طرز حیات اور ہماری صحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونانی فلسفی ارسطو نے آج سے کم  و بیش 2400 برس قبل بالکل درست کہا تھا کہ صحت مند ذہن کے لیے صحت مند جسم انتہائی ضروری ہے۔ بہتر زندگی کے لیے بہتر صحت اور تندرستی کا ہونا لازمی ہے۔ قربان علی سالک کا یہ شعر بڑا مشہور ہے اور زبان زد عام ہے:

تنگدستی اگر نہ ہو سالک تندرستی ہزار نعمت ہے

اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے۔ بے شمار مثبت عوامل ایسے ہیں جنہیں اپنا کر ہم اپنی صحت بہتر کر سکتے ہیں۔ مثبت طرز زندگی مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے اور مثبت سوچ بہتر جسمانی صحت کی طرف ایک قدم ہے۔ مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد جسمانی بیماریوں کے پیچھے نفسیاتی مسائل کار فرما ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں کچھ ایسے معمولات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کو اپنا کر مثبت اور صحت مند طرز زندگی اختیار کیا جا سکتا اور جسمانی صحت کو انتہائی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مثبت طرز زندگی نہ صرف قوت مدافعت کو بڑھا کر جسمانی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ بے شمار نفسیاتی عوارض سے بھی بچنے میں معاون ہے۔ عرصۂ حیات کو طویل کرنے کے لیے اگرچہ جینز میں تو تبدیلی ممکن نہیں اور نہ ہی ماحول کو تبدیل کرنا فرد واحد کے لیے ممکن ہے تاہم بہتر طرز حیات جس میں اچھی نیند، متوازن غذا، ورزش وغیرہ معمول میں شامل ہوں ،اختیار کر کے زندگی کے ماہ و سال میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

1۔ پرسکون نیند

پرسکون نیند کی مناسب مقدار اچھی صحت کی اولین ضرورت ہے۔ متوازن غذا اور ورزش کا پرسکون نیند کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پرسکون نیند اور لمبی عمر کے امکانات میں گہرا تعلق ہے۔ تاہم انتہائی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تعلق U شکل کی قوس سے ظاہر ہوتا ہے یعنی انتہائی کم اور انتہائی زیادہ نیند کم عمری کا باعث ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی ایسوسی ایشن برائے امراض قلب کے جریدے کی ایک رپورٹ (شائع شدہ 2017 ء) سے ظاہر ہوتا ہے کہ مثالی نیند کا دورانیہ ہر رات کم ازکم سات گھنٹے ہے۔

رات کی اچھی نیند انسانی جسم کی بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے از حد ضروری ہے۔ مزید براں یہ جسم کے تمام میٹابولزم کے افعال جیسا کہ پرانے خلیات کی مرمت، فاسد مادوں سے نجات اور خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کی اصلاح وغیرہ کے لیے بھی درکار ہے۔ نیند حافظے کی بہتری کے لیے بھی ضروری ہے اور نیند کی کمی نسیان میں اضافہ کا باعث ہو سکتی ہے۔

2۔ متوازن غذا کا استعمال

اچھی اور متوازن غذا جسم کو توانائی کی فراہمی میں معاون ہوتی ہے اور جسم میں کئی امراض مثلاً دل کی بیماریاں، بلند فشار خون، ذیابیطس اور کینسر کے خطرات کو کم کرتی ہے۔ متوازن غذا وزن کو نارمل رکھنے میں بھی مددگار ہے۔ متوازن غذا کی کمی کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔

غذا سے متعلق مثبت طرز زندگی کا رجحان صحت کی حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ”کھانا ضرور کھائیں مگر بہت زیادہ نہیں اور سبزیوں کی مقدار زیادہ شامل کریں“ ۔ اس سے جسم کی نباتاتی اجزاء کی ضرورت جلد پوری ہو گی۔ اس حوالے سے میڈیٹرینین ڈائیٹ ( Mediterranean Diet) انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ غذا انتہائی صحت مند غذائی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے جیسا کہ پھل، سبزیاں، صحت کی حامل چکنائیاں اور غلہ جات وغیرہ۔ جتنا Mediterranean dietکا استعمال زیادہ ہو گا اتنا بیماریوں سے تحفظ ممکن ہو گا۔ محققین کا کہنا ہے کہ Mediterranean diet کے استعمال سے امراض قلب، فالج اور کینسر وغیرہ سے بچا جا سکتا ہے۔

3۔ جسمانی سرگرمیوں میں باقاعدگی

تیس منٹ کی باقاعدہ روزانہ جسمانی سرگرمی دل کی دھڑکن میں باقاعدگی لاتی ہے جس کی وجہ سے امراض قلب کاخطرہ کم ہو جاتا ہے ۔ مزید براں عمر میں اضافے کے ساتھ پیدا ہونے والی ہڈیوں کی بوسیدگی اور osteoporosis میں کمی ممکن ہے۔ فی زمانہ ورزش کی کمی یورپ میں 9 فیصد چھاتی کے کینسر اور 10 فیصد بڑی آنت کے کینسر کا باعث ہے۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تفریحی اور غیر تفریحی جسمانی سرگرمیوں میں شامل ہونے سے امراض قلب کے خطرات میں کمی ممکن ہے اور مجموعی طور پر عمر میں اضافہ میں مددگار ہے۔

جسمانی سرگرمیوں میں عمومی طور پر درج ذیل سرگرمیاں شامل ہیں:
باغبانی، تیز چہل قدمی، ہموار سطح پہ آہستہ سائیکل سواری، رقص اور پیراکی وغیرہ۔

4۔ صحت مند جسمانی وزن کا برقرار رکھنا

موٹاپا اور قلیل العمری کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ موٹاپا کئی قسم کے پرانے امراض کی جڑ ہے۔ 2018ء میں 24 سالہ تحقیق کے نتائج Body Mass Index اور عرصۂ حیات کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں کہ وہ افراد جن کا Body Mass Index تیس سے پینتیس ( 30 سے 35 ) ہے ، ان میں شرح اموات 27 فیصد تک زیادہ ہے۔ اور جن افراد کا Body Mass Index پینتیس سے چالیس ( 35 تا 40 ) ہے ، ان میں شرح اموات 93 فیصد تک زیادہ پائی گئی۔ یاد رہے کہBody Mass انڈیکس کی نارمل حد 19 تا 24 ہے۔

ماضی میں صبح کا ناشتہ صحت کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ جبکہ جدید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وقفہ سے کھانا مفید ہو سکتا ہے (روزانہ 13 گھنٹے کا بغیر کھانے کا وقفہ)۔ اگرچہ یہ بات مزید تحقیق طلب ہے تاہم کھانے میں 13 گھنٹے کا وقفہ وزن میں کمی لانے میں بے حد معاون ہے اور کینسر کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔

5۔ سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز

صرف امریکہ میں سالانہ 400000 اموات کی واحد وجہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال ہے۔ مزید براں 16 ملین افراد سگریٹ نوشی سے جڑے امراض کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز کریں۔ سگریٹ نوشی مرد و خواتین دونوں میں جھریوں میں اضافے کا باعث ہے۔ مردوں میں دل کی ہی نہیں بلکہ تمام شریانیں تمباکو سے متاثر ہوتی ہیں۔ جسم کے دیگر حصوں کی چھوٹی شریانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور جنسی انتشارمیں کمی (Erectile Dysfunction ) کا باعث ہے۔

6۔ الکوحل سے پرہیز

صحت مند زندگی کے لئے الکوحل سے پرہیز نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ سرخ شراب دل کے امراض کے لیے اور الزائیمر کے لیے اچھی ہے تاہم شراب کے نقصانات کے مقابلے میں اس کے فائدے انتہائی کم ہیں۔ سرخ شراب میں ایک کیمیائی مادہ ریسویراٹرول ( Resveratrol ) پایا جاتا ہے جو کہ صحت کے لیے مفید ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ یہ مادہ لال انگوروں میں اور مونگ پھلی میں بھی پایا جاتا ہے تو کیوں نہ شراب کی بجائے انگور اور مونگ پھلی استعمال کی جائے۔

مزید براں شراب اور چھاتی کے کینسر میں گہرا تعلق ہے، اس لیے پرہیز ہی بہتر ہے۔ دین اسلام بھی شراب کے مضر اثرات کی وجہ سے اسے حرام قرار دیتا ہے۔ شراب کے کثرت استعمال کی وجہ سے رویہ جاتی اور صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ شراب سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں دل کے امراض، بلند فشارخون، فالج، جگر کا کینسر و معدہ کا السر وغیرہ عام ہیں۔ ان نقصانات کے علاوہ شراب حادثات، فسادات، خود کشی اور عمومی طور پر موت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے۔

حاصل بحث یہ ہے کہ زندگی کی لذتوں سے صحیح طور لطف اندوز ہونے کے لیے اچھی صحت ضروری ہے اور اچھی صحت کے لیے مثبت طرز حیات (Life Style ) اپنانا انتہائی ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالرحمان سومرو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *