بہشت کے دروازے پر


”اپنا سر اور ٹکڑے واپس اُٹھا لو۔ ۔ ۔ سر حوروں اور بہشت کے لیے نہیں کٹایا جاتا۔ ۔ ۔ سر صرف راہِ حق میں کٹتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ راہِ حق بھی وہ جو کسی بے خبر اور بے گناہ پر موت بن کر نہیں ٹوٹتی۔ ۔ ۔ بلکہ سینہ تان کر ظلم اور ناحق کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اُس مقام پر سر کٹتا ہے۔ ۔ ۔ ورنہ جان جس کے قبضے میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ اسے کسی کی جان کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ جو تم لائے ہو۔ ۔ ۔ ۔ یہ گندگی کا ڈھیر ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور کچھ بھی نہیں“

اس کی خون آلود آنکھوں میں آنسوؤں کا سا پانی اُترنے لگا۔ وہ مزید کچھ بول نہیں پا رہا تھا اب۔ ۔ ۔ گو کہ بار بار اپنے پھٹے ہونٹوں کو کھولتا بھی تھا۔ بس ایک گھُٹی گھُٹی سی آواز نکلی اس کے اندر سے
”پھر۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ؟ “

بہشت کے بند پڑے دروازے پر جیسے انگنت گھنے بادل گرجتے ہوئے اترتے چلے آ رہے تھے

”پھر یہ کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فریاد کا معاملہ بڑا ہی سخت ہے لڑکے! ۔ ۔ کوئی عورت اور مرد نہیں ہے فریاد کے معاملے میں۔ ۔ ۔ فریاد کے معاملے میں کوئی مذہب بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ بہشت و دوزخ سے بھی پہلے۔ ۔ ۔ ہر چیز فریاد کی چھلنی سے گزرتی ہے۔ ۔ ۔ بڑی رفتار ہے فریاد کی۔ ۔ ۔ ۔ وہاں تک پہنچتی ہے سیدھی، جہاں فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں۔ ۔ ۔ اُٹھا اپنے پُرزے۔ ۔ ۔ اور لوٹ جا۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ایک ایک ماں کی فریاد کی چھلنی سے گزرے گا تیرا معاملہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حوریں اور فرشتے سب ہی فریاد کے سامنے بے بس ہیں۔ ۔ ۔ اُٹھا اپنے پُرزے اور لوٹ جا“

اندر سے آتی آواز میں سرد مہری اُتر آئی تھی اور وہ شکست زدہ سا جوں جوں اپنے پُرزے سمیٹتا جاتا تھا، پُرزے مزید پُرزے ہو کر اس کے ہاتھوں سے نکلتے اور بکھرتے جاتے تھے۔

ان ہی بکھرتے سمٹتے پرزوں کے بیچ میں نے دیکھا، اس کی اپنی ماں کی سسکیاں بھی پڑی سسک رہی تھیں! مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی ماں کی سسکیوں کو سمیٹا اور ساتھ لائی ہوئی فریاد کی پوٹلی پر رکھ دیا۔

وہ اپنے پُرزے سمیٹ کر پل صراط کی بال سے بھی باریک اور تلوار کی دھار سے بھی تیز پگڈنڈی کی طرف مڑ چکا تھا اور اس کی ماں کی سسکیاں بہشت کے دروازے سے لپٹ لپٹ کر سسک رہی تھیں ”میں نے اپنی کوکھ سے انسان جنا تھا جناب! ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کب اسے انسان کھا گئے اور پتہ نہیں کب وہ انسان نہ رہا!“

(بشکریہ : دنیا زاد)

Jan 2, 2017 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah