وہ لڑکی ہے اس لیے نہیں کر سکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”وہ لڑکی ہے اس لیے نہیں کر سکتی“ کیا یہ جملہ ہمیں عموماً سننے کو ملتا ہے؟ چاہے یہ کوئی جاب ہو، کھیل ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جو ہمارے لوگوں کی نظر میں لڑکیاں ہیں، نہیں کر سکتیں۔ اس چیز کو لڑکیوں کے لیے روک دیا جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے برس گزر گئے۔ کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی۔ پر ہمارے اکثر لوگوں کی سوچ نہ بدلی۔ لڑکیوں کو ہمیشہ نازک، بزدل، کمزور سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ عورت گھر چلاتی ہے۔ کھانے پینے سے لے کر صفائی اور بچوں کی پڑھائی، ان کے کپڑے اور اگر جوائنٹ فیملی ہو تو دوسرے گھر والوں کو بھی دیکھنا اس کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود عورت کو کہا جاتا ہے کہ تم کرتی ہی کیا ہو؟ جبکہ عورت خاندان کو بھی جوڑ کر رکھتی ہے۔ رسمیں ادا کرنا، ملنا ملانا بھی اس ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ اس میں مردوں کا کوئی کام نہیں پر عورتیں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیاں کیا پہنتی ہیں اس پر شاید ان کے اپنے ماں باپ کو اعتراض نہ ہو لوگوں کو ضرور ہوتا ہے۔ جب انہی لوگوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو یہ سہ نہیں پاتے۔ آخر کیوں ہم لوگوں کی زندگی میں دخل دیے بغیر نہیں رہ سکتے؟

آخر کیوں ایک لڑکی جس نے دوپٹہ نہیں اوڑھا یا وہ نہیں پہنا جو ہماری نظر میں ”اچھا“ ہے تو ہم اس پر باتیں کرتے ہیں۔ زندگی بہت چھوٹی ہے۔ یہ ہی کرتے نہ گزاریں اسے۔ آپ نہیں جانتے کہ اس لڑکی کے کیا خیالات ہیں۔ وہ جو چاہے کرے۔ ہم تو لوگوں کے کپڑے دیکھ کر ان کے ایمان کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ ایک لڑکی جس نے جینز پہنی ہے اس کا ایمان کتنا کمزور یا مضبوط ہے۔ یہ اس کا اور رب کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی بھی چند جگہوں پر لڑکیوں کے کام کرنے پر پابندی ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی محنت سے پڑھ لکھ کر کچھ بنتی ہے اور پھر جب اس کی شادی ہوتی ہے تو وہ لوگ اسے جاب نہیں کرنے دیتے۔ لڑکیوں کے خوابوں کو یوں بے دردی سے نہ توڑیں۔ اگر لڑکیوں خود محنت سے اور شوق سے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مرد کا دس لوگوں کا خرچہ اٹھانے سے تو اچھا ہے۔ اور اکثر لوگ اپنی بچیوں کی پڑھائی پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ یہ ایک سراسر غلط بات ہے۔ پڑھائی ہر بچے کا حق ہے۔

لڑکیوں کو ضرور پڑھائیں ورنہ نہ انہیں اپنے حقوق کا پتہ چلے گا اور نہ ہی زندگی کی دوسری ضروری چیزوں کا۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں ایک ملک اور دنیا کو آگے لے کر بڑھتی ہیں۔ ثمینہ بیگ، وہ لڑکی جس نے 21 سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا اور یقیناً ہمارے معاشرے میں عورت کا پہاڑ سر کرنا بہت غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ پر انہوں نے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کیا اور دنیا کو کر کے دکھا دیا۔ ملالہ یوسفزئی، وہ لڑکی جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو پاکستان کا نام پتہ چلا۔ اس نے گولی کھانا قبول کر لیا پر ڈر کر بیٹھ جانا صحیح نہیں سمجھا۔

لہذا لڑکیوں کو کمتر کہنے سے پہلے ایک منٹ سوچیں۔ اپنی بچیوں کو پڑھائیں۔ لڑکیوں کو ان کے تمام حقوق فراہم کریں۔ اور مردوں کے شانہ بشانہ چلنا سکھائیں۔ ایک لڑکی ہو کر میں یہ بھی کہتی ہوں جن لڑکیوں کو آواز اٹھانے نہیں دی جاتی اس آرٹیکل میں میں ان کی طرف سے بھی بات کر رہی ہوں۔ اور میں امید کرتی ہوں کہ ہم اس غلط سوچ سے نکلیں گے اور صنفی برابری کی حمایت کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشال ادریس

مشال ادریس کی عمر بارہ برس ہے اور وہ لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول کی طالبہ ہیں

mishal-idrees has 4 posts and counting.See all posts by mishal-idrees

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *