حکومت کی کشتی ڈوب رہی ہے، اپوزیشن تدبر سے آگے بڑھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان جمہوری تحریک کا حصہ رہنے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر جمہوریت کی جد و جہد جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں پی ڈی ایم میں شامل آٹھ پارٹیوں پر مشتمل ’اسٹئیرنگ‘ کمیٹی نے سینیٹ میں یک طرفہ طور سے یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے اور پی ڈی ایم کے متفقہ فیصلہ کے برعکس اقدام کرنے پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں باہمی اختلاف بڑھانے سے ملک کے سیاسی انتشار میں اضافہ ہوگا۔ اپوزیشن کو اس وقت قومی سیاست میں ذمہ دارانہ قیادت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

حال ہی میں پہلے استعفوں کے سوال پر اختلاف اور آصف زرداری کی طرف سے نواز شریف پر ذاتی حملوں کے متعلق معلومات عام کرنے کے بعد پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا ’عہدہ‘ حاصل کرنے کے لئے پی ڈی ایم کے فیصلہ کا احترام نہیں کیا۔ اس حوالے سے متعلقہ کمیٹی میں اپنے ہی نمائندے راجہ پرویز اشرف کے وعدے کو یاد رکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اسے سیاسی ہار جیت کا مسئلہ بنا کر کسی بھی قیمت پر یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوانے پر ساری سیاسی صلاحیت صرف کی گئی۔ اس بارے میں اب پیپلز پارٹی ہی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ’ان کے خیال میں ان کی پارٹی نے سرکاری پارٹی کے ووٹوں کی مدد سے عہدہ لے کر غلط کیا۔ اس سے ان کی پارٹی کی پوزیشن خراب ہوئی ہے‘ ۔ بلاول اس کے باوجود یہ اصرار کرتے ہیں کہ سینیٹ میں بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے یہ ان کا حق تھا۔ ان کا یہ کہنا بھی ہے کہ پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لئے بغیر استعفوں کو لانگ مارچ سے منسلک کرنے کا فیصلہ یک طرفہ طور سے کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اسے کیسے قبول کر سکتی ہے۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکمت عملی اور سیاسی گرمجوشی سے اختلاف کے باوجود بلاول بھٹو زرداری کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ کسی بھی سیاسی اتحاد میں تمام فیصلے متفقہ طور سے ہونے چاہئیں۔ خاص طور سے پاکستان کے جس سیاسی ماحول میں پی ڈی ایم قائم کی گئی اور ملک میں جمہوری حکومت کی بحالی کے حوالے سے جو عظیم ذمہ داری اس نے قبول کی ہے، اس کی روشنی میں نہ صرف اتحاد میں شامل سب پارٹیوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے بلکہ فیصلے بھی اتفاق رائے سے ہی ہونے چاہئیں۔ اگر کسی معاملہ پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکے تو بھی قیادت کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ جذبات کی بجائے ہوش سے کام لے اور اختلاف کرنے والی پارٹی کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ معاملہ اتحاد میں کسی دراڑ کا سبب نہیں بنے گا۔ اسمبلیوں سے استعفوں کے سوال پر یہی غلطی سرزد ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی شروع سے استعفوں کے خلاف تھی جبکہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کا خیال تھا کہ سب اپوزیشن پارٹیاں مل کر استعفے دیں تو حکومت نئے انتخاب کروانے پر مجبور ہو جائے گی۔ یہ قیاس آرائی اب بے وقت کی راگنی ہوگی کہ یہ اقدام کس حد تک موثر ہو سکتا تھا لیکن نواز شریف کو یہ باور کرنے کی ضرورت تھی کہ فوری طور سے نئے انتخاب کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو تو سیاسی فائدے کی امید ہو سکتی ہے کیوں کہ اسے یقین ہے کہ سیاسی دباؤ میں اسمبلیاں توڑنے کے بعد ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف کو دھاندلی سے جتوانا ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن پیپلز پارٹی کو اس میں اپنا سیاسی خسارہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے سندھ میں واضح اکثریت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے اور پنجاب کی حد تک بھی پیپلز پارٹی فوری طور سے قابل ذکر کارکردگی دکھانے کے قابل نہیں ہے۔ ایسے میں ایک نسبتاً چھوٹی پارٹی کو اکثریت کے ’دباؤ‘ میں اپنے سیاسی مفاد کے برعکس فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کرنے سے مسائل ہی پیدا ہوسکتے تھے۔

استعفوں کا معاملہ تو ویسے بھی کھٹائی میں پڑ چکا ہے۔ اب پی ڈی ایم کے لیڈروں کو اس اتحاد کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے اس اعتراض کا ابھی تک جواب سامنے نہیں آ سکا کہ استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ نتھی کرنے کا فیصلہ کیوں اور کیسے کیا گیا؟ اور اسے کیوں کر اکثریت کا فیصلہ کہہ کر پیپلز پارٹی پر تھوپنے کی کوشش کی گئی۔ قیاس یہی ہے کہ نواز شریف نے ضمنی انتخاب اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے بارے میں آصف زرداری کی تجویز ماننے کے بعد اور یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بننے میں مدد فراہم کر کے یہ قیاس کر لیا تھا کہ اس کے بعد زرداری ہر صورت استعفوں پر رضامند ہوجائیں گے۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی یہ سوچ غیر سیاسی اور اتحاد کی روح سے متصادم تھی۔ انہیں اپنی اس غلطی کا اعتراف کرلینا چاہیے تاکہ پی ڈی ایم کو کسی نئے لائحہ عمل کے ذریعے موثر بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ استعفوں کے سوال پر تلخی پیدا ہونے کے بعد پیپلز پارٹی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دینے سے منحرف ہو گئی اور یک طرفہ طور سے یوسف رضا گیلانی کی اپوزیشن بنچوں میں اکثریت ثابت کر کے پیپلز پارٹی نے یہ عہدہ حاصل کر لیا۔ اور جیسا کہ پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ اپوزیشن بنچوں پر اکثریت ثابت کرنے کے لئے حکومت نواز آزاد ارکان کی حمایت حاصل کی گئی۔ پیپلز پارٹی کو اس طریقہ پر ضرور پچھتانا چاہیے اور اگر بلاول بھٹو زرداری واقعی پی ڈی ایم کو فعال رکھنا چاہتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تلخیوں میں مزید اضافہ کی خواہش نہیں رکھتے تو انہیں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان تک یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا لیکن اب اسے تسلیم کر لیا جائے تاکہ تعاون کا نیا ماحول پیدا کیا جاسکے۔

اس تلخ اور کسی حد تک پیچیدہ پس منظر کے باوجود پی ڈی ایم کے اتحاد کے لئے بلاول بھٹو زرداری کی خواہش اور تجویز جائز، بروقت اور درست ہے۔ پی ڈی ایم کے قائدین کو یہ کہہ کر اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی ’قابل اعتبار‘ نہیں ہے۔ کیوں کہ ایک دوسرے کی نیتوں کے بارے میں سوال اٹھا کر تعاون کا راستہ ہموار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے ’اسٹئیرنگ کمیٹی‘ کے اجلاس میں گو کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس اجلاس میں ان دونوں پارٹیوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ یہ طریقہ کسی بھی جمہوری اصول اور اتحاد کی روح کے منافی طرز عمل ہے۔ اس لئے اس فیصلہ کے مطابق نام نہاد شو کاز نوٹس جاری کرنے اور جواب طلبی پر اصرار کی بجائے، کوشش کی جائے کہ اختلافات کو سمجھا جائے اور ان امور پر اتفاق پیدا کیا جائے جن پر سب پارٹیاں مل کر ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہی پی ڈی ایم کی جد و جہد اور ملک میں جمہوری توازن کی کوششوں کے لئے مناسب طریقہ کار ہوگا۔

پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو یہ معاملہ دوسرے درجے کے لیڈروں کے حوالے کرنے کی بجائے براہ راست رابطوں کے ذریعے مواصلت مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مل کر چلنے کا کوئی راستہ کھوجا جاسکے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے اہداف اور طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ جب کوئی سیاسی اتحاد قائم کیا جاتا ہے تو ان اختلافات کو مان کر صرف ان امور پر ساتھ چلنے کا فیصلہ ہوتا ہے جن پر اتفاق رائے موجود ہو۔ پی ڈی ایم کے قیام کی بنیاد بھی یہی تھی۔ معلوم سیاسی پوزیشن کی بنیاد پر پیدا ہونے والے تنازعہ کو طول دینے سے کسی پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

پی ڈی ایم کی 8 پارٹیوں کا یہ قیاس کرنا غلط ہوگا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی پاکستان جمہوری تحریک اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کا یہ تصور کرلینا کہ اس کے بغیر پی ڈی ایم اپنی موت آپ مر جائے گی بھی درست رویہ نہیں ہوگا۔ ایسی سوچ دراصل دوسرے فریق کو دھمکی دینے کا طریقہ ہی ہوتا ہے۔ اسے ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی ایم ملک میں آئینی جمہوریت کی بحالی کے لئے قائم کیا جانے والا اتحاد ہے۔ سب سیاسی لیڈروں کے لئے یہ ایک نکتہ مل کر ساتھ چلنے کے لئے کافی ہونا چاہیے کہ اس معاملہ پر سب پارٹیاں متفق ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بھارت کے ساتھ دوستی یا دشمنی کے درمیان حد فاصل توڑنے کی جو تازہ کوشش کی ہے، اس سے بھی یہ واضح ہوا ہے کہ عمران خان کی سیاسی حیثیت اور امور حکومت پر ان کی گرفت اس قدر مستحکم نہیں ہے جیسا کہ وہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت سے تجارت شروع کرنے کا اعلان کرنے کے بعد، اسے کابینہ میں مسترد کرنے کا فیصلہ طاقت کے ایوانوں کی پائے جانے والے وسیع اور گہرے اختلاف کا پتہ دیتا ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن پارٹیوں کو حکمت عملی یا طریقہ کار کی بحث میں ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے حکومت کی کمزوریوں پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

ملک میں جب پارلیمانی جمہوریت کو کامیاب بنانے کی بات کی جاتی ہے تو پھر اپوزیشن پارٹیوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ انتہائی نازک اور اہم معاملات پر حکومت کی دو عملی اور باہمی انتشار کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئے اور اس پر قوم کی رہنمائی کا کردار ادا کرے۔ اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ حکومت کی کشتی باہمی اختلاف اور ناقص فیصلہ سازی کی وجہ سے بری طرح ڈول رہی ہے، یہ اپوزیشن کے لئے آپس میں لڑنے کی بجائے تدبر سے حکومت کو زک پہنچانے کا وقت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1812 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply