پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: یونٹ میں پہلی کارروائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیوٹی پر موجود چیف پیٹی افسر صاحبان، پیٹی افسر صاحبان ہمارے پاس آئے۔ اپنا تعارف کروایا۔ یونٹ کے بارے کچھ مختصر باتیں بتائیں۔ ایک ایک نئی انٹری کے نام ، ولدیت اور ابتدائی الاٹ شدہ نمبروں کو چیک کیا۔ اپنے پاس نئی فہرست بنائی اور وہ فہرست ابتدائی الاٹ شدہ نمبروں کے مطابق تھی۔ ہر نئے آنے والے ملاح (سیلرز) کو ایک ابتدائی نمبر بھرتی کے وقت ہی الاٹ کیا جاتا ہے۔ جسے آفیشل نمبر کہتے ہیں۔ ان الاٹ شدہ نمبروں کی بنیاد پر سیلرز کی سینارٹی لسٹ بنتی ہے۔

یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ کون سینئر اور کون جونیئر ہے۔ ایک ہی دن ایک ہی وقت میں بھرتی ہونے والے نمبرز کے آگے پیچھے ہو جانے سے سینئر جونیئر ہو جاتے ہیں جو تمام سروس کے لئے طے ہو جاتا ہے۔ ایک نمبر سینئر کئی بار اتنا لکی ثابت ہو جاتا ہے کی اگلے پروموشن کے کورس کے لئے چلا جاتا ہے اور ایک نمبر جونیئر رہ جاتا ہے اور نتیجتاً کورس پر جانے والا ساتھی نہ جانے والے سے ایک سال سینئر ہو جاتا ہے۔

پہلی ابتدائی ملٹری ٹریننگ کے بعد جب پروفیشنل ٹریننگ کے دوران مستقل نمبر جسے آفیشل نمبر کہا جاتا الاٹ کیا جاتا ہے۔ چیف پیٹی افسر صاحبان کو مختصراً چیف صاحب یا سی پی او صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ پیٹی افسر صاحبان چوں کہ چیف صاحبان سے جونیئر ہوتے ہیں ، انہیں پی او صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان دونوں رینکس کے نیچے ایک رینک ہے لیڈنگ۔ اس رینک کا عملہ سپروائزنگ سٹاف کہلاتا ہے۔ لڑکوں کی گنتی کی گئی اور لسٹوں کو چیک کیا گیا اور بنائی گئی فہرست کے مطابق کھڑا کر دیا گیا۔

اب کِٹ ایشو کروانے کا مرحلہ آ گیا ہے۔ ڈیوٹی اسٹور کیپر کو بلایا گیا اور تمام لڑکے اس کے حوالے کر دیے گئے اسٹور کیپر ہمیں لے کر اسٹور کے سامنے لے آیا اور نمبروں کی ترتیب کے حساب سے برآمدے میں آمنے سامنے بٹھا دیا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ کٹ ایشو کروانے کا ثابت ہوا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ تب جا کہ کہیں کٹ ایشو کرنے کا کام شروع ہوا۔ اسٹور اسسٹنٹ صاحب جو ڈیوٹی پر تھے ایک آئٹم کو اٹھاتے جتنی اٹھا سکتے ، آ کر ترتیب سے بیٹھے لڑکوں کے سامنے اسے پھینک کر نئی چیز لینے چلے جاتے ، دوبارہ آ کر دوسری آئٹم لے آتے اور اسی طرح پھینک کر چلے جاتے۔

سب سے پہلے کٹ بیگ دے کر گیا پھر اس کے لئے تالا لایا۔ سب کے لئے دو دو کمبل لایا۔ ہم سب نے کمبل تہ کر کے کٹ بیگ میں رکھ لیے ۔ دو سفید چادریں اور دو تکیہ کے غلاف اور ایک تکیہ دے کر گیا۔ دو عدد دریاں اور ایک مچھر دانی دے کر چلے جاتے۔ نیند اور تھکاوٹ کا غلبہ تھا۔ بار بار نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے اور بس بھی نہیں چل رہا تھا کہ کیا کریں، تھوڑا بہت شور کیا کہ یہ کِٹ صبح ایشو کر لیں تو اسٹور اسسٹنٹ صاحب فرمانے لگے کہ یہ تو آج اور ابھی ہی مکمل کرنا ہے۔

کٹ کی تھوڑی تفصیل مزید بیان کر دوں تاکہ یاد رہے کہ ایک سیلر کے پاس کیا کیا ہوتا ہے۔ سفید یونیفارم پانچ عدد، گرے یونیفارم تین عدد ( یہ ورکنگ یونیفارم ہے، مختلف قسم کے کام اور رات کی ڈیوٹی کے لئے استعمال کرتے ہیں ) ، ایک عدد جرسی، ایک عدد نیوی کیپ راؤنڈ، یونٹ کے نام کا ربن جو راؤنڈ کیپ کے اردگرد لپیٹ کر فکس کر دیا جاتا ہے اور فوجی (بیریٹ) کیپ، لانگ بوٹ، شوز، جرابیں تین جوڑے، سوئی دھاگہ اور اسے رکھنے کے لئے چھوٹی سی تھیلی، تولیے تین عدد، نیکر اور سوئمنگ کے لئے چڈی وغیرہ وغیرہ۔

سب سے ضروری چیز ایک عدد مگ اور ایک عدد پلیٹ۔ ان سب آئٹمز کو لیا اور کٹ بیگ میں پیک کر لیا۔ اب سوٹ کیس ہاتھ میں اور کٹ بیگ کندھے پر۔ پھر اسی فارمیشن میں باہر گراؤنڈ میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد بھی جان نہیں چھوٹی۔ اب کس جوان نے کس ڈویژن میں جانا ہے۔ پی این ایس ہمالیہ میں نیو انٹری سکول چھ ڈویژنز پر مشتمل تھا۔ ڈویژنز کے نام اس طرح سے ہیں۔ خالد ڈویژن، خیبر ڈویژن، طارق ڈویژن، قاسم ڈویژن، ٹیپو ڈویژن، غازی ڈویژن۔ ڈویژن کی الاٹنگ شروع ہوئی۔ ٹرین میں اکٹھے ایک ساتھ سفر شروع کرنے اور ہمالیہ تک پہنچنے والے ساتھی اب ڈویژنز میں تقسیم ہو کر علیحدہ علیحدہ ہونے والے تھے۔ اب یہ جدائی بھی اور پریشان کر رہی تھی۔ مجھے خالد ڈویژن، طاہر بزمی کو طارق ڈویژن، جعفر کالیا کو غازی ڈویژن الاٹ ہوا۔

ہر ڈویژن کے ذمہ داران موجود تھے اپنی اپنی نیو انٹری کو وصول کرنے کے لئے۔ خالد ڈویژن کے ذمہ داران نے جن لڑکوں کو خالد ڈویژن الاٹ ہوا، اپنے ساتھ لیا اور خالد ڈویژن کی طرف چل دیے۔ ایک بیرک کے سامنے آ کر روک دیا اور بتایا گیا کہ یہ بیرک خالد ڈویژن ہے۔ یہ بیرک تین حصوں پر مشتمل تھی ، دو بڑے ہال اور ایک چھوٹا ہال۔ چھوٹا ہال میڈیکل انڈر ٹریننگ نیو انٹری کے لئے تھا۔ درمیان والا بڑا ہال نیوی پولیس کے انڈر ٹریننگ نیو انٹری کے لئے اور دوسرا بڑا ہال میوزیشنز انڈر ٹریننگ نیو انٹری کے لئے مختص تھا۔

خالد ڈویژن کے اس رات کے ڈیوٹی انچارج صاحب نے سامان بیرک کے اسٹور میں رکھوایا اور سب لڑکوں کو ان کے لئے چارپائی اور لاکر الاٹ کیا۔ چارپائی کس طرح بچھانی ہے اور مچھر دانی کس طرح لگانی ہے یہ طریقہ بتانے کے بعد یہ کہہ کر کہ اب سو جاؤ اور صبح پانچ بجے اٹھ جانا۔ یہ پیغام کہ صبح جلدی اٹھنا ہے ، دل پر بجلی بن کر گرا۔ پاکستان نیوی کے سفر میں یہ ہماری پہلی منزل ہمارا ٹریننگ سنٹر پی این ایس ہمالیہ ہے جہاں ہم پہنچ گئے ہیں۔ اگلے دن کی کارروائی انتہائی دلچسپ ہے ، میرے ساتھ رہیے اور پڑھیے ، ہنس ہنس کر آپ کے پیٹ میں بل پڑ جائیں گے۔

(جاری ہے۔۔۔ )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments