بے حسی کی انتہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بادشاہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنے عوام پر ظلم کا پورا پہاڑ ہی توڑ کر رکھ دے۔ اس وقت تو اس کے جاہ و جلال کی کوئی انتہا ہی نہیں رہی جب عوام نے باوجود ظلم و ستم اس کے پاس فریاد کے لئے آنا ہی چھوڑ دیا۔ روا رکھے جانے والے ظلم پر جب فریادی روتے، دھوتے، کراہتے، چیختے اور چلاتے اس کے پاس آتے تو اس کے اذیت پسند مزاج کو بہت تسکین حاصل ہوتی اور وہ ان کو تڑپتا دیکھ کر اور بھی لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ جب ستم پر ستم ڈھا دینے کے باوجود بھی کوئی ایک فریادی بھی دربار میں نہیں آیا تو اسے شک گزرا کہ کہیں اس کے اہل کاروں نے عوام پر ظلم کرنا تو ترک نہیں کر دیا۔

سب کو حاضر کیا اور نہایت غیظ و غضب کے عالم میں حقیقت حال دریافت کی تو سب نے یہی عرض کیا کہ عالی جاہ ہم تو آپ کے حکم کے مطابق کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے جب کوئی نہ کوئی اذیت عوام کو نہ پہنچاتے ہوں لیکن شاید اب رعایا ظلم سہنے کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ باد شاہ جواب سے مطمئن نہ ہوا تو دربار کے بڑے شیطان نے کہا کہ باد شاہ سلامت آپ حکم جاری کریں کہ تمام لوگ ہر صبح کسی بھی کام کے آغاز سے قبل یہاں حاضر ہوا کریں اور جب تک ہم ان سب کو دس دس جوتے نہ مار لیا کریں وہ کسی بھی کام کو ہاتھ نہ لگایا کریں۔

تجویز سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور نقارچیوں کے ذریعے پورے ملک میں تازہ ترین احکام کو سنادیا گیا۔ اب ہر صبح پورا ملک بادشاہ کے شاہی محل کے پاس جمع ہوتا، جوتے کھاتا جاتا اور اپنے اپنے کاموں کی انجام دہی کے لئے روانہ ہوتا جاتا۔ کئی دن گزر گئے لیکن پھر بھی کوئی فریادی دربار میں نہیں آیا تو باد شاہ کی بیقراری میں اضافہ ہونے لگا۔ حکم کیا گیا کہ جوتوں کی تعداد دو گنا کردی جائے چنانچہ حکم پر عمل کیا گیا۔ دو تین دن کے اندر بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ کچھ فریادی حاضر ہوئے ہیں تو بادشاہ خوشی کے مارے پاگل ہو گیا۔

حکم دیا کہ فریادیوں کو فوراً دربار میں حاضر کیا جائے۔ فریادیوں کی تباہ حالی دیکھ کر بادشاہ کی اذیت پسندی کو بڑی تسکین ہوئی۔ کہا کیسے آنا ہوا تو فریادیوں نے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے آپ کے محل کے آس پاس جمع ہو جاتے ہیں، جوتے کھاتے ہیں تب کہیں کام پر جاتے ہیں۔ جوتے کھاتے کھاتے صبح سے شام ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے اپنے کام انجام نہیں دے پاتے۔ بادشاہ ان کی فریاد سنتا گیا اور پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتا گیا۔

بہت عرصہ بعد کسی کی آہ و بکا سننے کو ملی تھی اس لئے خوشی کے مارے اس کا برا حال تھا۔ ان کی فریاد سننے کے بعد نہایت پر غرور انداز میں ان سے کہا کہ پھر تم سب لوگوں کی کیا صلاح ہے، کیا ہم جوتے لگانا بند کردیں۔ نہیں نہیں، سب نے بیک زبان کہا، عالی جاہ بے شک آپ اس نیک عمل کو جاری رکھیں لیکن اتنی مہربانی کریں کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد ہزاروں میں کردیں تاکہ ہم یہاں سے جلد فارغ ہو کر اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو سکیں۔

ڈسکہ کا الیکشن مسلم لیگ نون کی امید وار سیدہ نوشین نے جیت لیا اور ان کا مقابلہ کرنے والے پی ٹی آئی کے جناب اسجد علی ہار گئے۔ مسلم لیگ کا اس حلقے سے جیت جانا کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے اس لئے کہ یہ حلقہ ایک طویل عرصے سے ن ہی کے پاس رہا ہے۔ بات جیت کی نہیں، ہار جیت کے اس بہت قلیل فرق کی ہے جو دونوں امیدواروں کے درمیان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام طور پر ضمنی الیکشن حکمران جماعت ہی جیتا کرتی ہے کیونکہ ایک تو اس کی کار کردگی عوام کے سامنے ہوتی ہے تو دوسری جانب سرکار کی ہر قسم کی مشینری حرکت میں آئی ہوئی ہوتی ہے۔

عام لوگ بھی زیادہ تر یہی سوچتے ہیں کہ ان کے حلقے کے لئے حکمران جماعت کا ساتھ دینے میں زیادہ فائدے کا امکان ہے۔ یہی سوچ ضمنی الیکشنوں میں حکمران جماعت کے امید واروں کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس نقطہ نظر کو سامنے رکھا جائے تو مسلم لیگ نون کا یہاں سے الیکشن جیت جانا بہت خوش کن لگتا ہے لیکن اس پہلو کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کے تمام تر عوام دشمنی جیسے اقدامات کے باوجود لوگوں کا ایک بہت بڑی تعداد میں حکومتی امید وار کے حق میں ووٹ ڈالنا اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ آپ بے شک روزانہ جوتے پر جوتے مارے جائیں پر اتنی مہربانی کر دیں کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیں۔

الیکشن میں ووٹوں کی لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے والے اور گولیاں کھا کھا کر جان دینے والے غریب غربا ہی ہوا کرتے ہیں۔ کیا وہ غریب جنھوں نے پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ دیا وہ بجلی و گیس کے بل ادا نہیں کرتے، کیا وہ دالیں، چاول، آٹا، گھی اور چینی نہیں کھاتے، کیا پہننے کے لئے انھیں کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑتی، کیا وہ گوشت، سبزیاں اور پھل نہیں خریدا کرتے۔ کیا ان کو تین سال قبل کی مہنگائی اور موجودہ مہنگائی میں ذرہ برابر بھی فرق دکھائی نہیں دیتا اور کیا بے روزگاری کا بڑھ جانا ان کے لئے کسی بھی قسم کی خوفزدگی کا باعث نہیں۔

آخر وہ کون سی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالے گئے۔ یہ بے حسی کی وہ انتہا ہے جہاں فریادی جوتے مارنے کی سزا میں نرمی کروانے نہیں جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ لے کر آئے ہیں۔ اگر قوم کی سوچوں کا یہی عالم ہے تو پھر آنے والے دنوں میں یہ سوچ لینا کہ ملک کسی دن صومالیہ سے بھی بد تر حالات کا شکار ہو سکتا ہے، بعید از قیاس نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *