حکومت، امن اور یورپی یونین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست ہیں حاجی یونس، عمر کوئی ہوگی ساٹھ ستر سال کے قریب اور آج بھی رمضان کے روزے پورے رکھتے ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنے میں بہت لطف آتا ہے وہ کاروباری شخصیت ہیں اس لیے ان سے کاروبار کے بہت سے گر سیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہمیشہ آگے کی سوچتے ہیں۔ ایک دن ان کی دکان پر حسب معمول ملنے گئے تو ان کی گود میں دو یا تین سال کی بچی تھی۔ کہنے لگے انکل کو سلام کرو۔ میں نے شفقت سے پیارے دینے کے لیے بچی کے سر پر پاتھ پھیرا اور اس چھوٹی بچی کو لمبی عمر کی دعا دیتے ہوئے پوچھا۔

حاجی صاحب! یہ بچی کی آنکھ پر کیا ہوا ہے اور خود ہی کہہ دیا کہیں گری تھی بیٹا! حاجی صاحب نے ایک پرتکلف گالی دیتے ہوئے کہا۔ ایہہ سٹ اوس کنجر نے لائی وے۔ یعنی حاجی صاحب بتا رہے تھے یہ تلوار کا نشان ہے اس بچی کا بھائی یعنی حاجی یونس کا پوتا ارطغرل بنا ہوا تھا اور بہن کا گلا کاٹنے لگا تھا وہ تو اچانک جب ہم نے دیکھ لیا تو اس نے وہی تلوار ( کوئی لوہے کی پتری وغیرہ) زور سے اس کے منہ پر دے ماری اور بے غیرت بھاگ گیا۔

میں نے زر لب مسکراتے ہوئے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا حاجی صاحب۔ یہ تو بڑی خطرناک بات ہے۔ بچوں کا دھیان رکھنا چاہیے۔ حاجی صاحب دوبارہ بولے یہ جو آج کل مشہور خانہ (یعنی ارطغرل) لگا ہوا ہے یہ اسی کا تحفہ ہے۔ میں نے پھر قہقہہ لگا اور کہا جناب دیں مبارک باد ہمارے ہینڈسم وزیراعظم کو ان کی جد و جہد سے قوم انتہاپسندی کی مزید منازل طے کر کے غزوہ ہندہ گھر گھر سے شروع کر رہی ہے۔ ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر مشقیں ہماری گلی گلی اور گاؤں گاؤں جاری ہیں۔

انشا اللہ اس فصل کا پھل بھی ہم جلد کاٹنے والے ہیں۔ ویسے تو یہ ایک واقعہ نہیں ایسے بے شمار واقعات آج کل رونما ہور ہے۔ بچیاں اغوا ہو رہی ہیں، زمینوں پر قبضے ہور ہے، غیر مسلم کو ان کی نوکریوں سے بے دخل کرنے کی جد و جہد جاری ہے جن کے غیر حتمی نتائج آئے روز موصول ہو رہے ہیں۔ لاہور کے ایک مینٹل ہاسپٹل میں تو گھر جا کر پر قبضہ ہوتے ہوتے بچا بلکہ راولپنڈی ہولی فیملی میں تو چرچ تقریباً اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ امن کی حمایت اور انصاف کے لیے احتجاج پر عام آدمی کی طرف سے پابندیاں لگ رہی ہیں۔ بالعموم عام شہری، کمزور، کم ذات شہری اور بالخصوص غیر مسلم پاکستان مذہبی انتہاپسند ذہنیت کے زیر عتاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔

پچھلے دنوں جو تماشا ہمارے دیس کے شہروں میں برپا ہو اس پر مجھے تو ذاتی طور پر رنج ہوا ہمارے بہت سے لوگ مارے گئے بالخصوص پولیس والے حضرات اور وہ لوگ جو جلوس میں ثواب کی غرض سے آئے تھے بیچارے زندگی اور روز گار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سرکار کو خاص مبارک باد جنہوں نے اپنے شکست پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کیں اور آئندہ دنیا کو بے وقوف بنانے کے ایجنڈے پر مزید کام کی طرف توجہ دینے پر زور دیا۔ لوگ مر رہے تھے، روزگار تباہ ہو رہے دیہاڑی دار اپنے بچوں کے گلے لگ کر رو رہے تھے اور اپنی دعاؤں میں رب سے شکوے کر رہے تھے کہ یا اللہ اولاد عطا کی ہے تو رزق بھی عطا فرما۔ حکومت پریس کانفرسیں کر کے قوم کو امن و شکست کی مبارک بادیں دے رہے تھے۔

دنیا ایک طرف ہے اور ہم ایک طرف۔ کاش ہمیں سمجھ آ جائے کہ آج کی جنگ معاشیات کی جنگ ہے، ٹیکنالوجی اور ذرائع کی جنگ ہے لیکن ہم جذبہ ایمان سے سرشار دنیا کو شکست دینے کے خوابوں میں اپنے ہی گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ ہماری وزارت داخلہ آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے آنسو چھپاتی پھر رہی ہے۔ وزارت عظمٰی دنیا میں نئی قوانین متعارف کرنے نکلی تھے کہ یورپی یونین کی جی ایس پی کی تلوار سر لٹکائے پھر رہی ہے۔

آخر کب تک ہم ایسی صورت حال میں رہیں گے۔ میں اقلیتوں کا نوحہ کیسے لکھوں یہاں تو اکثریت محفوظ نہیں۔ ہم تو اپنا لہو بہا رہے ہیں دنیا ہمیں کیسے امن پسند قوم مانے۔ کیسے دنیا کا انویسٹر ہمارے ملک میں آئے۔ ہمارا وطن واقعی خوب صورت ہے لیکن اگر محبوب ہی نہ ہو تو خوبصورتی کاہے کی۔ کوئی ہمیں دیکھنے والا ہی نہ ہو، کوئی ہماری تعریف کرنے والا نہ ہو تو ایسی خوبصورتی بھاڑ میں جائے۔ ہم اور ہماری سرکار یہ تسلیم کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں کہ امن، خوشحالی لاتا ہے۔ خوشحالی صحت، صحت تندرست اور تخلیقی ذہن پیدا کرتی ہے۔ شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ہینڈ سم۔ ورنہ قوم گھاس کھانے کے لیے تیار رہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments