دباؤ میں آ کر فیصلے بدلنے والی حکومتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں


خبروں کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں معاہدہ ہو گیا ہے۔ حکومت نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا تھا تو سوال یہ ہے حکومت کیسے ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور اس قانون کے تحت؟ شدت پسند کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد مٹھی بھر اور پورے معاشرے کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ تشویش ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیں اور معاشرے میں اپنے وجود سے متعلق ایک خوف اور دہشت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے اسی طرح کی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتا ہے کہ یہاں شدت پسندی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔ قومی اور سیکولر ریاست کے تخیل کے مقابلے میں مذہبی حکومت کے تصور نے اکثریت کو اپنے سحر میں جکڑ لیا اور یوں آج تک پاکستان میں اٹھنے والی ہر شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتی ہے تاکہ اکثریت کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔

یہاں تک کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے مذہب ہی کو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، اور ریاست و عوام کے خلاف بر سر پیکار قوتوں کی مالی سرپرستی بھی مذہب کے نام پر ہی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک پوری معیشت وجود میں آ چکی ہے۔ بدقسمتی سے اس شدت پسندی کے باعث مسلمان معاشرے عام انسانی معاشروں سے پیچھے جاتے جا رہے ہیں، اس تنہائی کے سبب ہماری اپنی اصل شناخت گم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

ہم اپنے نصاب تعلیم کے ذریعے تنگ نظری کا بیج بوتے رہے، جس کا نتیجہ بہرحال تنگ نظری کی فصل کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ اب شدت پسندی کا یہ زہر ہمارے قومی وجود کی رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے۔ شدت پسندی کی اس فضا کو پروان چڑھانے اور پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی کے جہنم میں دھکیلنے میں سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا، جو آج دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑا کریڈٹ لینے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی میں ہماری سیاسی اور نام نہاد جمہوری حکومتیں ہمیشہ ہی تذبذب کا شکار رہی ہیں کیونکہ کسی نہ کسی طرح ان کے مفادات اس طبقے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، مثلاً ووٹ بینک اور اپنی مقبولیت برقرار رکھنا وغیرہ وغیرہ۔

ہمارا ماضی گواہ ہے جب بھی کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کو کسی مقصد کے خاطر بنایا گیا ہے اور یا لایا گیا ہے اس کے نتائج ہمیشہ ملک کے لئے خطرناک رہے ہیں ماضی میں سیاسی جماعت ایم کیو ایم ہو یا مذہبی انتہا پسند پاکستانی طالبان اور اب تحریک لبیک سب کے نتائج کو قوم نے بھگتنا ہوتا ہے۔ اس لیے تو ہم کہتے ہیں اپ وہ کام کرو جو آپ کا کام ہے یہ پارٹیاں اور گروپ بنانا چھوڑ دو۔ غیر فطری کاموں کے نتائج غلط ہی ہوتے ہیں۔

اب یہ جنگ محض نظریاتی دائروں کی جنگ نہیں، بلکہ مفادات اور اپنی اپنی بقا کی جنگ بن چکی ہے جس کی اتحادی اور مدمقابل قوتیں قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔ کسی کو بندوق تھمانا تو آسان ہے لیکن اس سے واپس لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور جب کوئی بیانیہ عقیدے کا حصہ بنا دیا جائے تو اسے یادداشتوں سے محو کروانا اور بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرد اسے اپنی زندگی کے اہم ترین مقصد اور مشن کے طور پر اپنا چکا ہوتا ہے۔

حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔ ماضی میں وفاقی حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ایک ’ضمنی‘ معاہدہ طے پایا گیا تھا۔ معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے پائیں گے ’۔ دونوں فریقین کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق‘ تحریک لبیک پاکستان کے جو لوگ فورتھ شیڈول پر ڈالے گئے ہیں ان کے نام نکال دیے جائیں گے، مزید یہ کہ 20 اپریل 2021 تک معاہدے کی روح کے منافی کوئی سرگرمی پر معاہدہ منسوخ سمجھا جائے گا۔

مذکورہ معاہدے پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے دستخط موجود ہیں جبکہ تحریک لبیک کی طرف سے ان کے شوریٰ کے نمائندگان غلام غوث بغدادی قادری رضوی، ڈاکٹر محمد شفیق امینی اور غلام عباس فیضی شامل ہیں۔ 12 اپریل کو وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے درمیان ہونے والی ملاقات کے چند گھنٹے بعد تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔

اس گرفتاری کے بعد ملک کی بڑے شاہراؤں پر تحریک لبیک کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کے پرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن مذہبی جماعتوں کے پریشر اور احتجاج کے بعد دوبارہ حکومت نے ان کے مطالبات مان لیے۔ اس معاہدے کی رو سے ان مذہبی سیاسی جماعت کے افراد کو رہا کیا جائے گا جو تھوڑ پوڑ اور پولیس کے افسران اور اہلکار کے خلاف تشدد اور اغوا میں ملوث تھے۔

یہ طے پایا ہے کہ پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو ملک بھیجنے کے حوالے سے قرارداد لائی جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کا تعین حکومت وقت اور پارلیمنٹ کا کام ہے یا کوئی بھی گروپ احتجاج کر کے اپنے مطالبات حکومت سے منوا سکتی ہے؟ ریاستی پالیسی سڑکوں پر نہیں بنتی اور نہ ہی ان پالیسیوں کے حوالے سے کوئی گروہ کسی طرح کا فیصلہ کر سکتا ہے، کوئی بھی حکومت اس طرح کے معاہدے نہیں کرتی۔ اب اپ باہر کی دنیا کو کیسے مطمئن کریں گے؟

مطلب حکومت کہیں پر نظر نہیں آ رہی۔ تنظیم کو شیڈول فور سے نکالا جائے گا۔ اگر اپ نے نے یہ سب کچھ کرنا ہی تھا تو پھر اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ اس حوالے سے مجھے پنجابی کا وہ محاورہ یاد آ رہا ہے جس میں سو جوتوں اور سو پیاز کا ذکر ملتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہزارہ کمیونٹی نے انصاف کے لئے انتہائی پرامن احتجاج کیا تھا تو پرائم منسٹر نے کہا تھا کہ یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ لیکن آج وہ لوگ جو اصل میں ریاست کو بلیک میل کر رہے ہیں حکومت نے ان کے اگے ہتھیار ڈال دے ہیں۔

حکومت واقعی بلیک میل ہو گئی ہے۔ اب اس سے کوئی بھی انتہا پسند فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اب مذہبی انتہا پسند مستقبل میں حکومت کو پریشر میں ڈالنے کے لئے مذہب کا کارڈ استعمال کر کے حکومت پر پریشر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کچھ شدت پسند کسی بھی وقت پورے ملک کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ اور یہ کسی کو جواب دہ بھی نہیں ہوتا سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں پر کھڑی ہے؟ عوام کی حفاظت کس کی ذمے داری ہے؟ جو دباؤ میں آ کر فیصلے بدل دیں وہ حکومتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں ہوائیں کرتی ہیں۔

Facebook Comments HS