کرونا کی تیسری لہر، ویکسین اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی تیسری لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہسپتالوں اور طبی عملے پر کام کا دباو بڑھ گیا ہے۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے۔ اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر لاہور شہر میں باقاعدہ ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے تنبیہ کی ہے کہ ملک بھر میں برطانوی قسم کا کرونا وائرس پھیل چکا ہے، اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو حالات گزشتہ جون سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

اسد عمر نے اس امر پر بھی تشویش اور بے بسی کا اظہار کیا کہ حکومت کرونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلے کرتی ہے، حفاظتی تدابیر کے حوالے سے احکامات اور ہدایات جاری کرتی ہے، لیکن عوام الناس ان پر عمل درآمد نہیں کرتے، جس کی وجہ سے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسد عمر کا یہ کہنا کافی حد تک درست ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ عوام کی بڑی تعداد کرونا وائرس کو بیماری تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

ایسے میں وہ حکومتی ہدایات پر عمل کیونکر کریں۔ اس ساری صورتحال کا مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں یہ وبا اس تیزی سے نہیں پھیلی، جس تیزی سے اس نے دنیا کے دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اس میں ہماری تدبیر یا حکمت عملی کا کوئی خاص عمل دخل نہیں۔ یہ محض اللہ پاک کی خاص رحمت ہے۔ ایک اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکی ہے۔ یہ شرح تقریباً 93 فیصد بنتی ہے۔ عوام کا فرض ہے کہ اس وبا کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور کرونا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، تاکہ اس وبا کے اثرات سے بچا جا سکے۔

اس سارے معاملے کا معاشی پہلو بھی ہے۔ کرونا نے دنیا بھر کے لوگوں کے معاشی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آئی۔ ایم۔ ایف کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی مشکلات بڑھی ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے اور متوسط کاروبار کرنے والے ادارے اور کمپنیوں کی مالی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو ا ہے۔ معاشی ماہرین خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ مشکلات مزیدبڑھیں گیں۔ جہاں تک پاکستان کے اقتصادی حالت کا تعلق ہے تو وہ کرونا وائرس سے پہلے بھی اچھی نہیں تھی۔

کرونائی صورتحال نے بگاڑ میں مزید حصہ ڈالا۔ آج ہر دوسرا آدمی مہنگائی کا رونا روتا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر متوسط اور زیریں طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے زندگی بسر کرنا مشکل ہو چلا ہے۔ مہنگائی نے واقعتاً عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مصائب میں گھرے عوام کے لئے اس وبا سے بچنے کے لئے علاج معالجے کی مناسب سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ پاکستان میں کرونا کا پہلا کیس فروری 2020 کے اواخر میں سامنے آیا تو احتیاطی حکمت عملی کے تحت تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔

کاروباری اور دیگر سماجی سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن سمیت مختلف پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ لیکن کرونا ویکسین بنانے یا خریدنے پر کسی نے توجہ نہ دی۔ جبکہ دوسری طرف دنیا کے مختلف ممالک ویکسین کے حصول کے لئے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ ہمسایہ ملک بھارت نے اس ضمن میں انتہائی تحرک کا مظاہرہ کیا اور کئی ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے نکل گیا۔ بھارت نے شروع سے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ آسٹرازی نیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کاوی شیلڈ کا لائسنس حاصل کر کے مقامی طور پر ویکسین تیار کرے گا۔

چنانچہ بھارتی شہر پونا میں ”سیرم انسٹیٹیوٹ“ نے یہ لائسنس حاصل کیا۔ بھارتی حکومت نے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ ادارہ ایک ماہ میں ایک لاکھ خوراکیں تیار کرنے لگا۔ ٹارگٹ اس کا یہ ہے کہ ماہانہ ایک کروڑ خوراکیں بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے۔ بھارت کے تحرک کا اندازہ لگائیے کہ 2020 میں یہ دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین تیار کرنے والا ملک بن چکا تھا۔

دوسری طرف پاکستان میں ہم چین کی طرف سے ملنے والی خیراتی ویکسین سائنو فرم کی پانچ لاکھ خوراکیں ملنے پر مطمئن ہو کر بیٹھ رہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک انٹرویو میں یہ تک کہہ دیا کہ چین اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ملنے والی خیراتی ویکسین پاکستان کے لئے کافی ہو گی۔ غالباً اسی سوچ کے زیر اثر حکومت نے ویکسین کے حصول کے لئے ہاتھ پیر مارنے کی زحمت نہیں کی۔ بہرحال خدا خدا کر کے ہم نے ویکسین کا آغاز کیا ہے۔

طبی عملے اور ساٹھ سال سے زائد عمر افراد کی ویکسین کی جا ری ہے۔ نجی شعبے کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ویکسین کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ نت نئی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک تو اس کی قیمت کے بارے میں اعتراض سامنے آیا۔ کہا گیا کہ اس کہ قیمت دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان میں اس روسی سپٹنک ویکسین کی قیمت ساڑھے آٹھ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ ویکسین ساڑھے پندرہ سو روپے میں بک رہی ہے۔ اس اعتراض کے بعد قیمت طے کرنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ نجانے یہ ویکسین کن گوداموں میں پڑی سڑ رہی ہے۔

دوسری طرف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی چیئر پرسن جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے وزیر اعظم عمران خان سے نجی سیکٹر کو کورونا ویکسین کی درآمد کی اجازت منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ موقف ان کا یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں کرونا سے بچاو کی ویکسین بالکل مفت لگا رہی ہیں، اس کے برعکس حکومت پاکستان نے نجی سیکٹر کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر اسے نجی ہسپتالوں میں مہنگے داموں فروخت کرے گا اور یوں کرپشن کا راستہ کھل جائے گا۔

جسٹس ناصرہ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان میں یہ ویکسین 1500 روپے میں ملنی چاہیے تاہم حکومت کی منظور کردہ قیمت 160 فیصد زیادہ ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں اسی ویکسین کی قیمت 734 بھارتی روپے ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر وہ وقت یاد آتا ہے کہ جب عمران خان نہایت تسلسل سے تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کی بات کیا کرتے تھے۔

اس دوران لاہور کے دو ہسپتالوں سے کرونا ویکسین ضائع اور غائب ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ اخباری اطلاعات ہیں کہ گورنمنٹ مزنگ ہسپتال میں کرونا وائرس کی 350 خوراکیں مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ہیں۔ جبکہ لاہور کے سروسز ہسپتال سے ویکسین کی 550 خوراکیں غائب ہو گئی ہیں۔ اس قصے میں کچھ با اختیار شخصیات کے نام لئے جا رہے ہیں۔ یہ خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں ایک طرف تو خاندان کے سب افراد گھر بیٹھے ویکسین لگوا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حقداروں کو ویکسین نہیں مل رہی۔ نجانے یہ سب صورتحال ہمیں کس طرف لے جائے گی۔ بس اللہ پاک اس ملک پر رحم فرمائے۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply