سمیع چوہدری کا کالم: ٹیلر کے پچھتاوے کا مداوا نہ ہو پائے گا

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

محاورہ ہے کہ جب قسمت خراب ہو تو اونٹ پہ بیٹھے شخص کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آج زمبابوے کے ساتھ بھی رہا جو بیٹنگ کے لئے سازگار وکٹ پہ ٹاس جیت کر، درست فیصلہ کر کے بھی ایک قابلِ قدر مجموعہ جوڑنے سے محروم رہ گئی۔

پہلی اننگز کا دوسرا اوور جاری تھا اور زمبابوین بلے باز ٹیسٹ کرکٹ کی ریت کے مطابق نئے گیند کے سامنے سٹمپس کا دفاع کرنے کی خاطر خواہ کوشش کر رہے تھے۔ کیون کسوزا اپنے دفاع میں اچھی طرح جمے ہوئے تھے کہ وہ لمحہ آیا جہاں ‘قسمت’ کی یہ خرابی پوری طرح عیاں ہوئی۔

حسن علی آف سٹمپ کے باہر خطرے کی لائن پہ کسوزا کے دفاع کا امتحان لے رہے تھے۔ یہ گیند بھی حسن علی کی ایسی ہی کاوش تھی جسے کسوزا نے پورے اعتماد کے ساتھ دفاعی انداز میں کھیلا مگر گیند بلے کی قوت کے تحت ہی واپس پلٹ کر سٹمپس کو لپک گئی۔

دیگر کالم پڑھیے

زمبابوے کی قسمت کب کھلے گی؟

بھلا کرکٹ کا سیاست سے کیا تعلق؟

پاکستان بمقابلہ زمبابوے: ’اب کپتان چامو چبھابھا پھیکے نہ پڑیں تو اور کیا کریں‘

عثمان قادر زمبابوے کی سبھی توقعات پہ بھاری پڑ گئے

کسوزا نے عین آخری وقت پہ اپنی ٹانگوں کا استعمال کر کے اس انہونی کو روکنے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہے اور شاید یہی لمحہ زمبابوے کی بدقسمتی کا آغاز تھا۔

یا شاید یہ بدقسمتی میچ سے ایک شام پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ اول تو ویسے ہی رینکنگ کے اعتبار سے زمبابوے پاکستان کے لیے ایک بے جوڑ حریف ہے۔ ابھی سکندر رضا اور کریگ ایرون کی عدم دستیابی کا اضطراب ختم نہ ہو پایا تھا کہ اس آدھے ادھورے ڈریسنگ روم کو اپنے کپتان شان ولیمز کی فٹنس بارے بھی پریشان کن خبر مل گئی۔

اس امر کی کوئی ضمانت تو نہیں کہ اگر زمبابوے کو اپنے یہ تین بہترین بلے باز دستیاب ہوتے تو وہ فتح کے امکانات روشن کر پاتے مگر یہ تو واضح ہے کہ اگر یہ آدھی ادھوری ٹیم اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترتی تو مقابلے کا معیار کہیں بہتر ہوتا۔

اس خلا کو پر کرنے کی خاطر زمبابوے کو چار نئے کھلاڑی میدان میں اتارنا پڑے۔ انٹرنیشنل کرکٹ بالخصوص ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم ایک ساتھ اتنے نئے چہروں کو نہیں آزمانا چاہتی لیکن زمبابوے کے لیے یہ اختیار سے زیادہ مجبوری کا معاملہ تھا۔

اور ایسا بھی نہیں کہ نئے جوانوں نے سرے سے حق ہی ادا نہیں کیا۔ بلکہ اننگز کا مثبت ترین لمحہ وہی تھا جب نوآموز رائے کایا نے ملٹن شمبا کی شراکت میں پانچویں وکٹ کے لیے مزاحمت سے بھرپور لڑائی لڑی۔ یہ مزاحمت اس قدر جاندار تھی کہ کچھ دیر کے لیے بابر اعظم بھی سوچوں میں گم دکھائی دیے۔

لیکن اس اچھی بھلی شراکت داری نے جب زمبابوین ڈریسنگ روم کے حوصلے بڑھا ڈالے تھے، تب ملٹن شمبا نے خود اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار لی اور ایک نہایت غیر ضروری رن کا تعاقب کرتے وکٹ گنوا بیٹھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں رن آؤٹ ہونا کسی سنگین جرم سے کم نہیں۔

یہ کم و بیش اسی کاوش سا قضیہ تھا جو کپتان برینڈن ٹیلر نے ڈاٹ بالز کا دباؤ ہٹانے کو کی اور حسن علی کی باہر جاتی گیند پہ وہ شاٹ کھیل ڈالی جو شاید مختصر فارمیٹ میں تو کبھی کبھار سودمند ثابت ہو ہی جائے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں خود اپنے لیے گڑھا کھودنے کے مترادف ہوتی ہے۔

حسن علی جو فارم آخری ٹی ٹونٹی میچ سے لے کر چلے تھے، وہی یہاں بھی اپنے جوبن پہ دکھائی دی۔ نئے اور پرانے، دونوں طرح کے گیند کے ساتھ ان کا کنٹرول کمال تھا اور دوسرے اینڈ سے جس طرح شاہین شاہ آفریدی نے بلے بازوں کو باندھے ہوا تھا، اس ماحول میں زمبابوے تو کجا، کسی بھی ٹیسٹ ٹیم کے لیے سنبھلنا مشکل تھا۔

گو ابھی میچ میں بہت کھیل باقی ہے مگر عمران بٹ اور عابد علی نے جو آغاز پاکستان کو فراہم کر دیا ہے، اس کے بعد زمبابوے کے لیے اس میچ میں واپسی کا خواب سراب کے مانند ہی ہے۔ ٹیلر یقیناً اپنی شاٹ پہ پچھتا رہے ہوں گے مگر پاکستانی بیٹنگ کے بعد اس پچھتاوے کا مداوا اب شاید ممکن نہ رہ پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words