گداگر مافیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ سیاست سے زیادہ مسائل پہ بات کروں سیاست پہ بات کرنے کے لئے اور بہت سے قابل لوگ ہیں جو زیادہ بہتر اور اچھے انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں کراچی کی شہری ہونے کے ناتے کراچی کے مسائل پہ بات کرتی ہوں۔ شہر کراچی اس وقت بہت سے مسائل کا شکار ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ان مسائل میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے کمی واقع نہیں ہوئی اور اس کی سب سے بڑی وجہ انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔

جیسا کہ میرے کالم کے عنوان سے ہی آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ آج میں کس موضوع پہ بات کرنے لگی ہوں رمضان کے بابرکت مہینے کی آمد کے ساتھ ہی کراچی کے شہریوں کو دو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک یہ کہ چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دوسری پریشانی یہ ہوتی ہے کہ شہر بھر میں جگہ جگہ پیشہ ور بھکاری نظر آنے لگتے ہیں جو عوام کو باقاعدہ زد و کوب کر کے ان سے ہزاروں لاکھوں لاکھوں روپے اینٹھ لیتے ہیں۔ پاکستانی عوام ویسے بھی بہت رحمدل ہے لہذا عوام اپنی رحمدلی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان بھکاریوں کی مدد کرتے ہیں مگر ان کی رحمدلی پیشہ ور بھکاریوں کے فروغ اور گداگر مافیا کے مضبوط سے مضبوط تر ہونے کا باعث بن رہی ہے۔

ایک مستند اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہری رمضان اور قبل از رمضان پیشہ ور بھکاریوں کو مجموعی طور پہ پچاس لاکھ سے زائد روپے یومیہ دیتے ہیں ایسے میں وہ اس شہر کو چھوڑ کر کیسے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئے روز ان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ پہلے یہ بھکاری صرف چورنگی اور مین روڈز پہ ہوتے تھے اب ان کا نیٹ ورک گلی کوچوں تک پھیل چکا ہے رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ان بھکاریوں میں زیادہ تر غیر مقامی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان بھکاریوں میں سے جو چھوٹے بچے ہیں ان میں سے بیشتر کے مغوی ہونے کا شبہ ہے یہ مافیا ان بچوں کو معذور بنا کر استعمال کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مافیا کا قلع قمع کیسے کیا جائے؟ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے یہ بھکاری جو اب گلی کوچوں تک پہنچ چکے ہیں ان سے عوام کیسے چھٹکارا حاصل کرے؟ سب سے پہلے تو خود عوام کو ان بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی کسی کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے اور رمضان میں تو نیکی کرنے کا کئی گنا زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے مگر ان پیشہ ور بھکاریوں کو پیسے دے کر آپ ان کی مدد نہیں کرتے بلکہ انہیں مزید ناکارہ بناتے ہیں لہذا عوام کو چاہیے کہ یہ جاننے کی حتی المقدور کوشش کرے کہ کون حقدار ہے اور اسی کی مدد کرے۔

دوسرا اور اہم کام انتظامیہ کا ہے انتظامیہ چاہے تو ان پیشہ ور بھکاریوں سے عوام کو نجات دلا سکتی ہے۔ گزشتہ سال کے آخری مہینے میں سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گداگر مافیا کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے پولیس کو بچوں سے بھیک منگوانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا مگر پولیس تاحال کوئی خاطر خواہ کارروائی نہ کرسکی اگر پولیس عدالت کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے محض اجلاسوں اور بیانات کے بجائے عملی کارروائی کرے تو مجھے یقین ہے کہ اس مافیا کا زور ضرور ٹوٹے گا اور عوام کو ان پیشہ ور بھکاریوں سے چھٹکارا ملے گا کیونکہ یہ کام ان ہی کا ہے۔ انتظامیہ کے توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہی آج یہ مسئلہ اتنا بڑا مسئلہ بن گیا ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے عوام کو گداگر مافیا کے چنگل سے بچائیں تاکہ عوام کا انتظامیہ پہ اعتماد بحال ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *