گئے بلکہ اکالی دل کے سکھوں کے جتھے بھی پہنچ گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپورتھلہ کی ریاستوں میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ ان تینوں ریاستوں کے حکمرانوں نے اگست میں کشمیر آ کر مہاراجہ ہری سنگھ سے ملاقات کی۔ قتل عام کے ذریعے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش اسی ملاقات میں تیار ہوئی۔
ہند کے ایک آزمودہ افسر لارڈ برڈ وڈ لکھتے ہیں۔

”اگست کے آخر تک سات ہزار رائفلیں جو جموں کے قلعہ میں ایمونیشن کے ساتھ موجود تھیں“ ۔ مقامی ہندووں میں تقسیم کر دی گئی۔

سی بی ڈیوک علاقے کی صورتحال جاننے کے لیے کشمیر گیا اس نے لکھا۔

” دریا چناب کے قریب تقریباً بیس دیہات کو جلا کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا اور ان میں مساجد کی راکھ بتا رہی تھی کہ یہ مسلمان تھے جو ظلم کا شکار ہوئے تھے“ ۔

پاکستان سے ملحقہ سرحد بند کر دی گئی اور قتل عام کا آغاز سانبہ، کٹھوعہ اور موضع دیوا سے کیا گیا۔ طریقہ واردات ہر جگہ ایک ہی جیسا تھا جس سے اس کی مرکزیت کا پتہ چلتا ہے۔ قتل عام کا آغاز موضع دیوا سے مہاراجہ نے خود کیا۔ ڈاکٹر عبدالکریم ملک اپنی یاداشت میں بیان کرتے ہیں۔

” دیوا بٹالہ، جہاں ڈوگرے اکثریت میں تھے مہاراجہ ہری سنگھ نے چند مسلمانوں کو گولی مار کر شہید کر کے قتل عام کی مہم کا آغاز کیا“ ۔

چودہ اکتوبر کو آر ایس ایس اور اکالی دل کے جتھوں نے عمرے چک، اتما پورا اور چپورہ کے دیہات پر حملہ کیا جو تھانہ بشاہ ضلع جموں کی حدوں میں واقع ہے۔

یہ تو صرف ابتدا تھی اصل کھیل مہر چند مہاجن کے پندرہ اکتوبر 1947 میں نہرو کی سفارش پر وزیراعظم بننے کے بعد شروع ہوا۔ یاد رہے کہ اسے کانگریس کی طرف سے پنجاب باؤنڈری کمیشن کا ممبر نامزد کیا گیا تھا۔

مہاراجہ نے سٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کے بعد صرف آر ایس ایس اور اکالی دل کے جتھوں کے ذریعے مسلمانوں کا قتل عام نہیں کیا بلکہ معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاست پٹیالہ سے فوجی دستے منگوا لیے تاکہ وسیع پیمانے پر مسلمان آبادیوں کا قتل عام کیا جائے۔ ان باتوں کا اعتراف میجر جنرل ڈی کے پلٹ کی کتاب ”ہسٹری آف جموں کشمیر رائفلز“ ، بھارتی حکومت کے وائٹ پیپر، لفٹیننٹ جنرل ایل پی سین کی کتاب ”کشمیر کنفرنٹیشن“ اور رابرٹ ورسنگ کی کتاب ”انڈیا پاکستان اینڈ دی کشمیر ڈسپیوٹ“ میں بھی موجود ہے۔

مسلمانوں کا یہ قتل عام کتنے بڑے پیمانے پر ہوا اس کی ہلکی سی جھلک ٹائمز آف لندن کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتی ہے جس کے مطابق 2 لاکھ 37 ہزار لوگ مارے گئے۔ اس بڑے پیمانے کے قتل عام کا ذکر آئین سٹیفن کی کتاب ”ہارنڈ مون“ ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی سنیڈن کرسٹوفر کی کتاب ”انڈر سٹینڈنگ کشمیر اینڈ کشمیریز“ میں بھی ملتا ہے۔ اس قتل عام کا اعتراف ’دی ہندو‘ کے رپورٹر لو پوری نے بھی اپنی کتاب ”اکراس دی لائن آف کنٹرول“ میں کیا ہے ایسی ہی گواہی ”کشمیر لائف“ میں وید بیسن نے بھی دی ہے۔

کچھ ایسا ہی تاثر ”آتش چنار میں شیخ عبداللہ نے یوں دیا ہے“ یہ انسانیت کے خلاف ظلم تھا اور اس کی سربراہی مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کا وزیراعظم مہاجن کر رہے تھے ”۔ جموں کے قتل عام پر 25 دسمبر 1947 کو گاندھی نے کہا کہ“ جموں کے ہندوؤں، سکھوں اور وہ جو باہر سے آئے تھے (آر ایس ایس اور اکالی دل وغیرہ) نے وہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا ”۔

mirpur massacre

مہاراجہ ہری سنگھ کی ان سازشوں کو دیکھتے ہوئے پونچھ کے لوگوں نے جہاں 70 ہزار سابق فوجی رہائش پذیر تھے جو جنگ عظیم میں حصہ لے چکے تھے مزاحمت کا آغاز کر دیا۔ اس مزاحمت کے بارے میں پنڈت پریم ناتھ بزاز اپنے پمفلٹ ”دی ٹرتھ اباوٹ کشمیر“ میں لکھتے ہیں ”پونچھ میں جہاں ہزاروں تربیت یافتہ سابق فوجی رہتے تھے نے مہاراجہ اور اس کی انتظامیہ کے خلاف بغاوت کا آغاز کر دیا۔ یہ بغاوت جلد ہی میرپور اور دیگر مضافاتی علاقوں تک پھیل گئی۔

مہاراجہ نے اس بات کا احساس کرنے کی بجائے کانگریسی قائدین اور اپنے نئے مشیران کے کہنے پر فوج اس بغاوت کو کچلنے کے لیے بھیج دی۔ مہاراجہ کی فوج نے پورے پورے گاؤں جلا دیے اور معصوم لوگوں کا قتل عام کیا سری نگر تک اطلاعات پہنچی تھیں لیکن شائع نہیں ہونے دی گئیں یہ سب کچھ ستمبر 1947 میں قبائلیوں کے ریاست میں داخل ہونے سے بہت پہلے ہوا ”۔

مظفرآباد میں جب آر ایس ایس اور اکالی دل کی دھمکیوں کے بعد قتل عام کا خطرہ پیدا ہوا تو قصبے کے کچھ مسلمان جن میں سید محمد امین، غلام رسول، حاجی لسہ جومیر، سردار خان، عبدالرحمان اور رحمت اللہ وغیرہ شامل تھے صوبہ کے پی کے جا کر خان عبد القیوم خان جو کشمیری تھے اور کے پی کے میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا ان سے مدد حاصل کرنے کے لیے ملے اسی دوران پاکستان سے ملحقہ کشمیر کے علاقوں سے لوگ ہجرت کر کے پاکستان میں پہنچنے لگے جن کی درد ناک داستانوں، رشتہ داریوں اور ذاتی تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا کیونکہ ان کے روابط ان علاقوں کے ساتھ عرصہ دراز سے موجود تھے۔

انگریز مصنف ہورس الیگزینڈر اپنی کتاب کشمیر میں لکھتا ہے ”ایک مسلمان جیسے ڈوگرہ فوج نے قتل کیا کی میت کو کندھوں پر اٹھا کر پشاور میں پریڈ کی گئی اور یہ لوگ عوام سے کہتے تھے کہ کشمیر میں حکمرانوں کے خلاف جہاد میں ان کا ساتھ دیا جائے اس کے کچھ دنوں بعد ہی قبائلی لشکر جہلم ویلی کی طرف سے کشمیر میں داخل ہوا“

جموں اور سری نگر میں 17 اکتوبر کو پٹیالہ کے فوجی دستے پہنچ چکے تھے۔ پاکستان سے قبائلی 22 اکتوبر کو کشمیر میں داخل ہوئے یعنی پانچ دن بعد۔ قبائلی مہاراجہ ہری سنگھ کی ان چالوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے ردعمل میں کشمیر میں گھسے یہ ایک فطری اور منطقی رد عمل تھا۔ یہ عمل اضطراری طور پر بغیر کسی منصوبہ بندی اور تیاری کے کیا گیا۔ جو کہ سیلف ڈیفنس کی ایک مثالی صورتحال تھی۔

یہ تھے وہ حالات اور عوامل جن کی وجہ سے قبائلی کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی مدد کے لیے کشمیر میں داخل ہوئے اگر وہ مہاراجہ کے خلاف کشمیری مسلمانوں کی مدد نہ کرتے تو مہاراجہ اور اس کے حواری یقیناً جموں کی طرح پورے کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے اور ان کو اقلیت میں بدل کر مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عرفان اکرم کشمیری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply