بھٹو شہید : پاکستانی سیاست کا ایک لازوال کردار!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہید ذوالفقار علی بھٹو فقط ایک نام نہیں پر ایک صدا، ایک پکار، ایک التجا ہے، ایک غم، ایک درد اور ایک آنسو ہے، جو آنکھوں کی پلکوں میں اٹک سا گیا ہے، جس کا جب بھی نام سامنے آتا ہے تو اندر میں بے بسی اور بے اعتمادی کا گہرا احساس ابھر آتا ہے، اور وہ بھاری سوال بھی ذہن میں امڈ آتا ہے کہ کیا کسی فرد کے ساتھ اتنا ظلم و جبر بھی ہو سکتا ہے؟ اور اس کا سلسلہ اس حد تک بھی جا سکتا ہے کہ اس کے بچوں کو بھی ایک ایک کر کے قتل کیا جاتا ہے، جس کا کوئی ازالہ بھی نہیں ہوتا، شہید ذوالفقار علی بھٹو غلط ہوگا اس نے کئی غلطیاں کی ہوں گی پر اس کی وہ کون سی غلطی تھی جس کے نتیجے میں اسے آدھی رات کو پھانسی کے تختے پر لٹکا یا گیا؟

بھٹو کی شہادت اس ملک کے عدالتی نظام پر ایک کالی ضرب کے مترادف ہے، جو شخص اس ملک کے آئینی نظام کا امین ہو، جس شخص کی انتھک کوششوں اور کاوشوں سے اس ملک میں ایک آئینی نظام رائج ہوا ہو اسے یوں بیدردی سے رات کے پچھلے پھر پھانسی کے پھندے پر لٹکا یا جاتا ہے، جس کا تاحال کوئی ازالہ نہیں ہوا، جس شخص نے اس ملک میں انصاف کی بالادستی کی خاطر سولی پر لٹکنے کو ترجیح دی اس شخص کو 42 سال گزرنے کے باوجود کوئی انصاف نہیں ملا۔

4 اپریل 1979 کو بھٹو صاحب کو گڑھی خدا بخش میں دفن کر دیا گیا، 6 اپریل کو ان کی قبر سے پہرہ ختم ہوا تو پاکستان پریپلزپارٹی کے قائدین فاتحہ خوانی کے لیے گئے، ان میں بھٹو کے وکیل یحییٰ بختیار بھی شامل تھے، جب گاؤں پہنچے تو لوگوں نے انہیں گہیرے میں لے لیا اور پوچھنے لگے آپ تو ہمارے لیڈر کے بہت قریب تھے، آخری وقت پر انہوں نے کوئی پیغام دیا یا کچھ کہا؟ یہ سن کر یحییٰ بختیار کی اآنکھوں میں آنسوں آ گئے اور انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب نے آخری ملاقات میں مجھ سے کہا کہ ”بزدل قوموں کے بہادر لیڈروں کا یہی انجام ہوتا ہے“ ۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا چمکتا ستارہ ہے جس کی چمک صدیوں تک رہے گی، کسی نے خوب ہی لکھا ہے کہ بھٹو اتنا گونجے گا کہ صدیوں تک سنائے دے گا، یوں تو قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عوام سے بچھڑے 42 سال گزر چکے ہیں، پر آج بھی وہ پاکستانی سیاست کا محور بنے ہوئے ہیں، آج بھی ان کا نام پاکستانی سیاست میں چھایا ہوا ہے، ان کے نعرے صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ہرغریب، مسکین، کسان و مزدور کی عکاسی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھٹو کے مخالف آج کہیں دکھائی نہیں دیتے اور وہ آج بھی عوام کی دلوں میں راج کر رہے ہیں، لاکھ مظالم ڈھانے اور جیئے بھٹو کا نعرہ لگانے والوں پر کوڑو ں کی بارش کرنے والاآمر ضیاءتھا مگر بھٹو آج بھی ہے۔

”ؓبھٹو زندہ ہے“ کے نعرے پر طنز و اعتراض کرنے والے حضرات شاید بھٹو کے لازوال کام سے بے خبر ہیں، اپنے چھوٹے ذہن پر زور دے کر بھٹو کا پاکستان کی عوام پر کئیے گئے کاموں پر نظر دوڑاؤں تو پاکستان کی تباہ حال معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا بھٹو ہی تھا، پاکستان کے عوام کو شناختی کارڈ کے ذریعے شناخت دینے والا بھی بھٹو شہید تھا، پاکستان اسٹیل ملز، پورٹ قاسم جیسے لازوال اداروں کی بنیاد رکھنے والا بھی بھٹو ہی تھا، نہ صرف یہ پر پاکستان کے 90 ہزار فوجی قیدیوں کو آزاد کروانے والا بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے گئے تاریخی و انقلابی اقدامات کے باعث ہی آج بھٹو زندہ ہے۔ اور یوں بھی شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، اور شہید جسمانی طور پر نہ صحیح پر روحانی طور پرزندہ رہتے ہیں۔

فیض احمد فیض نے شاید یہ الفاظ بھٹو شہید کے لیے ہی لکھے تھے
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply