احتیاط علاج سے بہتر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال نومبر 2020ء میں عالمی ادارہ صحت کے کورونا کے معاملے پر خصوصی نمائندے ڈیوڈ نبارو نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومتوں کے کورونا کی دوسری لہر کو قابو کرنے کے اقدامات ناکام رہے تو سال 2021ء کے آغاز میں یورپ کو تیسری لہر کا سامنا ہوگا۔ کورونا کی پہلی لہر جب گزری تو جون اور جولائی کے مہینوں میں کورونا کیسز کی تعداد میں بتدریج واضح کمی آئی اور اور بہت کم مریض وینٹی لیٹر پر تھے جب کہ ہمسایہ ملک بھارت میں سینکڑوں کی تعداد میں اموات واقع ہو رہی تھیں۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر اکتوبر 2020ء میں شروع ہوئی تو ملک میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں کورونا کے پازیٹو کیسز رپورٹ ہوئے اور اس وبا کے ہاتھوں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں جن میں کئی نامور ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔

اب کورونا کی ویکسین دنیا کی مارکیٹ میں آئی ہے اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اس کی باقاعدہ ویکسی نیشن کا آغاز بھی کر دیا گیا ، اسی دوران برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم نے خطرناک انگڑائی لی ہے جس کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی یہ تیسری لہر اتنی خطرناک ہے کہ اس سے انفیکشن بہت جلد پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور مریض علاج سے قبل ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

کورونا کی تیسری لہر نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی اپنے قدم جمانا شروع کر دیے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ کورونا کی اس تیسری لہر سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کی جانب سے بار بار عوام کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تیسری لہر خطرناک ہے اور دن بدن صورتحال تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے ، ہسپتالوں میں کورونا متاثرین مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے باعث جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ اگر ہماری بے احتیاطی کے باعث کورونا متاثرین کے مریضوں میں اضافہ ہوتا رہا تو یہ صورتحال خطرناک حدوں کو چھو جائے گی۔

اس لئے جہاں حکومت کی جانب سے اس وبا کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکے ہیں وہیں بحیثیت قوم ہمیں بھی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے دی گئی احتیاطی تدابیر اور اقدامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وبا اس وقت کرۂ ارض پر آباد انسانی حیات کو لقمۂ اجل بنانے کے لئے اپنے پھن پھیلا چکی ہے ۔ کورونا کی اس تیسری لہر نے پوری دنیا کو تشویش ناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ حکومت اور وزارت صحت اس وبا کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں لیکن ہمیں بھی چاہیے حکومت اور وزارت صحت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

اس وبا کی ویکسین کی ایجاد کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کے ممالک اس وبا کی مزید پیش رفت کو روکنے کے لئے ویکسین کی خرید و فروخت کے معاہدے کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر ماہرین کا اتفاق ہے کہ ویکسی نیشن اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہم پوری طرح اس وائرس سے محفوظ ہو چکے ہیں۔ ویکسی نیشن سے بڑی حد تک بیماری کے خلاف مدافعت ضرور پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس لیے کورونا ویکسین کے اثرات اور کارکردگی تحقیق طلب ہے کیونکہ دنیا میں کئی کیسز ایسے بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں کہ کورونا وبا سے بچاؤ کی ویکسی نیشن کروانے کے باوجود بعض افراد پر کورونا حملہ آور ہوا ہے۔

مجموعی طور پر طبی ماہرین کی پہلی رائے یہی ہے کہ ویکسی نیشن کروانے کے باوجود احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں لیکن افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ ابھی پاکستان میں ویکسی نیشن کا عمل شروع ہوا ہے اور جن لوگوں نے ویکسی نیشن کے لئے آن لائن رجسٹریشن کروائی ہے ، ابھی تک وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں ویکسین لگوانے کے لئے کب مطلع کیا جائے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو صرف اس انتظار میں ہیں کہ وہ اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن کروائیں۔

دوسری جانب صورتحال پر نظر دوڑائیں تو حالات کی نزاکت اس نہج کو چھوتی نظر آتی ہے کہ عوامی مقامات ، بازاروں، تفریح گاہوں میں رش کے باوجود لوگوں کی اکثریت ماسک تک استعمال نہیں کر رہی اور نہ ہی سماجی فاصلہ کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔

ملکی حالات کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کورونا وبا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ خدارا عوام اپنے حال پر رحم کرے ، پہلے ہی ملک میں ہوا میں نمی کا تناسب انتہائی کم ہونے کے باعث گلے کا خشک ہونا ، ناک، کان سے خون بہنا ، سانس کا رکنا اور ہونٹوں کا خشک ہونا جیسے امراض میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور جس کے باعث بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی قوت مدافعت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے میں عوام مزید تاخیری حربے اختیار کرتے رہے تو حالات کی سنگینی کو سنبھالا دینا مشکل ہو جائے گا۔ اخبارات اور چینلز پر خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں کہ ماسک نہ پہننے پر اتنے مقدمات درج ہوئے حالانکہ یہ بہت غلط رجحان ہے ، جرمانہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو غلطی کا احساس ہو اور آئندہ کے لئے سختی کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے نہ کہ رقومات جمع کرنے کے لئے ان سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔

عوام کو بھی سمجھنا چاہیے کہ احتیاط میں کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اپنی قیمتی جان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ کورونا کے پھیلاؤ کو اسی صورت روکا جا سکتا ہے جب عوام چوکنا ہو کر ہر جگہ خاص کر عوامی مقامات پر جسمانی فاصلہ اور ماسک کا استعمال خود پر لازم کر لیں۔

اگر ہم نے احتیاطی تدابیر کو پس پشت ڈال دیا تو پھر ملک میں مکمل لاک ڈاؤن ناگزیر ہو جائے گا اور ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنے کے عوام اور حکومت متحمل نہیں ہیں۔ اس لئے ہر فرد کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لئے فکر مندی کے ساتھ کورونا ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور اسی کے ذریعے اس وبا سے بچا جا سکتا ہے۔ ویکسی نیشن اس بات کی مکمل ضمانت فراہم نہیں کرتی کہ آپ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس لئے احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply