اکِھل گگوئی: جیل میں قید نوجوان جس نے اپنی والدہ کی مدد سے بی جے پی کو ہرایا

دلیپ کمار شرما - گوہاٹی سے بی بی سی ہندی کے لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میرے بیٹے اکِھل نے کیا جرم کیا تھا کہ وہ ڈیڑھ سال سے جیل میں ہے؟ کیا آسام کے لوگوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا جُرم ہے؟ میرا بیٹا کوئی چور یا ڈکیت نہیں ہے جسے حکومت نے قید رکھا ہوا ہے۔ اکِھل شروعات سے ہی آسامی لوگوں کے وجود کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہے۔ شیوا ساگر کے لوگوں نے اُسے جتوا کر اس کی فتح پر مہر ثبت کی ہے۔ میں نئی حکومت سے کہنا چاہتی ہوں کہ میرے بیٹے کو جلد از جلد چھوڑ دیں۔ اسے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کام کرنا ہے۔‘

یہ الفاظ 85 سالہ پریادا گگوئی کے ہیں۔ آسام کے اسمبلی انتخابات میں اپنے بیٹے اکِھل گگوئی کی فتح کے بعد جب وہ یہ کہہ رہی تھیں تو اُن کی آواز میں اپنے بیٹے کی جیت پر خوشی کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف غصہ بھی جھلک رہا تھا۔

اکِھل گگوئی انڈین ریاست آسام کے ایک مشہور کارکن اور کسان رہنما ہیں۔ وہ اپر آسام میں شیوا ساگر کے حلقے سے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد سے خبروں میں ہیں۔ مگر کئی لوگ اکِھل کی کامیابی کو اُن کی بوڑھی والدہ پریادا گگوئی کی کاوشوں کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’آج بی جے پی کے ساتھ جو بنگال نے کیا کل پورا ملک کرے گا‘

ممتا بینرجی کی واحد ’غیر متوقع‘ شکست اور بی جے پی کی انا کی جنگ

مغربی بنگال کی ’دیدی‘ جن کے مخالفین بھی ان کی سادگی کے معترف ہیں

درحقیقت شیواساگر اسمبلی کے انتخابات کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی سے لے کر وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور کانگریس رہنما راہل گاندھی تک نے اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں انتخابی جلسے منعقد کیے تھے۔

دوسری جانب انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون سی اے اے کی سخت مخالفت کے باعث اکِھل گگوئی دسمبر 2019 سے جیل میں ہیں۔ چنانچہ وہ انتخابی مہم کے لیے اس علاقے میں موجود نہیں تھے۔

اس وقت اکِھل گگوئی کی صحت مبینہ طور پر خراب ہے اور وہ عدالتی تحویل میں گوہاٹی میڈیکل کالج ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اس کے باوجود وہ فتح کا پرچم لہرانے میں کامیاب رہے۔

جیل میں موجود اکِھل گگوئی نے آسام کے اسمبلی انتخابات میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی بطور آزاد امیدوار جمع کروائے تھے اور وہ حکمران جماعت بی جے پی کی امیدوار سورابھی راجکونوری کو 11 ہزار 875 ووٹوں سے شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج 46 سالہ اکِھل گگوئی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ مانا جا رہا ہے۔

درحقیقت انڈیا میں سب سے پہلے شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے آسام سے ہی شروع ہوئے تھے اور اکِھل گگوئی اِن کا مرکزی چہرہ تھے۔ اُنھیں پولیس نے 12 دسمبر 2019 کو گرفتار کر لیا تھا اور اُن کے خلاف تعزیراتِ ہند کی کئی شقوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

اس کے علاوہ اُن کے خلاف ریاست کے کئی شہروں میں مقدمات درج کیے گئے۔ انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بھی اُن کے خلاف دو مقدمات درج کیے ہیں جس کے باعث وہ اب تک ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

اکِھل گگوئی کی والدہ پرجوش انداز میں کہتی ہیں: ’مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ اُس نے سب کچھ آسام اور اس کے لوگوں کے لیے قربان کر دیا۔ میرا بیٹا صحیح کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُنھیں جیل میں ڈالنے کے باوجود شیوا ساگر کے لوگوں نے اُن کے لیے ووٹ کیا۔ ہمارا آسام دوبارہ سونا بنے گا۔‘

لوگوں سے ملے بغیر انتخاب کیسے جیتا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوا ساگر کے ایک ٹیچر منیندر لہون نے بی بی سی کو بتایا: ’اکِھل گگوئی کی شیواساگر کے لوگوں سے آخری ملاقات سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے دوران ڈیڑھ سال قبل ہی ہوئی تھی۔ جہاں تک شیواساگر سے انتخاب جیتنے کا معاملہ ہے تو وہاں کے لوگوں نے آسام کے نسلی و لسانی مسائل کے حل کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سی اے اے کے نفاذ سے آسامی ذات، زبان اور ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اکِھل نے ایمانداری سے اس متنازع قانون کے خلاف لڑائی لڑی۔ یہاں کے لوگ اس بارے میں جانتے ہیں ورنہ یہاں پر پیسے کی قوت اتنی زیادہ تھی کہ اکِھل ایسی صورتحال میں کبھی بھی نہ جیت پاتے۔‘

اکِھل خود جیل میں تھے اور اُن کی پارٹی اُن کی جیت کے لیے مہم چلائے ہوئے تھی، تو اکِھل کی انتخابی مہم کیسے مختلف تھی؟

اس سوال کے جواب میں منیندر کہتے ہیں کہ ‘وہ لوگ جو اکِھل کے کام سے واقف ہیں، وہ بہت ذہین اور سیاسی طور پر بالغ لوگ ہیں۔ اکِھل طویل عرصے سے شیواساگر کے کسانوں کے مسائل پر آواز اٹھا رہے تھے اس لیے شیواساگر کے لوگوں نے یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے اُنھیں ووٹ دیا۔‘

اکِھل کی والدہ کا کردار

منیندر کہتے ہیں: ’اس کے علاوہ دوسری سب سے اہم چیز اکِھل کی عمر رسیدہ والدہ تھیں۔ ایک طرح سے وہ لوگوں سے اپنے بیٹے کے لیے انصاف مانگ رہی تھیں۔ آخر کیوں آسامی لوگوں کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے کسی شخص کو اتنے طویل عرصے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ہر آسامی شخص کے ذہن میں تھا اور اب بھی ہے۔ اس لیے جب اکِھل کی والدہ در در جا کر لوگوں سے ملیں تو اس کا لوگوں پر جذباتی اثر ہوا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’میں نے خود دیکھا ہے کہ اتنی عمر اور بیماریوں کے باوجود اکِھل کی والدہ لوگوں سے ایک عام انسان کی طرح مل رہی تھیں۔ وہ لوگوں سے اپنے بیٹے پر ہونے والے ظلم کے بارے میں بات کیا کرتیں۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت ماں سے نہیں جیت سکتی اور شیواساگر کے لوگوں نے اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے۔‘

مجھے انتخابی مہم نہیں چلانی آتی

انتخابی مہم کے بارے میں اکِھل گگوئی کی والدہ کہتی ہیں: ’سچ بتاؤں تو مجھے انتخابی مہم نہیں چلانی آتی۔ میں صرف جا کر لوگوں سے ملا کرتی۔ اس وقت کچھ نوجوان میرے ساتھ چلتے۔ ہم اکِھل کی تحریک کے بارے میں لوگوں سے بات کیا کرتے۔ میں ہمیشہ شیواساگر کے لوگوں کی احسان مند رہوں گی۔ یہاں کے لوگوں نے نہ صرف اکِھل کی حمایت کی بلکہ اُن کی تحریک کو بھی درست ثابت کیا۔ اب اکِھل کو یہاں کے لوگوں کے لیے کام کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مغربی بنگال میں شکست: بے جے پی کے ’چانکیہ‘ کی سیاسی چالیں بھی کام نہ آئیں

ہسپتال کے بستر بیچنے کا سکینڈل: بی جے پی رہنما نے سترہ مسلمانوں کو نشانہ کیوں بنایا؟

جب آپ در در جا کر شیواساگر کے لوگوں سے مل رہی تھیں اور ملک کے بڑے رہنما انتخابی جلسے منعقد کر رہے تھے تو کبھی آپ کے ذہن میں آیا کہ آپ اکیلے کیسے اِن لوگوں کا مقابلہ کر سکیں گی؟

اس سوال کے جواب میں پریادا گگوئی کہتی ہیں: ’میرے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا کہ کون سا لیڈر کیا کہہ رہا ہے۔ میں تقریباً دو ماہ تک لوگوں سے در در جا کر مل رہی تھی۔ میں روز صبح سات بجے گھر سے اپنا کھانا ساتھ باندھ کر نکل جاتی۔ میرے ساتھ رائے جور دل کے نوجوان ہوا کرتے۔ کئی مرتبہ میں رات دیر سے واپس لوٹتی۔ درحقیقت یہ میرے لیے انتخابی مہم کی طرح ہی تھا کیونکہ سوال میرے بیٹے کا تھا۔‘

پریادا کہتی ہیں: ’اکِھل ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اچھی نوکری کر کے اچھی زندگی گزار سکتا تھا مگر اُس نے آسام اور اس کے لوگوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ شروع سے ہی میں چاہتی تھی کہ وہ لوگوں کی آواز بنیں۔ اسے اپنی زندگی معاشرے کی خدمت میں بتانی چاہیے۔ میں لوگوں سے انتخابی مہم کے دوران بات کرتی تھی اس لیے مجھے اکِھل کی جیت کا یقین تھا۔ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔‘

نریندر مودی اور امیت شاہ کی ناکامی

اسمبلی انتخابات کے اعلان سے چند دن قبل ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے شیواساگر میں ایک لاکھ بے زمین لوگوں میں زمین کی لیز تقسیم کی۔ اس وقت کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ نشست بی جے پی کے ہاتھوں سے چلی جائے گی۔ یہاں وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے بھی جلسے کیے اور اپنی حکومت کے ترقیاتی منصوبے عوام کے سامنے رکھے، مگر اکِھل کی والدہ کے سامنے کسی لیڈر کا جادو نہیں چل سکا۔

اپر آسام میں سی اے اے سے متعلق تمام سیاسی واقعات کی کوریج کرنے والے اویک چکرورتی کہتے ہیں کہ ‘ان انتخابات بالخصوص اپر آسام میں یہ لگتا تھا کہ بی جے پی سی اے اے کے باعث کچھ سیٹیں ہار جائے گی مگر شیواساگر کے علاوہ کسی بھی نشست پر ایسا نہیں ہوا۔’

وہ کہتے ہیں کہ ’شیواساگر ایک طویل عرصے سے بائیں بازو کے نظریات کا گڑھ رہا ہے۔ یہاں کے نوجوان ووٹر اس سے بڑی حد تک متاثر ہیں۔ اکِھل گگوئی کو اس سب کا فائدہ ہوا۔ اس کے علاوہ اُن کی والدہ کی انتخابی مہم نے بھی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک مضبوط جمہوریت میں ہم تمام قوت کسی ایک شخص یا جماعت کو نہیں دے سکتے۔ تاہم آسام جتیہ پریشد کی خراب کارکردگی اور سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے اکِھل گگوئی کی جماعت رائے جور دل کے جنم لینے سے واضح ہوتا ہے کہ اُنھیں باقی ماندہ نشستوں پر سی اے اے مخالف زیادہ ووٹ نہیں پڑے۔‘

‘اکِھل کا نوجوانوں پر بہت اثر پڑا’

شیواساگر ڈسٹرکٹ سٹوڈنٹ لبریشن وار کمیٹی کے منس جیوتی دتہ کہتے ہیں کہ ‘شیواساگر ودھن سبھا میں 18 پنچایتیں ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو مختلف پنچایتوں میں بوتھ کمیٹیاں بنا کر لوگوں سے رابطہ مہم چلانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ کریشک مکتی سنگرم سمیتی پہلے ہی اکِھل گگوئی کی قیادت میں لوگوں کے مسائل پر کام کر رہی تھی، اس لیے ہمارے لیے لوگوں سے رابطہ کرنا آسان رہا۔’

دتہ مزید کہتے ہیں کہ ‘اسی دوران اکِھل کی والدہ مسلسل لوگوں سے مل رہی تھیں۔ اس سے عوام کو اچھا پیغام گیا۔ نوجوان ووٹر اکِھل کی شخصیت سے متاثر تھے اور اُنھوں نے بڑی تعداد میں اُن کو ووٹ دیا۔ ان وجوہات کی بنا پر اُن کے لیے جیتنا آسان ہوگیا۔’

اکِھل گگوئی اور ریاستی وزیرِ صحت ہیمنت بسوا شرما کے درمیان کئی برس سے سخت تنازع چل رہا ہے۔ اکِھل گگوئی کسی زمانے میں گوہاٹی کے مشہور کاٹن کالج میں ہیمنت کے جونیئر ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد ہیمنت سیاست میں آ گئے۔

اسی دوران اکِھل گگوئی نے سنہ 2005 میں ایک تنظیم کریشک مکتی سنگرم سمیتی بنائی تاکہ کسانوں کے حقوق کے لیے لڑا جا سکے۔ تب سے اب تک وہ مختلف مسائل پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

اکِھل نے کئی مرتبہ عوامی طور پر ہیمنت پر کرپشن کا الزام عائد کیا ہے۔ ہیمنت نے اُن کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمات بھی دائر کیے ہیں۔ اکِھل گگوئی کے خلاف اس وقت اندازاً ایک سو سے زیادہ مقدمات چل رہے ہیں۔

اکِھل کی تنظیم بڑے ڈیموں سمیت مختلف حکومتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے خلاف اور کسانوں اور اُن کے روزگار کے تحفظ کے لیے مہم چلاتی رہی ہے۔ مگر تازہ انتخابات سے قبل اُن کی تنظیم کے چند نمایاں کارکنوں نے اکِھل کی سربراہی میں رائے جور دل نامی سیاسی جماعت بنائی۔ تاہم ان انتخابات میں اُن کی جماعت کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی ہے۔

تحریک میں انّا ہزارے کا کردار

دلی کے وزیرِ اعلیٰ اروِند کیجریوال کی طرح اکِھل گگوئی بھی کسی دور میں سماجی کارکن انّا ہزارے کی ٹیم کے اہم رکن تھے اور اب اروِند کیجریوال کی طرح اکِھل گگوئی بھی سیاست میں داخل ہو چکے ہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ جس طرح اکِھل اپنی تحریکوں سے حکومت کو پریشان کرتے رہے ہیں، اسی طرح وہ اسمبلی کے اندر بھی نظر آئیں گے۔

اس کے بارے میں ہیمنت بسوا شرما کہتے ہیں ‘اکِھل گگوئی نے انتخاب میں فتح حاصل کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک طرح سے وہ طلبہ سیاست اور تحریکوں کی سیاست کے بعد اب جمہوری سیاست میں قدم رکھیں گے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اب پارلیمانی سیاست میں حصہ لیں گے اور اب تک وہ جو غیر پارلیمانی کام کرتے رہے ہیں، اس سے باہر آئیں گے۔’

ہیمنت بسوا شرما نے مزید کہا: ‘میں چاہتا ہوں کہ وہ اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کی طرح اچھا کردار ادا کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ٹائر جلانے اور سڑکیں بلاک کرنے جیسے کام اب آسام میں نظر نہ آئیں بلکہ صرف آسام کی ترقی کی بات ہو۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp