انڈیا میں کورونا بحران: وہ تصاویر جو کووڈ 19 کی اس خطرناک لہر کو بیان کرتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


A group of medical workers in full PPE hug each other.

Reuters

انڈیا میں گذشتہ چند روز کے دوران کووڈ 19 کے نئے متاثرین اور اموات میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک بھر کے ہسپتالوں میں نئی مریضوں کو جگہ ملنا مشکل ہوگیا ہے اور اس کے علاوہ آکسیجن اور بیڈز کی قلت نے پریشانی بڑھا دی ہے۔

آکسیجن کی سہولت والی ایمبولینس گاڑیاں کم تعداد میں ہیں جبکہ اگر کسی خاندان میں کووڈ 19 کا مثبت کیس سامنے آتا ہے تو اسے بیڈ ملنے پر گھر سے ہسپتال لے جانا ہی ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔

دلی میں صورتحال خاص کر سنگین ہے۔ یہاں لوگ محض اس وجہ سے بھی دم توڑ رہے ہیں کہ آکسیجن کی فراہمی محدود ہے۔

ہسپتالوں میں بیڈ خالی نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کو واپس گھر بھیجا جا رہا ہے۔ طبی عملہ روزانہ کی بنیادوں پر اموات دیکھ کر تھک چکا ہے۔

کورونا وائرس، انڈیا

REUTERS/Danish Siddiqui
انڈیا میں کووڈ 19 کے ریکارڈ نئے متاثرین نے ملک میں غم کا ماحول قائم کر دیا ہے
کورونا، انڈیا، عالمی وبا

EPA
خیال ہے کہ دلی میں ملک کا بہترین صحت کا نظام موجود ہے مگر اس پر زیادہ بوجھ ہونے کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 99 فیصد انتہائی نگہداشت کے بیڈز بھر چکے ہیں
انڈیا، دلی، پاکستان، کووڈ 19

Getty Images
ہسپتالوں میں بیڈز خالی نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ سڑکوں پر ہی زیر علاج دکھائی دے رہے ہیں

شمشان گھاٹوں میں بھی ہجوم

ملک بھر کے شمشان گھاٹوں سے موصول ہونے والی تصاویر کافی دل خراش ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

پاکستانی صارفین کی انڈیا کے لیے نیک تمنائیں: ’مارے دل صحیح جگہ پر ہیں‘

‘بستر یا آکسیجن نہیں دے سکتے تو لاشوں کے لیے سٹریچر تو دو‘

یہاں مرنے والوں اور ان کے لواحقین کے ہجوم کی وجہ سے جگہ کم پڑنے لگی ہے اور اکثر خاندان والوں کو کسی کی آخری رسومات کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

شمشان گھاٹ، دلی، کورونا

Reuters
دلی کے شمشان گھاٹوں میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے مرنے والوں کی آخری رسومات اجتماعی طور پر بھی ادا کی جا رہی ہیں

کئی شہروں میں موجود صحافیوں نے کووڈ 19 کے متاثرین اور اموات کے سرکاری اعداد و شمار کو ٹھکرایا ہے۔ وہ اپنے دن شمشان گھاٹ کے باہر مرنے والوں کی تعداد گن کر گزار رہے ہیں تاکہ اپنے دعوؤں کو ثابت کر سکیں۔

ان صحافیوں کے اعداد و شمار کو مان لیا جائے تو کچھ شہروں میں مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے دن گنا زیادہ ہے۔

بی بی سی گجرات نے گذشتہ ہفتے بتایا کہ سورت شہر کا شمشان گھاٹ اتنے دنوں سے لگاتار کام کر رہا تھا کہ اس کی چمنی مسلسل جلنے کی وجہ سے پگھل گئی ہے۔ مگر حکام تاحال اپنے اعداد و شمار پر قائم ہیں۔

ممبئی، انڈیا، کورونا، وبا

EPA
روزانہ حفاظتی لباس (پی پی ای کٹ) پہن کر گھنٹوں کی شفٹ نے طبی عملے کو تھکا دیا ہے۔ ایسے میں طبی عملے کے کچھ لوگ بینچ پر ہی سوتے دکھائی دیتے ہیں
دلی، انڈیا، کورونا

Reuters
کورونا وائرس سے مرنے والوں کی آخری رسومات کے دوران احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ دلی میں یہ شخص دور کھڑا اپنے خاندان کے ایک فرد کی آخری رسومات دیکھتے ہوئے رو رہا ہے
کورونا، دلی، انڈیا

Reuters
دلی میں طبی عملہ کووڈ 19 سے بڑھتی اموات پر مایوس ہے
لکھنؤ، انڈیا، کورونا

Sumit Kumar
انڈیا میں کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران لکھنؤ زیادہ متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے
پی پی ای کٹ، ممبئی، کووڈ 19

EPA
لواحقین اور بلدیہ کے لوگ ممبئی کے ایک شمشان گھاٹ میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کر رہے ہیں

تمام تصاویر کے جملۂ حقوق محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp