بھارت میں کرونا سے اموات؛ ’24 گھنٹے قبریں کھودی جا رہی ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں کرونا سے ہونے والی اموات کے باعث قبرستانوں اور شمشان گھاٹ میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔

بھارت میں کرونا وائرس کی وبا سے بڑھتی ہوئی اموات کے باعث شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں آخری رسومات کے لیے آنے والوں کا ہجوم برقرار ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر ممبئی میں گورکن 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

بھارت میں دوسری لہر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روزانہ تین لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جب کہ ملک میں وبا سے ہونے والی اموات دو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہیں۔

بھارت میں وبا کی شدت کے باعث صحت کے نظام کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔

دہلی میں ایمبولینسز کرونا سے ہلاک ہونے والے مریضوں کو پارکس اور پارکنگ لاٹس میں بنائے گئے عارضی شمشان گھاٹ کی جانب لے جا رہی ہیں جہاں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میتوں کے ساتھ اپنی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے باری کے انتظار میں ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ایک قبرستان میں کام کرنے والے 52 سالہ گورکن قمر الدین کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اور قبریں کھود رہے ہیں۔

قمر الدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں وہ روزہ رکھ کر شدید گرم موسم میں کام بھی کر رہے ہیں۔ 52 سالہ گورکن کا کہنا تھا کہ وہ 25 سال سے قبریں کھودنے کا کام کر رہے ہیں۔

قمرالدین کا کہنا ہے کہ کام زیادہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے حفاظتی لباس اور دستانے پہننا بھی چھوڑ دیے ہیں۔

قمرالدین نے گزشتہ ایک سال سے ایک دن بھی چھٹی نہیں کی ہے۔

بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق 20 اپریل سے رواں ہفتے منگل تک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 2648 اموات ہو چکی ہیں۔ پہلے شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں روزانہ 20 سے 30 میتیں لائی جا رہی تھیں جب کہ اب یہ تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔

دہلی کی میونسپل کارپوریشنز کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسئلے سے آگاہ ہیں لیکن اس کا فوری حل مشکل ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمشان گھاٹوں میں افرادی قوت کی کمی اور جگہ کی قلت کے باعث آخری رسومات کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1850 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *