امتحانات کا التوا: پڑھائی ضروری ہے مگر زندگی سے زیادہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیمبرج کے امتحانات 26 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے 26 اپریل اے لیول کے، 10 مئی سے او لیول اور عید کے بعد بورڈ کے امتحانات کا شیڈول جاری ہوا ہے۔ جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن نارمل حالات میں۔

پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ سے ہم نارمل زندگی نہیں گزار رہے ہیں۔ سکول تو پچھلے ایک سال میں شاید تین ماہ بھی نہیں کھلے۔ جو کھلے ہیں ان میں بھی کبھی کسی کلاس کو دو ہفتے کے لیے چھٹی دے گئی تو کبھی کسی کلاس کو کیونکہ کوئی نا کوئی کرونا کا کیس نکل آتا تھا۔

اس لیے زیادہ انحصار آن لائن کلاسز پر رہا۔ گو کہ نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے کے مصداق کچھ نا کچھ تو بچوں نے پڑھا ہے لیکن کلاس کی پڑھائی کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ لیکن سسٹم چلایا جا رہا تھا۔ جہاں بچوں اور اساتذہ کے لیے مشکل ترین تھا وہاں والدین کے لیے بھی آزمائش سے کم نہیں۔

لیکن اب کرونا تیسری لہر بہت منہ زور ہے پچھلے کئی ہفتوں سے یومیہ سو سے زائد افراد کی جان لے رہا ہے۔ اور اس مرتبہ پرانی لہر کے برخلاف یہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی مہلک ثابت ہو رہا ہے جو ایک تشویشناک امر ہے۔ ہمارے اردگرد دوست احباب، رشتے داروں اور جاننے والوں میں بہت سے گھرانے اس وبا کی لپیٹ میں ہیں۔

اسی طرح بچوں کے دوستوں اور اساتذہ میں سے بھی کئی فیمیلز کرونا سے متاثر ہیں۔

اب کئی بچے ایسے بھی ہیں جو کرونا میں مبتلا ہیں یا ان کے گھر والوں کو یہ وبا جکڑے بیٹھی ہے اور اب تو آس پاس کئی لوگوں کی اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے جو بچوں کے ذہنوں پر حاوی ہے۔ ان حالات میں کئی بچے تو امتحان میں بیٹھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔

ایک خوف کی فضا ہے۔ ہر بچہ مختلف طرح سے پریشان ہے۔ کسی کے گھر والوں کو کرونا ہے یا وہ خود کرونا میں مبتلا ہے۔ پورا سال جیسے پڑھائی ہوئی ہے اس سے تو آپ سب با خبر ہیں۔

سکول بند ہیں پھر بچے اکیڈمی جانے لگے تو وہ بھی بند ہو گئیں۔ پھر اساتذہ کے گھروں میں جانا شروع کر دیا۔ پھر ہوا یہ کہ کئی اساتذہ بھی اس وبا کی لپیٹ میں آ گئے اور کئی تو جان سے بھی چلے گئے۔ جس سے ایک تو جو بچے ہیلپ لینے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے ان کا کرائسس بڑھ گیا۔ دوسری طرف استاد کی موت کا صدمہ بھی ایک ٹراما ہے۔

کسی اپنے کسی دوست یا استاد کی موت یا کریٹیکل حالت انسان کے ذہن کو ماؤف کرنے کے لیے کافی ہے۔

بہت سے بچے ایسے ہیں جن کے باہر کی یونیورسٹیوں میں داخلے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اگست میں اپنا رزلٹ دکھا کر کلاسز سٹارٹ کرنی ہیں وہ کس طرح حالات بہتر ہونے کا انتظار کر کے اکتوبر نومبر میں امتحان دے سکتے ہیں۔

اس لیے میں بچوں کے اس مطالبے کی کہ امتحانات کینسل کیے جائیں کی بھرپور حمایت کرتی ہوں اور ارباب اختیار سے درخواست کرتی ہوں کہ جس طرح انگلینڈ، انڈیا، سعودی عرب بنگلہ دیش، یو اے ای کے علاوہ اور کئی ممالک نے اپنے طالب علموں کی حفاظت کے پیش نظر امتحانات منسوخ کیے ہیں اسی طرح پاکستان کے بچوں کو بھی استثنا دیا جائے۔ مقصد تو پڑھنا ہے۔ ان آخری لمحات تک جتنا پڑھنا تھا پڑھ چکے۔ زندگی ضروری ہے۔ ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے لینے میں کوئی حرج نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *