صدقے کی اہمیت ’خیرات اور زکوٰۃ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کہا جاتا ہے کہ بے شک مومن قیامت تک اپنے صدقے کے سایہ میں ہو گا۔

مسلمان ہونے کے ناتے یہ نہ صرف ہمارا ایمان ہے بلکہ عام مشاہدہ اور تجربہ بھی ہے کہ جب ہم اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ’اپنی نیت صاف رکھتے ہیں اور دکھاوا نہیں کرتے تب اللہ تعالٰی اس نیکی کو کئی گنا بڑھا کر ہمیں لوٹا دیتے ہیں۔

اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ”اے ایمان والو اللہ کی راہ میں ہمارے دیے ہوئے میں سے خرچ کرو“

ہم انسانوں کی اوقات کچھ نہیں ’نہ ہی ہمارے بس میں کچھ ہے۔ ہم پر ساری عنایات اس رب کی ہیں جو اس جہان کا مالک ہے۔ یہ اسی ذات کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں دینے والوں میں سے بنایا ہے لہذٰا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس عطا کردہ رزق سے غریبوں‘ مسکینوں ’لاچار و مجبور‘ ضرورت مندوں ’یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کریں۔ ان کی ضروریات کا اس طرح خیال کریں جس طرح اللہ سبحان و تعالٰی ہماری ضروریات کا خیال اور ہمارے گناہوں کا پردہ رکھتے ہیں۔

اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کی قدم بہ قدم رہنمائی کے لئے قرآن پاک اتارا اور اس میں کئی بار صدقہ و خیرات کی فضیلت و اہمیت واضح الفاظ میں بیان کی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے فوائد دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں بیان کیے ہیں۔

اسلام انتہائی سادہ ’آسان‘ عام الفہم اور کسی بھی طرح کے جبر سے پاک مذہب ہے جو ہمیں کسی مشکل میں نہیں ڈالتا۔ چھوٹی اور معمولی نیکیوں کا اتنا اجر رکھا گیا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس کے رب نے اس کے لئے کس قدر آسانیاں رکھی ہیں۔ لوٹنے کی کوئی شرط نہیں رکھی جب مرضی جہاں مرضی سے واپس لوٹ آؤ۔ وہ ذات ہماری منتظر رہتی ہے اور فوراً گلے لگا لیتی ہے اور تمام گناہ بخش دیتی ہے وہ عظیم و کریم ذات بشرط یہ کہ دل اور نیت صاف ہو۔

بس ہماری نیت اور سوچ صاف ہونی چاہیے اور کسی کی مدد احسان جتا کر یا دکھاوا کر کے نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ حکم تو یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو۔

صدقہ کے معنی و مفہوم کافی وسیع ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غرباء ’مساکین‘ یتیموں کی بھلائی کے لئے خرچ کرنا۔

اب صدقہ کی تین اقسام ہیں۔ فرض جیسے زکوٰۃ ’واجب جیسے نذر مانا ہوا صدقہ اور نفل جیسے تمام خیروبھلائی وغیرہ کے کاموں میں دیا گیا صدقہ۔

سورۃ بقرہ میں اللہ تعالٰی نے بڑے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ

” جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑا کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے“ ۔

عام طور پر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر اللہ تعالی نے مالدار لوگوں کی طرح ہمیں عطا کیا ہوتا تو ہم بھی ان لوگوں کی طرح بانٹتے۔ یہاں یہ وضاحت لازمی ہے کہ صدقہ و خیرات صرف مال کا نہیں بلکہ ہمارے پیارے بنی ﷺ نے فرمایا ”سبحان اللہ کہنا ’بھلائی کا سوچنا‘ حکم دینا ’برائی سے خود کو اور دوسروں کو روکنا بھی صدقہ ہے“ کسی کی مدد کرنا‘ پریشانی دور کر دینا ’اپنا علم بانٹ دینا حتٰی کہ بے لوث خدمت کرنا بھی صدقے کے زمرے میں آتا ہے۔

حضور پاک ﷺ نے فرمایا ”کل معروف صدقہ یعنی ہر بھلائی صدقہ ہے“ یعنی اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو خرچ کر کے بھی ہم اجر و ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔

صدقہ اللہ تعالٰی کے غصہ کو کم کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔

آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ان میں ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال کرنا چاہیے کہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ اکثر ہم مانگنے والوں کو جھڑک دیتے ہیں یا گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے کئی باتیں سنا دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر اپنا کرم کیا ہے۔ اس کے دیے سے کسی کو دے دینا ہمارے رزق کو ہرگز کم نہیں کرے گا۔ مانگنے والا مستحق ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کرنے والے ہم نہیں ہیں۔ بے شک اللہ دلوں اور نیتوں کا حال جانتا ہے۔

بھوک افلاس اس قدر بڑھ چکی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ چوری چکاری یا غلط ذرائع سے کمانے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ پیٹ کا ایندھن تو بھرنا ہوتا ہے۔ یا پھر حالات سے تنگ آ کر خودکشی کرلیتے ہیں۔

غریب کے بچے اسکول نہیں جا پاتے کیونکہ چھوٹی سی عمر میں دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ تن پر کپڑا نہیں ’پاؤں میں پہننے کو جوتا نہیں‘ سر پر چھت نہیں لیکن وہ پھر بھی شکوہ نہیں کرتے جبکہ ہم میں سے کئی لوگ اے سی والے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر پر آسائیش زندگی گزارتے ہوئے بھی نہ شکری کرتے ہیں۔

ہمیں اللہ تعالی کی بے شمار عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے حکم سے اور اپنے فرض سے غافل نہیں ہونا چائیے۔ بلکہ ہمیں لوگوں کی مدد کرنی چاہیے کسی کو پڑھا دینا ’اس کے جسم کو کپڑوں سے ڈھک دینا بھی ہمارے جسم اور مال کی زکوٰۃ میں شمار ہوتا ہے اور کسی کی بے لوث مدد کر کے جو دعائیں ملتی ہیں ان کا اجر و اثر بے شمار ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ نہ جانے کون سی اور کس کی دعا کام کر جائے اور ہمارے گناہ بخش دیے جائیں اور ہمیں جنت کا حق دار بنا دیا جائے۔

نیکی کرنے کے لئے ہمیں کسی خاص وقت یا مہینے کا انتطار نہیں کرنا چاہیے ہمیں روزانہ اپنے دن کا آغاز صدقہ و خیرات سے کرنا چاہیے اور اسے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا حصہ بنانا چاہیے۔

حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجۂ اکریم کا فرمان ہے ”جس دن تم اپنے دن کا آغاز صدقے سے کرتے ہو اس دن تمھاری کوئی دعا رد نہیں کی جائے گی اور اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے“

ایک روایت ہے کہ مرنے کے بعد لوگ واپس اس دنیا میں آنا چاہیں گے اس لئے نہیں کہ وہ اپنی نماز پڑھ سکیں یا روزے رکھ سکیں بلکہ اس لئے کہ وہ صدقہ و خیرات کر سکیں۔ کیونکہ حساب کتاب کے وقت ان کو اندازہ ہو گا کہ صدقہ و خیرات کے کتنے فوائد ہیں اور تب وہ پچھتائیں گے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صدقہ و خیرات کی اہمیت کو سمجھنے ’نیک اور بھلائی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دکھاوے اور احسان جتانے والے عذاب سے بچائیں اور ہماری چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو منظور فرمائیں اور ہر مسلمان کی حقیقی اور آخری منزل کو آسان کریں۔

چونکہ ہمارے ملک میں خیرات اور زکوٰۃ کا باقاعدہ کلچر بن چکا ہے یہاں بہت سارے ادارے کام کر رہے ہیں جن کے فلاحی کاموں اور کارناموں سے ہم لوگ واقف ہیں۔ یہ فلاحی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں اور ملک کے ہر کونے میں نظر آتے ہیں۔

ہم اپنے صدقات ان اداروں میں بھی جمع کروا سکتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد بھی ان لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا ہے جو کسی نہ کسی طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں اور مدد کے مستحق ہیں۔

یہاں بیروزگاری میں اضافے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ بھی مشکلات میں آ چکا ہے۔ ہمیں اپنے قرب و جوار میں ایسے لوگوں تک پہنچ کر خاموشی سے ان کی امداد کرنی چاہیے تاکہ ان کا وقار مجروح نہ ہو اور وہ اس کڑی آزمائش کی گھڑی سے گزر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *