کائنات سے پردہ اٹھ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس وقت ایک کمرے میں بیٹھا ہوں، یہ کمرہ میرے گھر میں ہے، میرا گھر لاہور میں ہے، لاہور پاکستان میں ہے، پاکستان ایشیا میں ہے، ایشیا زمین پر واقع ہے، زمین نظام شمسی کا حصہ ہے، یہ نظام شمسی ایک کہکشاں کے ’اندر‘ ہے جس کا نام ملکی وے ہے، یہ ملکی وے ان کھربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہے جو اس کائنات میں ہیں، یہ کائنات شاید کسی اور کائنات کے ’اندر‘ واقع ہے اور وہ کائنات کسی تیسری کائنات کے ’اندر‘ اور تیسری کائنات غالباً کسی چوتھی کائنات کے ’اندر‘ ہوگی اور یوں یہ سلسلہ ’نا تمام‘ ہی رہے گا!

یہ انسانی ذہن کی محدودیت کی ایک مثال ہے، ہمارے ذہن میں ہر شے کا تصور کسی دوسری شے کے ساتھ جڑا ہے، ہم یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز سے ماورا وجود بھی رکھ سکتی ہے، ہمارا دماغ جب کسی شے کے وجود کا تعین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کسی دوسری شے کے اندر تلاش کرتا ہے اور وہ دوسری شے ہمیں کسی تیسری شے کے اندر ملتی ہے اور یہ یوں سوچ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کہیں رکتا نظر نہیں آتا۔

کانٹ نے اس پر بہت تفصیلی بحث کی ہے اور انسانی عقل کی حدود کا تعین کر کے بتایا ہے کہ ما بعد الطبیعاتی اشیا کا ادراک انسانی عقل سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے آپ کی آنکھوں پر سبز رنگ کا چشمہ چڑھا دیا جائے جسے آپ اتارنے کا اختیار نہ رکھتے ہوں تو آپ کو ہر شے سبز ہی دکھائی دے گی اور یوں آپ سبز رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کا تصور بھی نہیں کر سکیں گے۔ یہی معاملہ انسانی عقل کی حدود کا ہے، ہماری عقل اور ذہن کی ساخت ہی اس قسم کی ہے کہ یہ ہر شے کو کسی دوسرے شے کے اندر موجود پاتی ہے حتیٰ کہ جب ہم خدا کا تصور بھی ذہن میں لاتے ہیں تو اس کا وجود بھی لا محالہ کائنات کے اندر ہی تلاش کرتے ہیں جبکہ وہ کائنات سے ماورا ایک ہستی ہے مگر ہمارے ذہن میں یہ تصور سما نہیں پاتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس محدود انسانی ذہن کے ساتھ کائنات کے اسرار سے مکمل پردہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ اور کیا انسانی ذہن اور عقل کی یہ حد کبھی ختم کی جا سکتی ہے یا اسے بڑھا کر اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ یہ لا محدود کا احاطہ کر سکے؟ بالفاظ دیگر کیا ہم کبھی اپنی آنکھوں پر چڑھا سبز چشمہ اتارنے کے قابل ہو سکیں گے؟

’ایرتوس تھینس‘ 276 قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا، یہ بیک وقت سائنس دان، شاعر او ر ماہر فلکیات تھا۔ اس نے اپنے شہر سائینی میں ایک تجربہ کیا جو آج تک سائنس کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس مرد عاقل نے اسکندریہ میں ایک چھڑی زمین میں گاڑی اور دوسری سائینی میں۔ پھر اس نے مشاہدہ کیا کہ بیک وقت اگر دونوں جگہوں پر یہ چھڑیاں کوئی سایہ نہ بنائیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ زمین چپٹی ہے اور اگر برابر سایہ بنائیں تو بھی اس کا یہی مطلب ہو گا کہ زمین چپٹی ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین چپٹی ہو اور ایک ہی وقت میں سائینی میں چھڑی کا سایہ نہ ہو جبکہ اسکندریہ میں اس کا اچھا خاصا سایہ ہو! ایرتوس تھینس نے سوچا کہ اس سوال کا واحد جواب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین دراصل چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ زمین کا خم جتنا زیادہ ہو گا اتنا ہی دونوں چھڑیوں کے سایوں کا فرق زیادہ ہو گا۔

سورج کا زمین سے فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ جب اس کی شعائیں زمین تک پہنچتی ہیں تو وہ سیدھی پڑتی ہیں مگر دونوں چھڑیوں کے سائے میں فرق زمین کے خم کی وجہ سے پڑتا ہے۔ ایرتوس تھینس نے ان دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ ماپنے کے لیے ایک بندے کی خدمات حاصل کیں جس نے بتایا کہ یہ فاصلہ آٹھ سو کلومیٹر ہے، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس مرد دانا نے جب دونوں چھڑیوں کے سائے کے حجم کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ آپس میں سات ڈگری کا زاویہ بناتی ہیں جو ایک دائرے کی مکمل گولائی، جو تین سو ساٹھ ڈگری ہوتی ہے، کا پچاسواں حصہ بنتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کی مکمل گولائی معلوم کرنے کے لیے دونوں شہروں کے درمیان فاصلے کو پچاس سے ضرب دینی پڑے گی، ایرتوس تھینس نے جب آٹھ سو کو پچاس سے ضرب دی تو نتیجہ چالیس ہزار کلومیٹر آیا۔ یہی زمین کا محیط ہے۔ اس بات کو کارل ساگان نے اپنی شہرہ آفاق سائنسی دستاویزی فلم ’کوسموس‘ میں، قدیم مصر کا نقشہ سامنے رکھ کر اور سورج کی روشنی میں اس میں دو چھڑیاں گاڑ کر، بے حد خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

اپنے سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔ آج سے تئیس سو سال قبل ایک شخص نے محض دو چھڑیوں کی مدد سے زمین کا محیط معلوم کر لیا تھا۔ آج سائنس اس سے کہیں آگے پہنچ چکی ہے، مریخ پر انسان اپنی گاڑی اتار چکا ہے، ہبل ٹیلی سکوپ کائنات میں تیر کر کہکشاؤں کی تصاویر لے رہی ہے، کوانٹم فزکس یہ معلوم کر چکی ہے کہ ایٹم کولا متناہی ذروں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی ایک حد ہے۔ کوانٹم گریویٹی کے ذریعے یہ بات اب تقریباً ثابت شدہ ہے کہ لا متناہی طور پر چھوٹے نقاط وجود نہیں رکھتے اور لا محدود کا تصور وہ نہیں جو پہلے کبھی ہمارے محدود ذہن تھا، اب لامحدود وہ ہے جسے ہم معلوم نہ کر سکیں یا جس کی تہہ تک نہ پہنچ پائیں، کوانٹم گریویٹی جب ایٹم کی تہہ تک پہنچی تو معلوم ہوا کہ اسے لا محدود طریقے سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا، ایٹم کو جس حد تک تقسیم کیا جا سکتا ہے وہ حد آج ہمیں معلوم ہے۔

آج اگر ایرتوس تھینس، دیماکریتس، اناکس منیس اور ارشمیدس زندہ ہوتے تو ان سائنسی دریافتوں پر جھوم اٹھتے۔ آج سے دو اڑھائی ہزار سال پہلے اس قسم کی سائنسی دریافتوں کے بارے میں بھی شاید یہی سمجھا جاتا ہو گا کہ انسانی ذہن کبھی یہ معلوم نہیں کر پائے گا کہ ایٹم کو کس حد تک تقسیم کیا جا سکتا ہے، ہزاروں سال پہلے غاروں میں رہنا والا انسان جب کہکشاں پر نظر ڈالتا ہو گا تو یہ گمان بھی نہیں کر سکتا ہو گا کہ ایک دن کوئی شخص کسی مشین میں بیٹھ کر چاند پر اتر جائے گا۔

سو آج جب ہم کہتے ہیں کہ انسانی ذہن محدود ہے اور اس میں لا محدود کائنات کا تصور نہیں سما سکتا تو عین ممکن ہے آج سے ہزار سال بعد کا انسان مصنوعی ذہانت کا ایسا کوئی طریقہ ایجاد کر لے جو انسانی ذہن کی حدود کا پابند نہ ہو۔ یعنی انسان تو شاید اپنا سبز چشمہ نہ اتار سکے کہ اس کا اختیار اسے ودیعت نہیں کیا گیا مگر وہ مصنوعی ذہانت کے کسی ذریعے سے اس کائنات کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہو جائے جس میں

اسے ہر رنگ صاف دکھائی دے اور ہر پردہ اٹھتا چلا جائے۔ یہ اب صرف وقت کی بات ہے کہ کائنات کے اسرار سے پردہ کب اٹھتا ہے! بقول غالب: ’محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا، یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 204 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *