عورتیں اور مرد: سلیقے کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورتوں اور مردوں میں ایک بہت بڑی اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا تعلق سلیقے اور صفائی سے ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ان کے نظریات میں بعد المشرقین ہوتا ہے جس کی وجہ سے خاتون خانہ کی جنگ شوہر اور بیٹوں سے جاری رہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں کے فلسفہ حیات میں ایک بنیادی فرق ہے۔

مردوں کا خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کے لیے زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے۔ زندگی میں دکھاوے کی بجائے آسانی ہونی چاہیے۔ اس لیے بستر، صوفہ، کرسی، میز، کھلی الماری کا پٹ اور فرش وغیرہ اپنے اتارے گئے کپڑے رکھنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہیں۔ بس جب جی چاہا ہاتھ بڑھا کر مطلوبہ لباس اٹھا لیا۔ ایک ہی نظر میں کمرے میں سجا ہوا پورا وارڈ روب دکھائی دے جاتا ہے۔ یوں رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کپڑے کی استری بھی خراب نہیں ہوتی اور تازہ ہوا لگنے کے سبب اس میں نمی اور بو بھی نہیں پیدا ہوتی۔ کچھ معمولی سے مسائل ضرور ہوتے ہیں جیسے بستر پر جگہ سکڑتے سکڑتے کم ہوتی جاتی ہے اور فرش پر پاؤں بہت دیکھ بھال کر رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن اس معمولی تکلیف کے بدلے جو بڑی سہولت ملتی ہے اس کے مقابلے میں یہ تکلیف کچھ بھی نہیں۔

جرابوں کے معاملے میں خاص طور پر لڑکوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ روز جراب بدلنے کی ضرورت نہیں۔ جب کبھی ہفتے دو ہفتے بعد کپڑے دھلیں گے اس وقت وہ جوڑا بھی دھل جائے گا جو اس تمام عرصے کے دوران پہنا جاتا رہا ہے۔ کئی مرتبہ تو یہ جراب جب دھلنے کو پہنچے تو کپڑے کی بجائے چمڑے کی بنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس میں سے ہلکی سی بو آنے لگتی ہے اور یہ بو ظاہر ہے کہ اس کے مالک کو بھی آتی ہے، مگر جب وسیع تر تناظر میں ڈٹرجنٹ اور صابن کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تباہی کو دیکھا جائے، تو یہ مالک دنیا پر احسان کر رہا ہوتا ہے۔ دنیا کو تباہی سے بچانے کے بدلے یہ بہت چھوٹی قیمت ہے۔

میز کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ میز پر ہر چھوٹی بڑی چیز کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ شیلفوں پر چیزوں کا انبار ہوتا ہے۔ فرش پر گٹار سے لے کر دو دن پہلے کھایا گیا پزے کا ڈبہ اور بلوٹوتھ سپیکر بھی رکھے ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی یہی مردانہ فلسفہ برسرکار ہوتا ہے کہ ضرورت کی ہر چیز ہمہ وقت نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے اور جب ضرورت ہو اٹھائی جا سکتی ہے۔ مطلوبہ چیز کو تلاش کرنے میں اتنا وقت بھی نہیں لگتا جتنا گوگل کا سرچ انجن ویب سے کچھ تلاش کرنے میں لیتا ہے۔

ایسا نہیں کہ مرد صفائی اور چیزوں کو ٹھکانے پر رکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ لیکن وہ بلاوجہ اپنا قیمتی وقت اور انرجی برباد نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں صفائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب سرچ انجن کرپٹ ہو جائے، یعنی مطلوبہ چیزیں ملنی بند ہو جائیں۔ اس وقت وہ ایکشن میں آتے ہیں اور نئے سرے سے چیزوں کو ان کے ٹھکانوں پر پہنچا دیتے ہیں۔ فرش پر پڑے کپڑے الماری میں پہنچ جاتے ہیں، میز اور شیلف پر موجود چیزوں کے انبار اس جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جو صفائی کرنے کی صورت میں ان کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ کمرہ یکلخت جگمگانے لگتا ہے اور اس کا مالک یہ دیکھتے ہی پریشان ہو کر گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔

خواتین کا فلسفۂ حیات کچھ مختلف ہوتا ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ بیڈ سونے کے لیے ہوتا ہے اور فرش چلنے کے لیے۔ کسی ایسی وجہ سے جو مرد ابھی تک سمجھ نہیں پائے، وہ فرش پر نہ صرف روزانہ جھاڑو پھیرنے کی عادی ہوتی ہیں بلکہ اس پر پلی (پوچا) بھی پھیر دیتی ہیں۔ کمرے میں جو اشیا مردوں نے نہایت سلیقے سے بستر، صوفے، میز، الماری، شیلف اور فرش پر رکھی ہوتی ہیں وہ انہیں یوں چھپا کر الماریوں اور درازوں میں رکھنے کی قائل ہوتی ہیں جیسے وہ ہیرے جواہرات یا ان کے جہیز کے برتن ہوں۔ ان کی رائے میں صفائی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی شے دکھائی نہ دے۔

کپڑوں کے معاملے میں خواتین کا فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہنے جانے کے بعد ہر مرتبہ دھلیں اور استری ہو کر الماری میں ٹانگے جائیں۔ حتی کہ وہ اس حد تک ماحول دشمنی پر اتر آتی ہیں کہ لڑکوں کی جرابیں روزانہ دھونے پر اصرار کرتی ہیں اور اپنے اس رویے سے دنیا بھر کے صاف پانی کے ذخائر کو بہت تیزی سے ڈٹرجنٹ سے آلودہ کر ڈالتی ہیں۔

جب کسی مردانہ کمرے میں خاتون خانہ صفائی کر دے تو اس کا مکین مرد نہایت پریشان ہو جاتا ہے۔ اس نے جو چیزیں فکس جگہ پر سامنے ہی رکھی ہوتی ہیں، اب وہ اسے کمرے بھر کی تمام الماریوں اور درازوں میں تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ خاتون خانہ وہ شے ہر مرتبہ ایک نئی جگہ پر رکھتی ہے۔ یوں پانچ سیکنڈ کی تلاش دس منٹ کی فرسٹریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے اور تھک ہار کر وہ خاتون خانہ سے مدد لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اسی وجہ سے مرد اور لڑکے پوری کوشش کرتے ہیں کہ خواتین ان کے کمرے کی صفائی نہ کریں تاکہ ان کی پرسکون زندگی میں کوئی ہلچل نہ مچے۔ وہ اس حد تک قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں کہ خاتون خانہ زیادہ ہی اصرار کرے تو خود پر نہایت جبر کر کے دو چار ہفتے بعد کمرے کی صفائی کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں حالانکہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ ہر چیز اپنے ٹھکانے یعنی بستر، میز، کرسی، شیلف اور فرش پر سلیقے سے دھری ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1386 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *