عمران حکومت کی ففٹی اپ
وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے اڑھائی سالہ دور میں اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو، وزرا، وزراء مملکت، معاون خصوصی اور مشیران کی نصف سنچری ضرور مکمل کر لی ہے، 27 وفاقی وزرا، 4 وزراء مملکت، 15 معاونین خصوصی اور 4 مشیران بنائے گئے ہیں، گزشتہ روز ایم این اے فرخ حبیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات، عثمان ڈار کو معاون خصوصی برائے وزیراعظم یوتھ افیئرز اور ڈاکٹر وقار مسعود کو خزانہ اور ریونیو کا معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔
عمران خان کی توجہ بیٹنگ پر ہے نہ ہی باؤلنگ پر، انہوں نے اڑھائی سال میں صرف اپوزیشن کے خلاف فیلڈنگ ہی سخت کی ہے اور اتنی سخت کی ہے کہ اپوزیشن کو ہلنے کا رتی برابر بھی موقع نہیں دے رہے مگر عمران خان کی ٹائٹ فیلڈنگ میں بھی اپوزیشن سنگل، ڈبل لے کر اپنے سکور بڑھاتی چلی جا رہی ہے، ڈسکہ کا ضمنی الیکشن ایک جنگ کے بعد مسلم لیگ نون نے جیت لیا جس پر ساری حکومت اپنا پورا زور لگا چکی تھی مگر ٹائٹ فیلڈنگ اور دھند کا فائدہ نہ ملا اور عبرتناک شکست کھائی۔
عمران خان حکومت کی اپنی اڑھائی سالہ مدت کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں اپنی اڑھائی سالہ کارکردگی پر فخر ہے، میں تو اتنے دنوں سے سوچ سوچ کر تھک گیا ہوں، اعصاب شل ہو گئے ہیں، دوستوں، دانشوروں سے بات بھی کر چکا کہ جناب اگر آپ کو عمران خان کی کوئی قابل فخر کارکردگی نظر آئی ہو تو مجھے بھی آگاہ کر دیں، ممکن ہے تعصب میں عمران خان کی فخریہ کارکردگی پر میری نظر ہی نہ گئی مگر سب کا ایک ہی جواب تھا، کارکردگی ہو گی تو فخر ہو گا۔
میری ناقص عقل کے مطابق اڑھائی سال میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے، کاروبار بند ہو گئے اور جو چل رہے ہیں وہ نصف شرح سے چل رہے ہیں، مہنگائی نے عوام کی ”باں باں“ کرا دی ہے، گورننس دور دور تک نظر نہیں آتی، چینی مافیا قابو نہ آ سکا تو اپنے ہی قریبی ساتھی اور محسن جہانگیر ترین کو عدالتوں میں گھسیٹنا شروع کر دیا کہ عمران خان کی واہ واہ ہو جائے اور عوام کے سامنے شور مچایا جائے کہ انصاف پسند وزیراعظم نے اپنے انتہائی قریبی ساتھی کو بھی نہیں بخشا۔
عمران حکومت کی انتہائی ٹائٹ فیلڈنگ میں سپریم کورٹ سے سزا یافتہ مجرم میاں محمد نواز شریف حکومتی اداروں سے ہی میڈیکل رپورٹس بنوا کر ملک سے علاج کے بہانے لندن میں اپنے اربوں روپے کے گھر میں بیٹھا ہے، عمران خان نے اس کی بھی انکوائری کرانے کا حکم دیا تھا کہ یہ سب کیسے ہوا مگر آج تک اس پر کوئی بات سامنے نہیں آئی، سپریم کورٹ سے سزا یافتہ مسلم لیگ نون کی نائب صدر ضمانت پر ملک بھر میں دندناتی پھر رہی ہے، اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
عمران خان کو شاید اسی کارکردگی پر فخر ہے جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ، وہ اب ہو رہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین اور سب سے بڑی عدالت سے سزا پانے والے مجرم کھلے گھوم رہے ہیں، عمران خان کی فخریہ کارکردگی کا ایک پہلو پنجاب کا وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار بھی ہو سکتا ہے جس کی عمران خان نے ملتان میں اتنی تعریف کی کہ عثمان بزدار بھی پریشان ہو گیا ہو گا اور ساتھ والے سے کہا ہو گا کہ دیکھو میں جاگ رہا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔
عمران خان کی فخریہ کارکردگی یہ ہے کہ انہوں نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے لئے ان کا پہلے لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا، کامیاب تجربے کے بعد عثمان بزدار کو لانچ کر دیا، اب یہ نہیں علم کہ ٹیسٹ کے دوران شاید کوئی مصالحہ کم لگ گیا تھا جس کی وجہ سے عثمان بزدار سست ہے اور اڑھائی سال سے سیکھ ہی رہا ہے اور کچھ بھی ڈلیور نہیں کر رہا۔
عمران خان نے اپنی ٹائٹ فیلڈنگ میں عثمان بزدار کو وکٹ کیپر بنایا جس نے مہنگائی، بیروزگاری، گورننس سمیت تمام کیچ چھوڑ دیے اور مخالفین کو لیگ بائی کے چار پہ چار رنز دیے جا رہے ہیں مگر عثمان بزدار کی ذہانت یہ ہے کہ وہ عمران خان کی بال کا کوئی کیچ نہیں چھوڑتا، عمران خان نے لنگر خانہ کی گیند پھینکی تو اس کو انتہائی مہارت اور ذہانت کے ساتھ کیچ کیا اور غریبوں کو بلکہ اچھے خاصے سفید پوش لوگوں کو بھی لنگر خانوں میں آنے پر مجبور کر دیا۔
عمران خان کو اپنی کارکردگی شاید اس بات پر بھی فخر ہو گا کہ انہوں نے سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو باؤنسر مارا تو پیپلز پارٹی نے ان کے باؤنسر (عبدالحفیظ شیخ) کو ہک کر کے گراؤنڈ سے باہر ہی پھینک دیا، یہ الگ بات ہے کہ باؤنسر ہک ہو گیا مگر عمران خان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کا باؤنسر کمال تھا جس کے بعد خود ہی عبدالحفیظ شیخ کو اوور تھرو کر کے ٹیم سے باہر ہی کر دیا، ایسی کارکردگی پر فخر تو بنتا ہے۔
عمران خان نے اڑھائی سالہ حکومت میں ہر باؤلر آزمایا، ان میں فاسٹ باؤلر، میڈیم پیسر، سپنر بھی شامل ہیں، جب تمام باؤلر ناکام ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں میں خود آؤں گا اور مانیٹرنگ شروع کر دیتے ہیں، اڑھائی سال میں اپوزیشن رنز کے ڈھیر لگا چکی ہے، اگلے اڑھائی سال میں عمران حکومت نے بیٹنگ کرنا ہے بلکہ ان کی بیٹنگ شروع ہو چکی ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن جتنے رنز بنا چکی ہے، عمران خان کے پاس اب اوپننگ کے لئے کوئی جوڑی ہے جو کہ عمران الیون کو اچھا سٹارٹ دے سکے کیونکہ باؤلنگ اور فیلڈنگ میں تو عمران خان بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
اوپننگ جوڑی کے بعد ون ڈاؤن، ٹو ڈاؤن، تھری ڈاؤن سے لے کر سکس ڈاؤن تک کوئی ایسا کھلاڑی جو ان کی ٹیم میں شامل ہو اور عمران خان کو سنبھالا دے کر اپوزیشن کے رنز کے انبار کو پورا کر سکے، اب تک تو عمران خان کھلاڑی ہی تبدیل کرتے آ رہے ہیں، کبھی کسی کی وزارت تبدیل، کبھی کسی کی، کبھی اس کو واپس لگا دو، کبھی اس کو لگا دو۔
میں عمران خان کا خیرخواہ ہوں ، چاہتا ہوں کہ عمران خان کامیاب ہوں اور قوم کی امیدوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں مگر ان کے باقی کے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی، ممکن ہے کہ عمران خان کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا ”میزائل“ عثمان بزدار عمران حکومت کے آخری اوور میں چھکوں، چوکوں کی برسات کر کے اپنے کپتان کی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کردے مگر سرائیکی کا محاورہ مشہور ہے۔
جیڑے تونسہ چندرے
او لاہور وی چندرے


