خاتون کی ٹی ایل پی کے مظاہرین سے الجھنے کی ویڈیو: 'تم توڑو شیشہ، میں بھی ادھر سے ہی جاؤں گی'

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تحریکِ لبیک

Getty Images

پاکستان کے مختلف شہروں میں گذشتہ تین روز سے مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے۔

انتشار اور کشیدگی کی صورتحال زیادہ تر لاہور میں دیکھنے میں آئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بے شمار ویڈیوز میں مظاہرین میں شامل افراد کو پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا تھا۔ پولیس اور مظاہرین میں یہ جھڑپیں کافی سنگین نوعیت کی تھیں۔

لاہور پولیس کے مطابق سو سے زائد زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں دو زندگی کی بازی ہار گئے۔ ایسے میں لاہور ہی سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک خاتون کسی مقام پر ان کی گاڑی کا راستہ روکنے والے ڈنڈا بردار مظاہرین سے الجھ جاتی ہیں۔

ویڈیو میں ان کی شکل نظر نہیں آ رہی۔ ویڈیو میں ایسا دیکھا جا سکتا ہے کہ چند ڈنڈا بردار نوجوان لڑکوں نے ایک سڑک بند کر رکھی ہے جہاں وہ ایک گاڑی کو جانے دیتے ہیں تاہم ان خاتون کی گاڑی کو روک لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حکومتِ پاکستان کا پرتشدد احتجاج کے بعد تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا اعلان

سعد حسین رضوی، دیگر ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف دہشتگردی، قتل کے مقدمے درج

پاکستان کے لیے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

کانسٹیبل علی عمران نے عید کے کپڑے سلوا لیے تھے

اس پر وہ گاڑی سے اتر آتی ہیں اور مظاہرین سے الجھ پڑتی ہیں۔ لڑکے انھیں متبادل راستہ اختیار کرنے کا کہتے ہیں۔ وہ انھیں جواب دیتی ہیں کہ ‘پیٹرول کے پیسے تم دے دو تو میں چلی جاتی ہوں۔’

ویڈیو میں ان خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ انھون نے قریب ہی لاہور کے علاقے عسکری الیون میں جانا ہے تاہم ان لوگوں نے راستہ روکا ہوا ہے۔

مظاہرین کے ساتھ بحث کے دوران ایک موقع پر وہ غصے میں سامنے کھڑے لڑکوں کو آگے سے ہٹنے کا کہتی ہیں۔ اس پر ہجوم میں شامل ایک نوجوان لڑکے کی آواز سنائی دیتی ہے کہ ‘نہیں ہٹتے تم کیا کر لو گی۔’

اس پر وہ مزید غصے میں انھیں للکارتی ہیں کہ ‘تم نے گاڑی کا شیشہ ٹوڑنا ہے نا، تم توڑو شیشہ، میں بھی ادھر سے ہی جاؤں گی۔’ اس پر وہ اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے مرد کو گاڑی آگے بڑھانے کا کہتی ہیں۔ مظاہرین میں شامل لڑکے اپنی جگہ سے نہیں ہلتے۔

ان میں سے ایک نوجوان ان خاتون کو بتاتا ہے کہ ‘گاڑی ہمارے اوپر سے ہی گزرے گی۔ ہم نہیں ہٹیں گے۔’ اس پر وہ انھیں ایسے الفاظ میں لعن طعن کرتی ہیں جو با آسانی اشتعال انگیز ہو سکتے تھے۔ تاہم مظاہرین اپنی جگہ سے نہیں ہلتے اور انھیں متبادل راستہ لینے کا کہتے رہتے ہیں۔

ویڈیو کے آخر میں بھی وہ اپنی گاڑی کو چلانے والے شخص کو گاڑی آگے بڑھانے کا کہتی سنائی دیتی ہیں مگر وہ انھیں سمجھاتے ہیں کہ ایسا کرنا درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس پر بحث کرتے ہوئے زیادہ تر افراد نے ان خاتون کو سراہا۔

‘بہادر خاتون۔۔۔انھیں تمغہ امتیاز ملنا چاہیے‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف احسن رضوی نے ان کی ویڈیو لگا کر لکھا ‘براوو۔ یہ خاتون تمغہ جرات کی حقدار ہیں جنھوں نے بھٹہ چوک کے پاس مشتعول ہجوم کے سامنے یوں کھل کر ٹی ایل پی کے کارکنوں کو چیلنج کیا اور کھری کھری سنائی ہیں۔’

ٹویٹر ہی پر ایک صارف ورک شاہزیب نے لکھا ‘ایک بہادر خاتون ٹی ایل پی کے کارکنوں کا سامنا کرتے ہوئے اور انھیں سبق سکھاتے ہوئے۔ ہزاروں خاندانوں کو اس بیوقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ انھیں (خاتون کو) مزید ہمت ملے۔’

تاہم اسی بحث میں چند افراد ایسے بھی تھے جن کے خیال میں ان خاتون کو مستعل ہجوم کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

‘وہ بچ کیسے گئیں؟’

مونسٹر مونک نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘آپ کی ویڈیو یہ دکھاتی ہے کہ ‘بدمعاش’ کہے جانے والے افراد نے بظاہر کافی تحمل کا مظاہرہ کیا خصوصاً اگر ان کی کچھ ویڈیوز دیکھیں جہاں انھوں نے لوگوں کا بھرکس نکال دیا۔ وہ خوش قسمت تھیں انھیں مار نہیں پڑی۔’

ایک اور صارف کیپٹن زیڈ اے کے نامی ایک صارف نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ ‘وہ بچ کیسے گئیں؟ میں ان کی جرات کا معترف ہو سکتا ہوں لیکن یہ بیوقوفانہ بھی تھا۔ وہ ایسے افراد کے ساتھ بحث کر رہی ہیں جو مذہب وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔’

https://twitter.com/i_captainzak/status/1382245802559557633

تاہم ماہرین کی رائے میں اس ویڈیو کے گرد ہونے والی بحث کے دونوں اطراف میں سے کون درست اور کون غلط ہو سکتا تھا۔

‘ہجوم کی نفسیات جارحانہ نوعیت کی ہوتی ہے’

سلمان طارق سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے امور کے ماہر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی تھی اور ان کے خیال میں مشتعل ہجوم سے الجھنا انتہائی خطرناک ہو سکتا تھا۔

‘ہجوم کی جو نفسیات ہوتی ہے وہ کافی جارحانہ ہوتی ہے۔ اس ویڈیو میں لوگ کافی کم تھے لیکن اگر زیادہ ہوتے اور ان میں اشتعال زیادہ ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے خاتون ہونے کا لحاظ نہ کرتے۔’

سلمان طارق کا کہنا تھا کہ کسی فرد کی زندگی کی حفاظت کے نقطہ نظر سے وہ اس بات کا مشورہ نہیں دیتے کہ مشتعل ہجوم کو اکسایا جائے یا للکارا جائے یا قسم کی زبان استعمال کی جائے جو اس ویڈیو میں نظر آئی۔

تحریک لبیک پاکستان

EPA

ایسی صورتحال میں خطرہ کیا ہو سکتا ہے؟

سیکیورٹی کے ماہر سلمان طارق کے مطابق ‘ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی ایسا شخص پایا جاتا جو ان سے بہت بد تمیزی سے پیش آتا ہے اور ایکشن لیتا۔’

ان کے خیال میں ‘ہجوم کے لیے یہ بہت عام بات ہے کہ وہ گاڑیوں پر حملہ کرتے ہیں، شیشے توڑتے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ وہ گاڑی کو آگ بھی لگا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے۔’

ایسی صورتحال میں کیا حکمتِ عملی اپنانی چاہیے؟

سلمان طارق کا استدلال تھا کہ اگر کسی شخص کا سامنا ایسی صورتحال سے ہو جائے جہاں کہ مشتعل مظاہرین موجود ہوں تو انھیں چاہیے کہ وہ اس سے بچ کر نکل جائیں۔

‘عموماً آپ کو پتہ لگ جاتا ہے کہ آگے ہجوم موجود ہے۔ اس کیس میں ان کے ہاتھ میں ڈنڈے بھی تھے۔ ہو سکتا ہے کوئی اور اسلحہ بھی ہو۔ ہم نے دیکھا ہے ان احتجاجی مظاہروں میں انھوں نے پولیس تک کو پتھر اور انیٹیں ماری ہیں اور بے شمار پولیس والوں کو زخمی بھی کیا ہے۔’

سلمان طارق کا کہنا تھا کہ ہجوم کے لیے یہ مشکل نہیں ہوتا کہ وہ کسی عام رہگیر کو بھی نشانہ بنا ڈالیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں بہتر حکمتِ عملی یہی ہوتی ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو اس جگہ سے نکل جانا چاہیے۔

ان کے خیال میں ایسی صورتحال میں سادہ سا اصول یاد رکھنا ضروری ہے کہ ‘کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ ایسی صورتحال سے ان پیشہ وارانہ لوگوں کو نمٹنے دیں جو اس کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp