پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: پہننا ہمارا یونیفارم اور پریڈ گراؤنڈ میں پہچننا

تیسرے دن صبح پانچ بجے اٹھے روٹین کے معاملات سے فارغ ہو کر سفید یونیفارم پہنی، لانگ بوٹ پہنے، سر پر نیول راؤنڈ کیپ سجائی، بیرک میں لگے قد آور شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا کہ تیاری مکمل ہے۔ تیاری مکمل تھی۔ ساڑھے سات بجے ہم تنویر احمد جو کہ ہماری کلاس کا لیڈر تھا کی ہمراہی پریڈ گراؤنڈ کی طرف چل پڑے۔ تنویر احمد نے گراؤنڈ میں جو جگہ ہماری کلاس کے لئے مخصوص تھی وہاں پہنچ کر

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: ٹریننگ سینٹر میں دوسرا دن

دوسرے دن کے متعلق روٹینز کا علم پہلے ہی روز ہو چکا تھا۔ صبح پانچ بجے اٹھنے کی سیٹی بجی تو آنکھ کھلی اور بستر سے نکلے اور بستر کو ترتیب سے تہ کر کے رکھ دیا۔ لاکر سے ٹوتھ برش لیا اور اس پر ٹوتھ پیسٹ لگائی اور منہ میں رکھ لیا۔ شیونگ کریم لی اور ٹھوڑی پر تھوڑی لگائی اور شیونگ برش ساتھ لیا۔ تولیہ اپنے ستر والے حصے پر لپیٹ کر واش روم کی طرف چل دیا۔ تولیے کے سوا کوئی کپڑا ساتھ نہ لیا کیونکہ واش رومز میں رش ہوتا ہے، اس لیے اگر دیر ہو تو شور مچتا ہے کہ جلدی باہر نکلو۔

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن۔ ٹریننگ سینٹر میں پہلا دن (دوسرا حصہ)۔

میں بھی اس لائن میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ مجھ سے پہلے جو لڑکے بال کٹوا کر نکل رہے تھے، ان کی حالت دیدنی تھی۔ ہر لڑکا جب تک نیوی کے حجام کے پاس تک نہیں پہنچا تھا بہت خوش تھا لیکن جیسے ہی حجام کی شاپ سے باہر آتے ، شیشے میں چہرہ دیکھ کر آتے اور اپنے منہ کو چھپاتے پھرتے۔ کئی بے چارے تو رو پڑے اور کئی لڑکوں کی آنکھیں نم تھیں۔ اس کی وجہ حجام نے جو سر کے بالوں اور مونچھوں کا حال کیا تھا، یہ دیکھ کر ہر لڑکا پریشان ہوا۔

ایک ہئیر کٹ فوجی کہلاتا ہے۔ یہاں تو فوجی کٹ سے بڑھ کر رنگروٹ کٹ تھا۔ سر کے اوپر تھوڑے سے بال چھوڑ کر باقی تمام بال صاف اور مونچھیں تو ایسے غائب کہ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اس طرح کے اسٹائل کی ہیئر کٹنگ کے بعد ہر لڑکے کا چہرہ ضرور لٹک گیا۔ دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد باری آئی تو میں بھی ان لڑکوں میں شامل ہو گیا جو بال کٹنے کے بعد روئے۔

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: ٹریننگ سینٹر میں پہلا دن

کراچی شہر میں جنوری کے مہینے ٹھنڈ تو ہوتی ہے لیکن لاہور کے مقابلے میں بہت کم۔ ہمارا قیام منوڑہ جزیرے میں قائم نیوی کے سیلرز ٹریننگ سینٹر میں تھا۔ خالد ڈویژن کی بیرک سے سمندر کا کنارا سو فٹ کی دوری پر ہے۔ سمندر کے کنارے اور ہماری بیرک کے درمیان بڑے بڑے بلاکس رکھ کر بیرکوں کو محفوظ کیا گیا تھا۔ لیکن سمندر کی لہروں کے ساتھ ہر وقت ہوا آتی رہتی جو گرمیوں سردیوں ہر موسم میں

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: یونٹ میں پہلی کارروائی

ڈیوٹی پر موجود چیف پیٹی افسر صاحبان، پیٹی افسر صاحبان ہمارے پاس آئے۔ اپنا تعارف کروایا۔ یونٹ کے بارے کچھ مختصر باتیں بتائیں۔ ایک ایک نئی انٹری کے نام ، ولدیت اور ابتدائی الاٹ شدہ نمبروں کو چیک کیا۔ اپنے پاس نئی فہرست بنائی اور وہ فہرست ابتدائی الاٹ شدہ نمبروں کے مطابق تھی۔ ہر نئے آنے والے ملاح (سیلرز) کو ایک ابتدائی نمبر بھرتی کے وقت ہی الاٹ کیا جاتا ہے۔ جسے آفیشل نمبر کہتے ہیں۔ ان الاٹ شدہ

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: یونٹ میں

کیماڑی جیٹی سے اپنے سامان کے ساتھ بوٹس پر سوار ہو کر اگلی منزل کے لئے روانہ ہوئے جو ہمارا ٹریننگ سکول پی این ایس ہمالیہ تھا۔ سمندر میں ہچکولے کھاتی بوٹس چلیں تو سمندر کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے دل و دماغ کو مسحور کرنا شروع کر دیا۔ چلتے ہوئے کوئی دوسری بوٹ ہماری بوٹ کو کراس کرتی تو پانی کی لہریں جوش میں آتیں اور آپس میں ٹکراتیں جس سے دونوں بوٹس ہچکولے کھانے لگ جاتیں۔ تھوڑی

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: کراچی اسٹیشن سے کیماڑی جیٹی

خیبر میل کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوئی۔ پلیٹ فارم کی طرف رخ کیا اور بریکوں کی آوازوں کا شور بلند ہوا۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر ٹرین کے ڈرائیور نے بریکوں کو پوری طاقت سے دبا دیا اور ٹرین ایک جھٹکے سے رک گئی۔ بوگی کے اندر آوازیں بلند ہوئیں کہ اپنا اپنا سامان سنبھالو۔ ادھر آؤ ادھر آؤ دیکھ کر اترنا۔ میں نے بھی اپنا سوٹ کیس سنبھالا اور ٹرین سے اتر آیا۔ اسی دوران

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: کراچی کا سفر

دو دن کے بعد کراچی کے لئے ٹرین کی ٹکٹ کنفرم تھیں۔ شام کو سات بجے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا والد صاحب اور چھوٹا بھائی اسٹیشن چھوڑنے آئے تھے۔ اسٹیشن پر ابھی دو لڑکے آئے تھے۔ خیبر میل ٹرین کا نام تھا۔ پلیٹ فارم نمبر 9 پر چار عدد بوگیاں علیٰحدہ ہی کھڑی تھیں جو پاکستان نیوی کے جوانوں کے لئے ریزرو تھیں۔ ٹرین کے روانہ ہونے کا وقت نو بجے رات کو تھا۔ والد صاحب اور بھائی تو واپس گھر چلے گئے۔ ان کے جانے کے وقت منظر جذباتی ہو گیا۔

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: بھرتی کا دن

جنوری 1981 میں اخبار میں اشتہار دیکھا کہ پاکستان نیوی کی بھرتی 11 جنوری 1981 کو ہو گی۔ 11 جنوری کی صبح صبح شامی روڈ پر نیوی کے آفس میں پہنچ گیا۔ میرے پاس بائیک تھی اس لیے جلدی پہنچ گیا۔ لیڈنگ میڈیکل صاحب (نام بھول گیا ہے بہت پرانی بات ہے ) آفس کے گیٹ کے باہر کھڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ سلام و دعا کے بعد پوچھا کہ بھرتی کب شروع ہو گی تو کہنے لگے آپ اس وقت اکیلے ہیں کچھ لڑکے اور آ جائیں تو کارروائی شروع کرتے ہیں۔ اس دوران ایک دوسرے کا تعارف ہوا اور نیوی کے بارے معلومات میں اضافہ بھی ہوا۔

Read more

پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن

فوج کی خاکی وردی کو دیکھ دیکھ اپنی آنکھیں کھولیں اور ہوش سنبھالا تو یہ وردی جنون بن چکی تھی۔ میٹرک پاس کرتے ہی والد صاحب سے فرمائش کر دی کہ فوج میں کیڈٹ جانا ہے۔ والد صاحب مجھے لے کر سلیکشن سینٹر گئے۔ جہاں پر میری عمر کا حساب لگایا گیا تو عمر پندرہ دن زائد نکلی اور انکار ہو گیا۔ دل ٹوٹ گیا۔ بہت دن اداس رہا کہ کیا کروں۔

Read more