امت اخبار کا عورت مارچ کی خواتین کے لیے نازیبا لفظ کے استعمال پر سوشل میڈیا صارفین برہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور
BBC
امت اخبار اس سے پہلے بھی عورت مارچ مخالف مواد شائع کرتا رہا ہے
پاکستان میں شائع ہونے والے دائیں بازو کے ایک اردو اخبار روزنامہ امت نے پیر کے روز شائع ہونے والے اخبار کے صفحہ اول کی ایک خبر میں عورت مارچ میں شامل خواتین کے لیے ایک نازیبا لفظ استعمال کیا ہے جس پر اخبار کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

امت اخبار میں اس سے قبل بھی عورت مارچ سے متعلق ایک جعلی ویڈیو پر مبنی توہینِ مذہب کے بے بنیاد الزامات اور دیگر افواہوں کی مسلسل اشاعت کی جاتی رہی ہے اور عورت مارچ کی منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ امت اخبار میں چھپنے والے مضامین اور اداریوں کے ذریعے بھی مارچ کے شرکا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

یہ نازیبا لفظ دراصل ایک ایسی خبر کے متن میں لکھا گیا ہے جس کی شہ سرخی تھی ’14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے‘۔ اس خبر کے متن میں عورت مارچ کی خواتین کے لیے نازیبا لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’انھیں یہ ممالک نظر نہیں آتے۔‘

جب اس حوالے سے روزنامہ امت کے مدیروں سے رابطہ کی کوشش کی گئی تو ایک جوائنٹ ایڈیٹر نے بتایا کہ ’وہ گذشتہ پانچ دنوں سے چھٹی پر ہیں اس لیے اس بارے میں رائے نہیں دے سکتے۔‘ جب اخبار میں دیے گئے ٹیلیفون نمبر پر رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ ’ایڈیٹر کووڈ کی وجہ سے دفتر نہیں آتے، انھیں پیغام پہنچا دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ روزنامہ امت کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے کراچی، راولپنڈی، پشاور اور حیدرآباد ایڈیشنز کے ’ای پیپرز‘ میں اِس خبر کے شائع ہونے تک وہ نازیبا لفظ موجود تھا۔

اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا پر صارفین اخبار کے عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں اس حوالے سے میڈیا پر نظر رکھنے والے نگراں اداروں کی توجہ بھی اس بات کی جانب دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اکثر افراد اس کی شکایت پیمرا سے کر رہے ہیں جبکہ اخبارات پر نظر رکھنے والا ادارہ دراصل پریس کونسل آف پاکستان ہے۔

پریس کونسل آف پاکستان کا ردِ عمل

بی بی سی کے دانش حسین کے رابطہ کرنے پر پریس کونسل آف پاکستان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فی الحال انھیں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے تاہم سوشل میڈیا کے ذریعے انھیں اس خبر کے شائع ہونے کا علم ضرور ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘اگر کل تک کوئی شہری یا رجسٹرڈ ادارہ ذاتی حیثیت میں اس حوالے سے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائے گا تو پریس کونسل آف پاکستان اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بطور ادارہ اس ذیل میں کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔’

دوسری جانب بی بی سی کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کاؤنسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے چیئرمین عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اگر امت نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس کے خلاف سی پی این اے کو کارروائی کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پی این ای از خود نوٹس بھی لے سکتی ہے اور کوئی شکایت بھی کرسکتا ہے جس کی بنیاد پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

’یہ بے حیائی یا غیر اسلامی بات کیوں نہیں ہے؟‘

عورت مارچ کی ایک منتظم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خبر پر حقوق نسواں کی تنظیموں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ تمام صحافی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ کارروائی کریں۔

اس بارے میں وومین ایکشن فورم، تحریک نسواں اور پولیٹیکل وومین نے ایک مشترکہ بیان میں نازیبا زبان استعمال کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ امت اخبار نے صحافت کے بنیادی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اس اخبار کی عورتوں سے حقارت، غلط بیانی اور غط رپورٹنگ کی ایک تاریخ رہی ہے جس کا مقصد اشتعال انگیزی اور مذہبی جذبات بھڑکانا رہا ہے۔ صحافی تنظیموں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے اور حکام کو اس کے اس رویے کی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔‘

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور خاص کر خواتین اس بارے میں اس اخبار کی ’منافقت‘ کے حوالے سے بات کر رہی ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمان راشد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سمجھ میں آتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی بے عزتی کریں جو طاقت ور سے طاقت چھین رہے ہیں۔‘

ایک صارف ایمن نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہماری ثقافت پر ایک حملہ کیسے نہیں ہے؟ یہ بے حیائی کیوں نہیں ہے؟ یہ غیر اسلامی کیوں نہیں ہے؟ یہ ایک جرم کیوں نہیں ہے؟‘

اس حوالے سے عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار راشد نے لکھا کہ ’اگر امت اخبار کی اداریاتی ٹیم کے لیے خواتین کے لیے ایسے (نازیبا الفاظ) استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو مجھے یہ سوچ کر ہی ہول آ رہے ہیں کہ یہ بند کمروں میں کس قسم کی فحش اور تشدد پسند خیالات کا اظہار کرتے ہوں گے۔ یہ وہ مجرم ہیں جنھوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔‘

ایک خاتون نے لکھا کہ ’ان لوگوں کے لیے ایسی خواتین جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، اپنی حفاظت، پرائیویسی، جسم اور دیگر حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے بات کرتی ہیں وہ ’جسم فروش‘ ہیں۔

’لیکن جو خواتین ایسا کرنے سے ڈرتی ہیں یا ان کے تشدد کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں وہ نیک اور پرہیزگار ہیں۔‘

دوسری جانب اس حوالے سے کچھ افراد نے ایسے الفاظ کے استعمال کو آزادی صحافت کا نام بھی دیا ہے۔

ناجیا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں اگر عورت مرد کی جوتی تلے نہ رہے تو یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔‘

سیما مرتضیٰ نے لکھا کہ زیادہ تر مسلمان ممالک اور وہاں کے مرد خواتین کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اللہ کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ان کے لیے بنیادی حقوق بھی بہت زیادہ ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان مردوں کو کس بات کا خوف ہے۔‘

شاد بیگم نے لکھا کہ ’یہ کس طرح کی زبان ہے، امت اخبار میں عورت کے بارے میں اس قدر نازیبا زبان انتہائی افسوسناک ہے۔ مغرب میں عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کے ہمارے ہاں عورت کے ساتھ زیادتی کو نارمل قرار دیا جائے۔‘

پریس کونسل آف پاکستان کو شکایت کرنے کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟

پریس کونسل آف پاکستان کے مطابق کوئی بھی شہری معاملے میں فریق بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے اسے (شہری) اپنی شکایت کے ہمراہ ایک ہزار روپے فیس بنام پریس کونسل آف پاکستان جمع کروانی ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شکایت کے اندارج کے بعد معاملہ پریس کونسل کی جوڈیشل برانچ کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اخلاقیات کی مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر فریقین کو نوٹس جاری کرتی ہے۔

’اس نوٹس کی شنوائی ایک تین رکنی کمیٹی کرتی ہے جس کے ممبران میں ادارے کے رجسٹرار اور ریٹائرڈ جج شامل ہوتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18520 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp