پشاور روڈ راولپنڈی پر ٹریفک کا دباؤ اور اس کا قابل عمل حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راولپنڈی میں کچہری چوک سے پشاور روڈ شروع ہوتی ہے اور یہیں سے اس پر جی ٹی روڈ راشد منہاس روڈ ( میو روڈ ) اولڈ ایئرپورٹ روڈ اڈیالہ روڈ اور چکلالہ و ملحقہ علاقوں کی ٹریفک کی یلغار شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ آگے بڑھیں تو پی سی چوک پر لال کرتی کی ٹریفک بھی اس میں زم ہو جاتی ہے۔ جی ایچ کیو چوک کے پار ہو لیں تو مری روڈ سے ٹریفک کا بڑا حجم اس میں شامل ہوتا ہے۔ جی پی او چوک کراس کریں تو راجہ بازار اور گوالمنڈی سے آنے والی ٹریفک آ ملتی ہے۔

اس کے بعد عابد مجید روڈ سے ٹنچ بھاٹہ کی ٹریفک اور رینج روڈ سے آنے والی ٹریفک اس میں سما جاتی ہے۔ یہاں پہنچتے ٹریفک کا حجم اتنا بڑھتا ہے کہ ٹریفک کی روانی متاثر ہونے لگتی ہے جبکہ اگلے سگنل سے ویسٹریج والی ٹریفک بھی آ ملتی ہے۔ پشاور روڈ پر گزشتہ چند برسوں سے ٹریفک کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہاں سے گزرنا محال ہے۔ خاص طور پر رش کے اوقات میں ایک ایک سگنل پر دوسری یا تیسری سبز بتی پر چوراہے سے گزرنا ممکن ہوتا ہے اور چوراہوں کا درمیانی فاصلہ بھی کم ہے ، دو تین کلومیٹر کی مسافت بیس پچیس منٹ میں طے ہوتی ہے اور ذہنی دباؤ بھی سہنا پڑتا ہے۔

متعدد بار سڑک کی چوڑائی میں اضافہ کرنے کے بعد موجودہ حالت تک پہنچی ہے مگر ٹریفک کا حجم ہے کہ قابو میں نہیں آ رہا اور نہ ہی مزید چوڑائی کے لئے سڑک میں گنجائش ہے۔ ٹریفک میں روز افزوں اضافہ کے سبب بہت جلد ٹریفک کا نظام معطل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ ان چھ سگنلز کی جگہ فلائی اوورز کی تعمیر کی جائے۔ چھ فلائی اوورز کی تعمیر پر زرکثیر برداشت کرنا بھی مشکل ہے نیز فلائی اوورز کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے اور گنجان آباد ہونے کے سبب ان جگہوں پر کشادگی مہیا نہیں ہو سکے گی ، اس لیے ان کی تعمیر سود مند نہیں ہو گی۔

اس مسئلے کا قابل عمل حل یہ ہے کہ پشاور روڈ کے دو رویہ پی سی چوک سے پہلے دو لینز کو اوور ہیڈ برج کی شکل میں اوپر اٹھایا جائے اور چیئرنگ کراس سگنل کے بعد سڑک سے ملا دیا جائے۔ یہ کیرج وے تعمیر کے اعتبار سے لائٹ برج ہو گا ، صرف کاروں کے لئے۔ شروع سے آخر تک اس میں اخراج کی سہولت نہیں ہو گی البتہ دو مقامات سے ٹریفک اس میں داخل ہو سکے گی۔ درمیان میں داخلے کے لئے پہلا مقام ہو گا جی ایچ کیو چوک کے بعد تاکہ مری روڈ سے آنے والے اس سہولت سے مستفید ہو سکیں اور دوسرا داخلے کا مقام عابد مجید روڈ کے بعد ہو گا۔

اسی طرح الٹی سمت میں چیئرنگ کراس سے پہلے دو لینز کو اٹھا کر کچہری چوک سے پہلے سڑک سے ملا دیا جائے اور درمیان میں ریس کورس کے بعد اور جی ایچ کیو چوک کے بعد گاڑیوں کو داخلہ دیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ کیرج وے لائیٹ برج کی تعمیری تفصیلات کے مطابق ہو گا تاکہ تعمیری لاگت کم آئے اور صرف کاروں کے استعمال کے لئے ہو گا۔ ہیوی ٹریفک بدستور نیچے والی سڑک استعمال کرتی رہے گی۔ دیکھا جائے تو ٹریفک کے ہجوم میں زیادہ تعداد کاروں کی ہوتی ہے جو اوپر سے سہولت کے ساتھ گزر جائیں گی اور باقی ماندہ ٹریفک کے لئے نیچے والی سڑک پر کشادگی پیدا ہو جائے گی۔ اس طرح کم لاگت کے منصوبے سے پشاور روڈ کی ٹریفک میں روانی آ جائے گی۔ اگر ماہرین اس منصوبے کو تکنیکی اعتبار سے قابل عمل پائیں تو اس پر جلد کام شروع کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *