وبا کے نام
ایک وقت تھا ہم انسان مل جل کر خوشیاں منایا کرتے تھے۔ ہمارے پاس ہنسی اور قہقہے وافر مقدار میں موجود تھے اور ہم ان کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ ہم اپنے جذبوں کے اظہار کے معاملے میں خاصے امیر واقع ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے زندگی کے عنوان سے حسین گیت گنگناتے تھے۔ ان دنوں تم دور کہیں آسمانوں پر موجود تھیں اور آنے والے لمحوں میں ہماری بے بسی کا سوچ کر تمہارے چہرہ یقیناً مسکراہٹوں سے بھر جاتا ہو گا۔
ہم انسان اپنے خوابوں کو تعبیروں کا عنوان دینے میں مصروف تھے کہ تم چلی آئیں۔ تم جو وبا ہو، تم جو خوف ہو، تم جو درد، اذیت، تکلیف اور موت ہو۔ تم جو قطرہ قطرہ زہر پورے وجود میں انڈیل دیتی ہو۔ تم جو دوڑتی سانسوں کو لمحوں میں خاموش کر دیتی ہو۔ تم جو بہت پیارے اور قیمتی لوگوں کو ہم سے دور لے جاتی ہو۔ ہم بے بسی سے خوشبو جیسے اپنے پیاروں کو تمہارا شکار بنتے دیکھتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں پاتے۔ ہمارے قبرستان بھرتے جا رہے ہیں۔
ہمارے گورکن اب قبریں کھودتے کھودتے تھکنے لگے ہیں۔ ہمارے گھروں کے اندر آہوں اور سسکیوں نے جیسے بسیرا کر لیا ہے۔ ہم تم سے مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ ہمارے حوصلے اب ٹوٹنے لگے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک نہ ایک روز تو ہمارے وجود تمہارے خوف سے آزاد ہوں گے۔ ایک صبح تو ایسی آئے گی جب تم ہمیں چھوڑ کر بہت دور چلی جاو گی لیکن تب تک ہمارا کتنا نقصان ہو چکا ہو گا۔ ہمارے بچھڑے تو عمر بھر کا روگ دیے کر ہم سے دور چلے گئے ہوں گے۔
نجانے ابھی ہمیں اور کتنوں کا ماتم کرنا ہے۔ تمہارا کام تو بس ہمارے وجود کو کھوکھلا کرنے کا ہے۔ ہم نے تو تمہارے خوف سے اپنے رہنے کے ڈھنگ ہی بدل لئے ہیں۔ لیکن پھر بھی تمہارے وار کم نہیں ہو رہے۔ تم انسانوں کی بو سونگھتی پھرتی ہو اور پھر لمحوں میں انہیں بے بس کر دیتی ہو۔ اے مہکتی سانسوں کی دشمن برسوں بعد آنے والے نسلیں جب تمہارا ذکر کریں گی تو یہ بھی بتائیں گی کہ لاکھوں انسانوں کا خون پینے کے بعد جب تم نے کچھ مزید خوشبو جیسے پیاروں کی سانسوں کو خاموش کرنا چاہا تو کوئی ایک مسیحا ضرور ایسا آیا تھا جس نے تمہیں دبوچ لیا تھا اور پھر تم ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔
ہم تمہاری وجہ سے گھروں میں بند ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ تم اپنے ساتھ مفلسی بھی لائی ہو۔ کتنے ہی انسان تم سے دور بھاگتے ہیں تو مفلسی انہیں گھیر لیتی ہیں اور بتاتی ہے کہ وہ تمہاری ساتھی ہے۔ جب تک تم ہو وہ بھی یونہی گھروں میں ڈیرے ڈالتی رہے گی۔ ہم انسان ان آفتوں کا شکار بننے کے بعد اب مسکرانا بھول چکے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں موجود پھولوں کی دکانیں اب صرف قبروں پر ڈالنے کے لئے پھول بیچتی ہیں۔ عطر فروش خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔
خوشبو ان کے پاس سے ختم ہو چکی ہے۔ مسکراہٹیں تقسیم کرنے والے جس گھر میں جاتے ہیں وہاں موجود آنسوؤں کے درخت ان مسکراہٹوں کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ شادیانے بجانے والوں کے ساز خاموش ہیں۔ فضا میں آہوں اور سسکیوں کی مقدار اس قدر بڑھ چکی ہے کہ خوشی کے گیت اب کسی کو سنائی نہیں دیتے۔ ہم انسان بے بسی سے اپنے پیاروں کو آسمانوں کی طرف جاتے دیکھ رہے ہیں۔
ہم نہیں جانتے کہ ابھی ہمیں اور کتنے آنسو بہانے ہیں۔ کتنے پیاروں کو کھونے کے بعد وبا سے پاک وہ حسین صبح طلوع ہو گی جب ہم پھر سے زندگی کے خواب دیکھیں گے۔ ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہمارا رب یہ نوید دیتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں ہے۔ امیدوں بھرا درخت ہم نے اپنے صحن میں اگا لیا ہے۔ وبا سے پاک اس درخت کا پھل ہم نہیں تو ہماری آنے والی نسلیں ضرور کھائیں گی۔


