خواتین کی جبری نس بندی: ’میں زندہ ہوں مگر ایک ناکارہ چیز بن گئی ہوں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ 20 برسوں کے دوران کم از کم 38 ممالک میں زبردستی یا بغیر رضامندی نس بندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ کئی واقعات میں زچگی کے وقت خواتین کی اُن کی مرضی کے بغیر نس بندی کر دی گئی۔

اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر رضامندی نس بندی کا خاتمہ کیا جائے اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کریں۔

پروفیسر سیم رولینڈز کی تحقیق کے مطابق یہ طرزِ عمل دنیا بھر میں پایا جاتا ہے۔

نسلی اقلیتی برادریوں، ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات بشمول خواجہ سراؤں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اُنھیں اس طرزِ عمل کا نشانہ بنایا گیا۔

صحت کے حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈاکٹر ٹلالین موفوکینگ کہتی ہیں کہ ’عالمی طور پر نس بندی سے متعلق تفریق اور استحصال کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ اپنے آپ میں انسانی حقوق کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کونڈوم یا نس بندی، مانع حمل کا کون سا طریقہ کامیاب ہے؟

‘میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے’

’بے چینی اور سیکس سے بیزاری مینوپاز کی عام علامات ہیں‘

جبری نس بندی تاریخی طور پر یوجینیکس کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ یوجینیکس کا مطلب نوعِ انسانی کو منتخب ملاپ کے ذریعے بہتر بنانے کی کاوش ہے۔ جبری نس بندی کو ’نازی جرمنی‘ کے جیسا قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مگر تحقیق کے مطابق یہ صرف تاریخی معاملہ نہیں ہے کہ بلکہ 21 ویں صدی میں بھی اس کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

زیشیلو دلوڈلا کہتی ہیں کہ جب وہ سنہ 2011 میں جنوبی افریقہ کے ایک ہسپتال میں بچے کو جنم دے رہی تھیں تو اُنھوں نے اُس وقت نس بندی کی اجازت نہیں دی تھی۔

تین بچوں کی 50 سالہ والدہ زیشیلو کہتی ہیں کہ ’نس بندی میرے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا کیونکہ یہ میری خواہش نہیں تھی۔ میں نے اس پر کبھی بھی رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔‘

’میری خواہش ہے کہ میں اس سب کے بارے میں بھول جاؤں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ آپ زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک مردہ بن جاتے ہیں۔‘

’میں زندہ ہوں، مگر ایک مردہ چیز بن چکی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں ایسی چیز ہوں جس کا کوئی مصرف نہیں ہے۔‘

زیشیلو کو یقین ہے کہ اُن کی رضامندی حاصل کیے بغیر اُن کی نس بندی اس لیے کی گئی کیونکہ وہ ایچ آئی وی سے متاثرہ خاتون ہیں۔

ڈاکٹر موفوکینگ بتاتی ہیں کہ ’کئی خواتین کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ ہسپتال میں تھیں تب اُن کے ساتھ یہ کیا گیا کیونکہ وہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں۔‘

’یہ سب سیاہ فام ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقے سے ہے۔ ان سے نس بندی کی اجازت جبری طور پر لی گئی۔‘

جس ہسپتال میں زیشیلو کی نس بندی کی گئی، اُس کا کہنا ہے کہ زچگی سے پہلے اُن کے میڈیکل ریکارڈز میں یہ موجود تھا کہ اُنھوں نے اپنے سی سیکشن کے دوران اس عمل کی اجازت دے دی تھی۔

ہسپتال کے بیان میں کہا گیا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس سے قبل دو مرتبہ سی سیکشن کروا چکی ہیں اور روایتی طور پر خواتین کو تجویز دی جاتی ہے کہ وہ تیسرے سی سیکشن کے بعد نس بندی کروا لیں کیونکہ متعدد سیزیرئنز سے کئی طبی خطرات منسلک ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خواتین سے زبردستی نہیں کی جاتی، نہ ہی دباؤ ڈالا جاتا ہے، کچھ اس کے لیے منع کر دیتی ہیں اور اُن کی خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے۔‘

گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے کمیشن برائے صنفی مساوات نے زیشلو سمیت ایچ آئی وی سے متاثر دیگر خواتین کے جبری نس بندی کے الزامات کے دعوؤں کی تحقیقات کیں تھں مگر ڈاکٹر موفوکینگ کہتی ہیں کہ تب سے اب تک زیادہ کچھ نہیں ہوا۔

’جنوبی افریقہ کا نظامِ صحت اور مجموعی طور پر حکومت صنفی مساوات کے کمشنر کی رپورٹ میں موجود خواتین کی مدد نہیں کر رہے۔‘

محکمے کو اب بھی اس چیز کو عوامی طور پر قبول اور تسلیم کرنا ہے کہ یہ شدید خلاف ورزیاں اُن کی ناک کے نیچے رونما ہوئی ہیں۔

جنوبی افریقی محکمہ صحت نے بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

مگر عالمی طور پر جبری نس بندی صرف ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین تک محدود نہیں ہے۔

مثال کے طور پر گلوبل پبلک ہیلتھ کے مطابق کینیڈا کی چار قبائلی خواتین نے کہا کہ اُنھیں سنہ 2005 سے 2010 کے درمیان بچوں کی پیدائش کے دوران نس بندی کروانے پر مجبور کیا گیا۔

اس رپورٹ میں جمہوریہ چیک، ہنگری اور سلوواکیہ کی روما خواتین کے بارے میں دستیاب ثبوتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اُنھیں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد نس بندی قبول کرنے کے لیے مجبور کیا گیا جبکہ وہ ابھی دواؤں کے زیرِ اثر ہی تھیں۔

اس کے علاوہ کئی ممالک میں جبری نس بندی تب بھی ہوتی ہے جب قانون کے تحت افراد کو اس حوالے سے مجبور کیا جائے یا اس سے کوئی مالی فائدہ جوڑ دیا جائے۔

مثال کے طور پر جاپان میں اگر خواجہ سرا افراد اپنی ترجیحی صنف کے ساتھ قانونی طور پر رہنا چاہیں تو اُنھیں نس بندی کروانی ہو گی۔ اگر وہ اپنی سرجری نہ کروائیں تو وہ بنیادی حقوق مثلاً شادی اور سرکاری دستاویزات مثلاً پاسپورٹ پر جنس کی تبدیلی کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔

انڈیا میں حکومت کی جانب سے اُن لوگوں کو ٹیکس، روزگار اور تعلیم کے شعبوں میں فوائد دیے جاتے ہیں جو اپنے خاندان کو دو افراد تک محدود رکھیں۔ ایسا آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی نس بندی کی ماہرین مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس سے کم آمدنی والے طبقات زیادہ آمدنی والوں کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر ایسے آپریشن زیادہ کروا سکتے ہیں جو تاحیات تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔

برطانیہ کی برنمتھ یونیورسٹی کے پروفیسر سیم رولینڈز اور ڈاکٹر جیفری ویل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے جبری نس بندی سے انکار کرنے والے جوڑوں پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں جن میں راشن کارڈ روک لینا شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو نس بندی کے سرٹیفیکیٹ فراہم نہیں کرتے، اُن کے موجودہ بچوں کے لیے غذائی سپلیمیٹنس روک لیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ نس بندی پر ملنے والے فوائد کا بھی ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ان فوائد میں ٹی وی، پریشر کُکر اور یہاں تک کہ نقد رقم بھی شامل ہے۔ کچھ معاملات میں تو ان فوائد کی مالی قدر اوسط ماہانہ اجرت کے دو گنا تک بھی رہی ہے۔

جبری نس بندی کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر موفوکینگ کہتی ہیں کہ حکومتوں اور ریاستوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کا دفاع کریں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ جذباتی طور پر تھکا دیتا ہے۔ مگر ہمارے پاس ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے علاوہ اور کوئی انتخاب نہیں ہے۔ میں خود ایک عورت ہوں، میں سیاہ فام ہوں، میں جنوبی افریقہ کے ایک دیہی قصبے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں نے اپنے جاننے والوں سے کچھ گھناؤنا ترین سلوک بھی ہوتے دیکھا ہے مگر پھر بھی اب تک کوئی مؤثر حل موجود نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر موفوکینگ کہتی ہیں کہ ’حقِ صحت پر نمائندہ خصوصی کے تحت میرا کام ریاستوں کو یہ یاد دہانی کروانا ہے کہ اُن پر ان اطلاعات کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کروانے کی ذمہ داری ہے، اُنھیں ملوث افراد کو سزا دلوانی ہوگی۔‘

’یہ اتنے گھناؤنے اور غیر انسانی (عمل) ہیں اور خواتین سے اتنا ذلت آمیز سلوک ہے کہ ہمیں اسے قانون، پالیسی یا رواج کسی بھی صورت میں نہیں باقی رہنے دینا چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18943 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp