مراعات یافتہ اشرافیہ اور ترقی کی راہ میں حائل مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ مراعات یافتہ طبقے یا اشرافیہ کی ملکی وسائل اور اختیارات پر اجارہ داری اور اقتدار پر مسلسل قبضہ ہے۔ یس سر، جی سر سننے کا عادی یہ طبقہ اگرچہ کہ آبادی کا صرف دو فیصد یا اس سے بھی کم ہے، مگر یہ پارلیمنٹ سے لے کر بیوروکریسی، قومی اداروں اور افواج پاکستان کے اعلیٰ عہدوں تک نہ صرف نسل در نسل پھیلا ہوا ہے بلکہ رشتہ داریوں اور کاروباری شراکت داری کی صورت میں اس طبقے نے مکڑی کے جالے کی طرح عوام کو ایک استحصالی نظام کے شکنجے میں جکڑ کر رکھا ہوا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر سیاست دان بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بذات خود اس استحصالی نظام کے کسی نہ کسی طرح بنیفشری ہیں۔ اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ یہی سیاست دان اسی نظام کو ہر بار جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وعدہ کر کے ووٹ بھی لے لیتے ہیں اور باریاں بدل بدل کر اقتدار میں آ جاتے ہیں اور دولت و مراعات سمیٹنے کا سلسہ وہیں سے دوبارہ شروع کر دیتے ہیں جہاں پچھلی باری چھوڑ کر گئے تھے۔

دو سال پہلے تک یہ امید تھی کہ خان صاحب شاید اقتدار میں آ کر اس نظام میں دراڑ ڈال پائیں اور اسی لیے دامے، درمے، سخنے ان کی حمایت بھی کی۔ مگر خان صاحب اپنے ووٹر یا عوام کی حمایت پر اعتماد کی بجائے اسی طبقے کے لوگوں کو سیڑھی بنا کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ خان صاحب کا خیال تھا کہ ایک دفعہ کرسی تک پہنچ جاؤں تو ان سب کو قابو کر لوں گا مگر دو سال میں کچھ ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دراڑ تو دور کی بات، خان صاحب کی نااہلی، ناسمجھی اور اور غیر ضروری سمجھوتوں کی وجہ سے اشرافیہ کے روابط پختہ تر جبکہ استحصالی نظام کا جال مضبوط تر ہو گیا ہے جس میں خان صاحب خود بھی ہاتھ پاؤں مارتے مارتے مضمحل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں نظام کے بینیفشریز اور معماروں کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ بھلے خان صاحب پانچ سال کی اننگز کریز پر گزار جائیں ، کھیل اپنے ہاتھ میں ہی رہے گا اور استحصالی جال قائم و دائم رہے گا۔

اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی ملکی وسائل پر اجارہ داری، خود غرضی، مفاد پرستی اور سفارشی اٹھان نے اس ملک میں غریبوں کو اور زیادہ غربت کی پستی میں دھکیل دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی ایک حالیہ رپورٹ سے بھی عیاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراعات یافتہ طبقہ دراصل استحصالی نظام کو سہارا دیے ہوئے ہے اور جب کبھی عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو آتا ہے، یہ لوگ عوام کے سامنے چند نمائشی منصوبے اور وقتی اقدامات کر کے اسے پھر ٹھنڈا کر دیتے ہیں۔

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اشرافیہ اور عوام میں بٹا یہ نظام پچھلے دس پندرہ سال میں نہیں بنا بلکہ یہ صدیوں پرانا ہے۔ مسلمانوں میں عوام اور خواص، امیر اور غریب کی یہ طبقاتی تقسیم دراصل خلفائے راشدین کے فوراً بعد شروع ہو گئی تھی، جب اموی خلیفہ نے طاقت اور دولت کے بل بوتے پر عنان اقتدار سنبھالی تو اس میں پائیداری کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ اپنی جیسی سوچ رکھنے والے طاقتور افراد کو ساتھ ملا لیا جائے اور عوام کو سلطنت کے امور سے دور رکھا جائے۔

یوں اسلامی معاشرہ عوام اور خواص میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔ مغلوں کے دور میں معاشرے کے دو طبقات میں تقسیم اس قدر واضح تھی کہ مراعات یافتہ طبقہ قلعے میں رہتا جبکہ عوام الناس پرانے لاہور یا دلی کی تنگ و تاریک گلیوں میں زندگی گزارتی۔ اس طبقے نے خود تو اپنے لیے قلعے اور محل بنا لیے مگر عوام کے لئے کچھ قابل ذکر کام نا کیا۔ دونوں طبقات کا معاشی، سماجی اور رہن سہن کا فرق ہم نے اپنی ثقافت اور تاریخ کے نام پر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

انگریز آئے تو ان کے اقتدار میں رہنے کے لیے یہی نظام سود مند تھا چنانچہ انھوں نے اپنے حامی جاگیرداروں، نظاموں، چوہدریوں، ملکوں، جاٹوں اور قریشیوں کو اختیارات و مراعات جبکہ عوام کو سرکاری نوکریاں دے کر پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم کو مزید پختہ کر دیا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی یافتہ دنیا میں بھی عوام و خواص اور خدمات و مراعات کی یہ تقسیم موجود ہے۔ اس کا جواب شاید ہم کلی طور پر ”نہیں“ میں نہ دے سکیں مگر سچ یہ ہے کہ ترقی یافتہ قوم، ترقی یافتہ بنی ہیں تب، جب انھوں نے اس طبقاتی تقسیم کو کم سے کم سطح تک پہنچا دیا۔ کئی ممالک میں وزیراعظم بھی ایسے ہی سفر کرتا اور قانون کو جوابدہ ہوتا ہے جیسے کہ ان کے عوام۔ وہاں کسی انیس بیس گریڈ کے افسر کو سرکاری کوٹھی، مرسڈیز کار، ڈرائیور، سینکڑوں لیٹر ماہانہ پیٹرول، خانسامے اور نوکر چاکر حکومت کی طرف سے نہیں ملتے اور نہ ہی ان کے وزرا اور مشیروں کے لیے سڑکیں بند ہوتی ہیں۔ اور قانون توڑنے کا تو حکمران یا وزیر مشیر سوچ بھی نہیں سکتے۔

کچھ ایسا ہی حال خلفائے راشدین کے زمانے میں مسلمانوں کا بھی تھا کہ قانون ہو یا مراعات و سہولیات کی تقسیم، سب برابر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگ فحل کے موقع پر حضرت ابو عبیدہ ؓ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جنگ سے پہلے رومی لشکر میں مذاکرات کے لئے بھیجا۔ معاذ بن جبل ؓ نے رومی سردار سے کہا کہ ”تم ایک ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال پر اختیار ہے، لیکن ہم نے جس کو بادشاہ بنا رکھا ہے وہ کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہیں دے سکتا، وہ زنا کرے تو اسے درے لگائے جائیں، چوری کرے تو ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔وہ پردے میں نہیں بیٹھتا، اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا اور مال و دولت میں اس کو ہم پر کوئی ترجیح نہیں“ اور یا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ، جب وہ بیت المقدس کی فتح کے بعد اونٹ کی نکیل پکڑے شہر میں داخل ہوئے تو اونٹ پر غلام سوار تھا، تاریخ کی کتابوں میں آج بھی حکمران اور عوام کی برابری کی درخشاں مثال ہے۔

یہی وہ فلسفہ تھا جس پر عمل کی بدولت مسلمان دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور جن کے قدموں کی چاپ سے روم اور فارس کی سلطنتیں لرزتی لرزتی بالآخر زمیں بوس ہو گئیں تھیں۔ اور آج بھی دنیا میں وہی قومیں ترقی یافتہ اور باعزت ہیں جہاں حکمران بادشاہ اور ہر قائدے قانون سے مستثنیٰ نہیں بلکہ قانون کے رکھوالے اور عوام کے خادم ہوتے ہیں۔

ہمارے خادمین کا یہ حال ہے کہ قانون ان کے گھر کو لونڈی اور عدالتوں کی چابی ان کی جیبوں میں ہے۔ یہ جب چاہتے ہیں عدالتیں ان کے لیے چھٹی والے دن بھی کھل کر انصاف کا ”بول و براز“ کرتی ہیں، ای سی ایل سے ان کے نام راتوں رات خارج ہوتے ہیں اور سڑکیں ان کے قافلوں کے لیے خالی کرا لی جاتی ہیں۔ یہیں عوام کا کیس داخل دفتر ہوتا ہے اور فریقین کیس لگنے اور فیصلہ ہونے کے انتظار میں قبر تک جا پہنچتے ہیں اور مائیں پروٹوکول کی وجہ سے بند سڑکوں پر بچے جنتی ہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ ترقی پذیر ممالک جیسا کہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے معاشروں میں ایسا کیوں تھا یا کیوں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں کی عوام نے اپنے آپ کو کمتر اور خواص و اشرافیہ کو برتر مخلوق سمجھ کر اس تقسیم کو قبول کر لیا ہے۔ خواص کو تو خیر مراعات کی لت لگی ہی ہے لیکن یہاں کی عوام بھی یہی سمجھتی ہے، یا انھیں سمجھایا گیا ہے، کہ اگر کوئی اٹھارہویں، بیسویں گریڈ میں افسر یا وزیر، مشیر، سفیر بن گیا ہے تو مراعات و پروٹوکول اس کا حق ہے۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر اس کے سب زیادہ حق دار تو شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود تھے۔ مگر انھوں نے بیت المال میں سے ملے کپڑے کے لیے اپنے آپ کو عوام کے سامنے احتساب کے لیے پیش کر دیا تھا۔ اور رشک ہے ان عوام پر بھی کہ ان میں سے ایک نے کھڑے ہو کر ترش لہجے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خطبے سے پہلے ٹوکتے ہوئے کہا کہ ”اے عمر ؓ، ہم تمہارا خطبہ تب سنیں گے جب تم ہمیں یہ بتاؤ گے کہ تمہارے جسم پر یہ لباس کیسے پورا آیا، جسے بنانے کے لیے دو کپڑے چاہئیں۔ ہم سب کو تو بیت المال میں سے ایک ایک کپڑا ملا، تمہیں دو کیسے مل سکتے ہیں“ باقی تاریخ ہے اور عوام کو ازبر ہے، یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔

نکتہ یہ ہے کہ اگر پاکستان کے لوگ اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر عوام اور خواص کے درمیان اس معاشی اور نفسیاتی دیوار برلن کو گرانا ہو گا۔ معاشی طور پر ایسا اس طور کیا جا سکتا ہے کہ اشرافیہ سے ان کی مراعات واپس لے کر بچت کو غریبوں کی تعلیم اور تربیت، ترقی کے یکساں مواقع، انصاف کی بلا امتیاز فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے۔ یہ کام چند مخلص افراد، جو مسئلے کی جڑ سے واقف ہوں اور اقتدار اور عدلیہ میں ہوں، ان کے ذریعے کچھ ہی برسوں میں کیا جا سکتا ہے۔ مگر مشکل اور طویل مرحلہ اس سے بھی پہلے شعوری اور نفسیاتی محاذ پر ہے۔

اس محاذ پر عوام کو یہ شعور دلانا ہے کہ موجودہ نظام میں دراصل جمہوریت کے لبادے میں ایک ظالم اور استحصالی طبقہ دراصل بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہے۔ پارلیمنٹ میں جمہوریت، انسانی حقوق، اور سیاسی مخالفین کی کرپشن اور بدعنوانی پر جو خواص ایک دوسرے پر چلا رہے ہیں، یہ در اصل دولت اور طاقت کے حصول کے لیے ان کی آپس کی جنگ ہے۔

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
گرمئی گفتار اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

اور یہ کہ اصلی جمہوریت میں حکمران اور اعلیٰ سرکاری ملازمین حاکم نہیں بلکہ معاشرے کے عام افراد کی طرح ہیں جن پر ہر معاملے میں قوانین و قواعد اور مروج طریقۂ کار کا اطلاق بلا تخصیص ہوتا ہے۔ اصلی جمہوری معاشرے میں عوام کے لیے کھڑکی کے سامنے لمبی قطار جب کہ اشرافیہ و مقتدرہ کے لیے پچھلا دروازہ نہیں ہوتا۔ عوام الناس کا یہی شعور آنے والے وقت میں ایک مستحکم اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہو گا۔

نغمۂ بیداریٔ جمہور ہے سامان عیش

اسی نفسیاتی اور شعوری جنگ کے دوسرے محاذ پر مراعات یافتہ مقتدر طبقے اور اشرافیہ کو تکبر و نخوت کے تخت سے اتار کر عوام کے برابر لانا پڑے گا تاکہ وہ ہر معاملے میں قانون اور مروج طریقہ کار کو روندتے ہوئے نہ تو پچھلے دروازے سے اپنے کام نکلوا سکیں اور نہ ہی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق عدالتیں لگوا کر من پسند انصاف لے سکیں۔ مشکل یہ ہے کہ یہی وہ بلی ہے جس کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی کوشش کرتے کئی مخلصین تاریک راہوں میں مارے جا چکے ہیں۔

خدا نخواستہ، اگر ہم یہ نہ کر سکیں تو پھر جیسے کہ ستر سال عوام کو غربت کی چکی میں پستے اور اشرافیہ کو دولت و مراعات کے مزے لیتے گزر چکے ہیں، ستر سال اور بھی ایسے ہی گزر جائیں تو کچھ اچنبھے کی بات نہ ہو گی۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ اشرافیہ اور عوام میں معاشی اور نفسیاتی خلیج وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر گہری ہو جائے کہ اسے پاٹنا ممکن نہ رہے اور پھر ایک دن خلق خدا راج کرنے پر آ جائے جیسے کہ ستر کی دہائی میں ایران میں ہوا۔ یوں اس سے پہلے کہ، فرنگی تمدن اپنے خنجر سے خودکشی کرے اور اس کا شاخ نازک پر بنا آشیانہ تباہ و برباد ہو، ہماری بانجھ تہذیب صفحہ ہستی سے اور ہماری داستان لوح ایام سے حرف غلط کی طرح مٹ چکی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *