بہشت کے دروازے پر


اک شور سا مچ گیا تھا چاروں اور، جیسے شام ڈھلے کے وقت بہت سے کوّے ہم آواز ہو کر چیخ و پکار مچا رہے ہوں! اس نے ایک حقارت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور بڑے مغرورانہ انداز میں مسکرایا
”ابھی یہ دروازہ کھلے گا۔ ۔ ۔ ۔ مگر حوریں مجھے لینے آئیں گی، اس لیے۔ ۔ ۔ اور تمہیں یہاں سے ہٹانے کے لیے دوزخ کے داروغہ کو بلایا جائے گا“

میرے مضطرب دل میں اُمید کی ایک بجھی بجھی سی چنگاری پھر سے سُلگ اٹھی کہ میں نہ سہی، وہ تو بہشت میں اندر جائے گا ہی۔ ۔ ۔ ۔ میری فریاد بھی اس کے ذریعے وہاں تک پہنچ جائے شاید، جہاں تک پہنچانے کے لیے میں اس لامتناہی سفر میں اُتر پڑی ہوں!

میں نے اپنے پُرزے اس کے پیروں میں بچھا دیے
”تم تو بہشت میں داخل ہو گے ہی۔ ۔ ۔ ۔ بس میری فریاد بھی ساتھ لیتے جانا۔ ۔ ۔ کسی حور یا فرشتے کے حوالے کر دینا، آگے میرے ربّ تک پہنچانے کے لیے“

اس نے فوراً اپنے پیر میرے پرُزوں سے پرے کرتے ہوئے سمیٹ لیے، جیسے برہمن اچھوت سے پرے ہٹتا ہے!
”میں اپنے تمام گناہ معاف کروا چکا ہوں۔ ۔ ۔ اب کسی عورت کا ذکر بھی اپنے ساتھ بہشت میں نہیں لے جا سکتا“

ایک متکبرانہ نگاہ مجھ پر ڈال کر وہ پلٹا اور اپنا تن سے جُدا سر بہشت کے دروازے سے ٹکراتے ہوئے اب کے اُس کا انداز اُس فاتح کا سا تھا جو مفتوح شہر کے دروازے پر کھڑا ہو!

”حورو! ۔ ۔ سُن رہی ہو! دروازہ کھولو۔ ۔ ۔ ۔ یہ میں ہوں۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا حقدار۔ ۔ ۔ ۔ میں نے ثواب جیت لیا ہے۔ ۔ ۔ آؤ آ کر دیکھو۔ ۔ ۔ میں نے گردن کٹا لی ہے۔ ۔ ۔ میرے گناہ دُھل چکے ہیں۔ ۔ ۔ آؤ۔ ۔ ۔ مجھے بہشت کے اندر لے چلو۔ ۔ ۔ ۔ حورو۔ ۔ ۔ ۔ فرشتو۔ ۔ ۔ سُن رہے ہو! ۔ ۔ “

دروازہ ہُنوز ساکت و جامد، حدِ نگاہ سے بھی اونچا، یوں کھڑا رہا جیسے دم نکلتے سانس جتنی جنبش کی بھی اجازت نہ ہو اُسے! اُس کی آواز بھی اُس سناّٹے تلے بلآخر دب گئی اور اُس کے لہولہان پُرزے، سارے کے سارے دروازے کی چوکھٹ کے باہر نڈہال ہو کر ایک ایک کر کے دوبارہ ڈھیر ہوتے چلے گئے۔ ایک طویل سکوت کے بعد اس کا سر اس کے پُرزوں پر سے ذرا سا لُڑھک کر ایک بار پھر میری طرف مُڑا۔

نفرت کے ساتھ تھک چکی آواز میں وہ مجھ پر غرّایا

“بہشت کا یہ دروازہ صرف تیری وجہ سے نہیں کھل رہا گنہگار عورت! صرف تیری وجہ سے۔ ۔ ۔ کہا تھا نا تجھے کہ بہشت عورت کے لیے نہیں ہے۔ ۔ ۔ بہشت صرف مجھ جیسے مومن کے لیے ہے جو تجھ جیسے گناہگاروں کا خاتمہ کرتا ہے۔ ۔ ۔ اُٹھ۔ ۔ ۔ اُٹھا اپنی فریاد کی گٹھری۔ ۔ ۔ ۔ واپس اسے پھینک دنیا کے کچرے میں، جہاں سے اُٹھا لائی ہے تو۔ ۔ ۔ ۔ یا دوزخ کے دروازے پر جا کر بیٹھ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہاں اپنی باری کا انتظار کر۔ ۔ ۔ ۔ “

میں نے التجا آمیز نظروں سے اسے دیکھا
”اس گٹھری میں صرف میری فریاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ جو لوگ اُس دھماکے میں مارے گئے ہیں نا۔ ۔ ۔ اُن کی ماؤں کی فریاد بھی اسی میں بھر لائی ہوں۔ ۔ ۔ وہ بدنصیب پیچھے زندہ رہ گئی ہیں، اس لیے آ نہیں سکتی تھیں“

اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں نے اُس کے سامنے گٹھری کھولنا چاہی مگر اُس نے نفرت سے منہ پھیر لیا
”نہیں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ میرے سامنے اتنی ساری عورتوں کی گٹھری کھولنے کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ “

میں نے مایوس ہو کر فریاد بھری گٹھری واپس سے لپیٹ لی اور اپنے عورت پنے پر شرمندگی کے ساتھ بہشت کے بند پڑے دروازے سے لوٹ جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ میں پلٹ چکی تھی اور وہ میرے عقب میں بہشت کے بند پڑے دروازے پر اب ایک نئے یقین کے ساتھ پھر سے پکار رہا تھا۔

”حورو! ۔ ۔ فرشتو! ۔ ۔ مبارک ہو۔ ۔ ۔ عورت جا چکی ہے۔ ۔ ۔ اب صرف میں کھڑا ہوں دروازے پر۔ ۔ ۔ اب کھول دو دروازہ مجھ پر۔ ۔ ۔ ۔ یقین کرو۔ ۔ ۔ ۔ اب صرف میں ہوں۔ ۔ ۔ صرف میں“

میں بھی اسی یقین کے ساتھ کہ میرے پیچھے بہشت کا دروازہ اُس کے لیے کھل ہی جائے گا، پیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر پُل صراط کے پہلے موڑ کی طرف مڑی ہی تھی کہ پیچھے سے آتی آواز پر ٹھٹک کر ٹھہر گئی۔ کسی نے شاید مجھے ہی مخاطب کیا تھا، بھر آئے ہوئے بادلوں کی سی بھاری بھاری سی گرج آواز میں لیے ہوئے

”یہاں کوئی ماں آئی ہوئی ہے کیا؟ “
پلٹ کر دیکھا۔ وہ پریشان اور چُپ سا، میری ہی طرف اُلجھی نظروں سے دیکھ رہا تھا

”تم نے پکارا مجھے؟ “ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔ اُس نے اُسی حقارت کے ساتھ انکار میں صرف گردن ہلا دی۔ اگلے لمحے بدستور بند پڑے دروازے کے اندر کی جانب سے پھر وہی گرج سی گونجی
”یہاں کوئی ماں فریاد لائی ہے کیا؟ “

ایک میں ہی تو ماں تھی وہاں! مجھے ہی پکارا جا رہا ہے! ۔ ۔ یقیناً مجھے ہی! مگر دروازے کے باہر تنا کھڑا وہ، اب بھی میرے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا تھا اور میں دروازے کی طرف بے اختیار بڑھتے بڑھتے، دروازے سے کچھ فاصلے پر سہم کر ٹھہر گئی۔ اندر سے پھر آواز آئی

”دروازے کے قریب آؤ عورت“
”اسی لیے تو قریب نہیں آ رہی کہ میں عورت ہوں! ”

میں بدستور خود پر گڑی اُس کی نگاہوں سے نگاہیں چُرائے ہوئے تھی
”معاملہ عورت اور مرد کا نہیں ہے اس وقت۔ ۔ ۔ صرف ایک ماں کی فریاد سننے کا حکم ہے۔ ۔ ۔ اس لیے کہ تمہاری سسکیوں کی آواز بہت دور تک جا رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازے کے قریب آؤ۔ ۔ ۔ اور اپنی فریاد بیان کرو“

اس بار بند پڑے دروازے کے قریب ہوئی تو یوں لگا جیسے میں اپنی مر چکی ماں کے سینے کے قریب آ گئی ہوں! میری ماں جو بچپن میں ذرا زرا سی چوٹ پر مجھے سینے سے لگا لیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ بلکل اسی طرح دل چاہا کہ دروازے سے لپٹ جاؤں۔ دروازے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دوں۔ اتنی آہ و بکا کروں کہ دروازہ پگھل جائے اور میں اُس میں جذب ہو جاؤں!

جس طرح بچپن میں سسک سسک کر ماں کو اپنی چوٹ دکھایا کرتی تھی، اُسی طرح بہشت کے بند دروازے کی دہلیز پر اپنا زخمی ہو چکا دل رکھ دوں اور دروازے کے دوسری طرف جو بھی ہے اُسے کہوں کہ بس یہی آہ و بکا فریاد ہے میری۔ ۔ ۔ بس یہی آہ و بکا پہنچا دو میرے ربّ کی بارگاہ میں۔

مگر ابھی تک سہمی ہوئی تھی میں۔ وہ اب بھی میرے عقب میں اِستادہ تھا اور اُس کی نظریں مجھے اپنی پشت پر اب بھی گڑی ہوں محسوس ہو رہی تھیں، یوں جیسے وہ کسی بھی لمحے مجھے پشت سے گھسیٹ کر اس دروازے سے جُدا کر سکتا ہے!

”فریاد کرو“
اندر سے آنے والی گرج میں اب حکم تھا اور میری آواز میں سسکی

”جناب! میں خودکُش دھماکے میں کئی ٹکڑوں میں کٹ کر جان سے جا چکی ماں ہوں۔ ۔ ۔ ۔ میرے چار چھوٹے چھوٹے بچّے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
”معلوم ہے۔ کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے۔ ۔ ۔ صرف فریاد کرو“ گرج میں مزید گرج اُتر آئی۔

”میرے بچے مجھے بکھرے پڑے انسانی اعضاء میں تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ “
”یہ بھی علم میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ صرف فریاد کرو۔ ۔ ۔ ماں کی فریاد سننے کا حکم ہے“

”خود کُش دھماکے کے اُس چوراہے پر کئی ماؤں کے بیٹے لہولہان بکھرے پڑے ہیں جناب! اور اُن کی ماؤں کی فریاد گٹھری میں بھر لائی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ مائیں برس ہا برس لہوُ پسینہ۔ ۔ ۔ جسم و جاں اور رت جگے بلو بلو کر۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے اولاد کو جوان کرتی ہیں جناب! یہ کیا کہ ماؤں کے پیروں تلے کا بہشت ابھی مکمل ہرا بھرا ہی نہ ہو کہ کوئی بھی آکر اُسے جلا دے! فریاد ہے ان سب کی میرے ربّ سے جناب!“

”ماؤں کی فریاد کی گٹھری کھول دو“ اندر سے آواز آئی۔
زخمی، کٹے ہاتھوں کی اُنگلیوں کو سمیٹ کر میں نے گٹھری کھول دی۔ گٹھری میں بھری ماؤں کی فریاد سسکیوں میں بدل گئی اور سسکیاں گٹھری سے نکل نکل کر بہشت کے بند پڑے دروازے سے یوں لپٹتی گئیں، جیسے مسلسل برستی برسات کے قطرے در قطرے!

اچانک وہ میرے عقب سے چیخا
”دیکھا جناب! دیکھا! ۔ ۔ ۔ ان میں عیسائیوں اور ہندوؤں کی بھی مائیں ہیں! ان کا خاتمہ عین ثواب ہے اور خاتمہ کرنے والے پر بہشت کا دروازہ کھلنا چاہیے جناب!“

ساتھ ہی وہ اسی مالکانہ اختیار کے ساتھ اپنے کٹے ہاتھوں سے دروازے پر پھسلتی زار و قطار سسکیوں کو پونچھنے ہی لگا تھا کہ اندر سے آتی آواز اُس پر گرجی
”رک جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ”

وہ ساکت سا ہو کر ٹھہر کر رہ گیا۔ آواز کی گرج پر گو کہ اس کی طرح میں بھی سہم سہم سی جاتی تھی مگر اب وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا، جیسے میں اس سے نظریں چراتی رہی تھی۔

”تم کون ہوتے ہو ماؤں کی فریاد کا مذہب چننے والے!“
”میں۔ ۔ ۔ ۔ ! “ وہ حیرت اور بے یقینی سے یوں چونکا جیسے حیران ہو کہ اسے کیسے نہیں پہچانا جا رہا!

”آپ نہیں جانتے جناب! کہ میں کون ہوں!“
”معلوم ہے اسی دھماکے کے خود کُش بمبار ہو“ اندر سے بے تاثر آواز میں جواب آیا

”پھر بھی آپ مجھے قریب آنے سے روک رہے ہیں! دروازہ کھولیے جناب اور مجھے اندر آنے دیجیے۔ ۔ ۔ حوریں کب سے میری منتظر ہیں اور میں کب سے باہر کھڑا ہوں“
”حوروں کو تمہارے لیے قبولیت دینے کی اجازت نہیں دی گئی“

”کیسے قبولیت کی اجازت نہیں دی گئی! میں سر کٹا چکا ہوں۔ ۔ ۔ یہ رہا میرا سر۔ ۔ ۔ ۔ میں پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ یہ رہے میرے ٹکڑے۔ ۔ ۔ ۔ ”
وہ دیوانہ وار اپنا سر اور ٹکڑے اُٹھا اُٹھا کر بہشت کے بند دروازے کے سامنے لہراتا جاتا تھا اور چیختا جاتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah