کورونا وائرس: نیپال میں بھی انڈیا جیسے حالات، نہ بیڈ، نہ آکسیجن، لاشوں کے انبار

گرپریت سینی - بی بی سی نامہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی طرح نیپال میں بھی کورونا کی دوسری لہر شدت سے جاری ہے۔ گذشتہ ماہ وہاں کوررونا کے یومیہ 100 کیسز سامنے آرہے تھے، لیکن اب یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ نیپال ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً تین کروڑ ہے۔

نیپال کی وزارات صحت کے مطابق پیر کو 24 گھنٹوں میں کورونا کے 9،127 نئے کیسز سامنے آئے اور اور 139 اموات درج ہوئی ہیں۔

کورونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد سے وہاں اب تک تقریباً 4000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور حالیہ دنوں میں اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے.

وہاں اب تک کل 4 لاکھ 37 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے۔

انڈیا کی طرح ہی نیپال میں بھی کورونا کی دوسری لہر نوجوانوں کو اپنی لیپٹ میں لے رہی ہے۔ نیپال میں کورونا کے شکار ہونے والوں میں 20 سے 40 برس کی عمر کے لوگ شامل ہیں۔

نیپال کے سینئر صحافی سرنیدر فویال نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’بیشتر نیپال میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ اس کے باوجود بھی کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تقریباً ہر گھر میں ایک مریض ہے۔ ہسپتال لوگوں کو علاج اور آکسجین فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے، ’پشوپتی ناتھ آریہ گھاٹ پر انسانی لاشوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہر ایک گھنٹے میں ایک ہیلی کاپٹر کٹھمنڈو سے باہر سے کووڈ کے مریضوں کو لارہا ہے یا لے کر جارہا ہے۔ یہ افسوس ناک مناظر ہیں۔‘

کووڈ کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کٹھمنڈو کے باغمتی ندی کے کنارے پر ادا کی جارہی ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں میں نیپال میں کورونا کے کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

بدحال نظامِ صحت

انڈیا کے نظامِ صحت کو کم از کم نیپال سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر میں انڈیا کے نظامِ صحت پر بہت دبا‎‎‎ؤ ہے اور یہ نظام تقریباً اپنا دم توڑ چکا ہے۔

نیپال میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران وہاں کے صحت کے نظام اور اس کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: پاکستان میں پلازما تھیراپی سے علاج کا پہلا تجربہ

انڈیا میں کورونا وائرس کا بحران کیسا دکھائی دیتا ہے؟

گذشتہ مئی کے حکومتی کووڈ -19 رسپانس پلان کے مطابق، تین کروڑ کی آبادی کے لیے ملک میں صرف 1،595 آئی سی یو کئیر بیڈ اور 480 وینٹیلیٹر ہیں۔ ڈاکٹروں کی بھی بہت کمی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ، ایک لاکھ لوگوں پر صرف 7۔0 ڈاکٹر ہیں۔ انڈیا میں یہ یہ تعداد 9۔0 ہے۔

10 مئی کو جاری اعدادوشمار کے مطابق نیپال میں 6،715 افراد انسٹی ٹیوشنل آئسولیشن میں ہیں، 910 مریض آئی سی یو اور 295 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔ صرف کٹھمنڈو میں 1618 افراد آئسولیشن میں ہیں، 176 افراد آئی سی یو اور 95 افراد وینٹیلیٹر پر ہیں۔

لیکن جو افراد گھر پر آئسولیٹ ہیں انہیں ہسپتال میں علاج یا بیڈ میسر نہیں ہے اور وہ آکسجین کی کمی سے متاثر ہیں۔

آٹھ مئی کو نیپال کے ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے ملک کے 77 میں سے 22 اضلاع میں ہسپتالوں میں بیڈز کی کمی ہے۔

نیپال کی وزارت صحت نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ حالات بے قابو ہورہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’انفیکشن کے کیسز اتنے بڑھ گئے کہ وہ نظام صحت کے قابو سے باہر جاچکے ہیں۔ ہسپتالوں میں بیڈ فراہم کرانا مشکل ہوگیا ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی نیپال میں ویکسینیشن کی شرح بہت سست ہے۔ گذشتہ ماہ کے آخر تک 2۔7 فی صد آبادی کو ہی ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے۔

بیڈ اور آکسجین کی کمی

نیپال کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر نہیں ہیں۔ آکسیجن ختم ہوتی جارہی ہے.

متعدد مریضوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جان اس لیے گئی کیونکہ آکسیجن کا سیلنڈر ہی نہیں ملا۔ یہاں تک کہ دارالحکومت کٹھمنڈو کے بڑے پرائیوٹ ہسپتال بھی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھال نہیں پارہے ہیں ۔ وہ یہاں آکسیجن اور آکسجین کے سیلنڈر کم ہورہے ہیں۔

روزانہ کے نصف سے زیادہ کیسز کٹھمنڈو، بھکت کپور اور للت پور میں درج کیے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ کیسز دارالحکومت کٹھمنڈو میں سامنے آرہے ہیں۔ اب تک سب سے زیادہ 863 اموات بھی وہیں ہوئی ہیں۔

نیپال ٹائمز کے مطابق، مریضوں کے اہل خانہ اور دوست شہر میں بھاگتے پھر رہے ہیں اور آکسجین بنانے والوں اوردواخانوں سے اپنے مریضوں کے لیے سیلنڈر بھروانے کی کوشش کررہے ہیں۔

بعض ہسپتالوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر ان کے یہاں آکسیجن کی سپلائی بڑھائی نہیں گئی تو وہ کورونا کے مریضوں کو داخل نہیں کریں گے۔

موجودہ بحران کے لیے آکسیجن کی غلط تقسیم کو وجہ بتاتے ہوئے وزارت صحت نے سنیچر کو 10 آکسیجن پرڈیوسرز کو نوٹس جاری کیا اور کہا تھا کہ وزارت کے خط کے بغیر وہ کسی بھی سرکاری، نجی یا کمیونٹی ہسپتال کو آکسیجن نہیں ديں گے۔

پرائیوٹ ہسپتالوں نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ نجی اور کمیونٹی ہسپتالوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گا اور زندگی بخشنے والی آکسیجن کے لیے انہیں حکومت کی جانب سے اجازت لینے میں وقت برباد کرنا پڑے گا۔

کھٹمنڈو کے آکسیجن پلانٹس ایک دن میں تقریباً آٹھ ہزار سیلنڈر تیار کرتے ہیں۔ لیکن آکسیجن پلانٹس کے مالکوں کا کہنا ہے کہ موجودہ طلب ان کی صلاحیت سے باہر ہے۔ مینوفیکچررز نے اتوار کے روز سے بغیر حکومت کے اجازت نامے کسی کو بھی آکسیجن دینا بند کردیا ہے۔

نجی ہسپتالوں کے ایک گروپ ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ ہیلتھ انسٹیٹیوشن آف نیپال کا کہنا ہے کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں بیڈ نہیں، نجی ہسپتالوں میں بیڈ نہیں ہیں لیکن حکومت کے فیصلے کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہونے پر بھی وہ علاج نہیں کر پا رہے ہیں۔ اب تک ہم آکسیجن پلانٹ کے باہر لائن لگارہے تھے۔ اب ہمیں حکومت کے اجازت نامے کے لیے وزارت میں قطاریں لگانی ہون گی۔‘

سنیچرکی دوپہر کچھ ہسپتال میں آکسیجن ختم ہوگئی تھی۔ وہاں کوویڈ کے 50 مریض تھے۔ مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ایک سرکاری ہسپتال سے آکسجین لینی پڑی۔

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ وزارت صحت کا اجازت نامہ اس لیے لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ آکسیجن کی کمی کے مسئلے سے صحیح طریقے سے نمٹا جاسکے۔

حکومت نے اب کہا ہے کہ ماسک ، سینیٹائزر اور گھر میں رہنے جیسے اقدامات کرنے سے ہی اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ شہریوں کو خود اپنا خیال رکھنا چاہیے، بعض لوگ اپنے لیے آئسولیشن وارڈ اور آکسیجن بینک تیار کررہے ہیں۔

متعدد نوجوان گروپس ضرورت مندوں کے لیے آکسیجن سیلنڈر مہیا کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

s100 گروپ’ سے وابستہ افراد کھٹمنڈو میں صنعتی آکسیجن صارفین کا پتہ معلوم کر کے ان سے آکسجین لے کر اسے بیمار مریضوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل ورکرز سوشل میڈیا کے ذریعہ مدد کی پیش کش کررہے ہیں اور کچھ فون نمبر شیئر کر رہے ہیں۔

حکومت نے ان صنعتوں سے جو آکسیجن استعمال کرتی ہیں کہا ہے کہ یا تو اس کا استعمال بند کر دیں یا اسے کم کردیں۔

s100 گروپ’ کے ببلو گپتا نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا ہے، ’سیاستدان اپنے گھروں میں محفوظ ہیں جبکہ نوجوان اپنی جان داؤ پر لگا کر آکسجین سیلنڈر تلاش کررہے ہیں اور لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں بھی انفیکشن ہوسکتا ہے، لیکن دوسرے کی زندگی بھی زندگی ہے۔‘

‘ہمرو ٹیم نیپال’ گروپ بھی کٹھمنڈو کے بعض ہسپتالوں تک دن رات مفت آکسیجن پہنچانے کا کام کررہا ہے۔

گذشتہ ہفتے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (IFRC) نے انتباہ کیا تھا کہ نیپال میں کورونا وائرس کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

نیپال ریڈ کراس کے سربراہ ڈاکٹر نیتر پرساد تیمسینا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ہم نے کورونا کی موجودہ صورتحال پر قابو نہیں پایا تو نیپال کا حال بھی انڈیا جیسا ہوگا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ نیپال کے متعدد ہسپتالوں خاص طور سے انڈین سرحد سے متصل جنوبی شہروں میں ہسپتال بھر چکے ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد نیپال آرہی ہے۔ تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایسے ہی ملک میں وائرس پھیلتا رہا تو بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

کمبھ میلے کی تصویر

Getty Images
انڈیا میں کورونا کی صورتحال بے حد خراب ہے

نیپال میں حالاتکیسے بگڑے؟

نیپال کی موجودہ صورتحال کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو ہی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈیا کی طرح یہاں بھی تہوار، سیاسی اجتماعات اور شادی بیاہ ہوتے رہے۔

کورونا کی موجودہ صورتحال اپریل میں خراب ہونا شروع ہوئی۔ اس وقت وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے لوگوں کو کورونا سے بچنے کی گھریلو ترکیب بتائی اور کہا کہ امرود کے پتوں سے غرارے کرنے سے وائرس کا علاج ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ نیپالیوں کی قوت مدافعت بہت مضبوط ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ مصالحے کھاتے ہیں۔

لوگ بڑی تعداد میں مذہبی تقاریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے۔ یہاں تک کہ وہ کمبھ میلے میں شرکت کے لیے انڈیا آئے جہاں سے لوٹنے والے متعدد افراد کووڈ پوزیٹو نکلے۔

کھٹمنڈو کے نوروک انٹرنیشنل ہسپتال کے ایک بیان کے مطابق ، کمبھ سے واپس آنے والے بہت سارے کووڈ پوزیٹیو افراد میں نیپال کے سابق بادشاہ گیانیندر شاہ اور رانی کومل شاہ بھی شامل تھیں۔

اسی دوران ہزاروں افراد نیپال کے دارالحکومت میں پاہن چرے تہوار کے لیے جمع ہوئے۔ متعدد لوگ قریبی شہر بھسک پور میں جاترا منانے کے لیے جمع ہوئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ ایسا نہ کریں۔ حکومتی پوسٹرز میں کہا گیا تھا ، ’ہمارے تہوار ہماری زندگی سے زیادہ پیارے نہیں ہیں۔‘

بعض افراد نیپال میں کورونا کے بحران کے لیے انڈیا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ اس کی سرحد کھلی ہوئی ہے اور لوگوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بعض نیپالی انڈیا میں ملازمت کرتے ہیں اور دونوں ممالک میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔

انڈیا کو اس لیے بھی ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے کیونکہ کٹھمنڈو کے باہر سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ایک بانکے ضلع کا نیپال گنج شہر اترپردیش کی سرحد سے بہت قریب ہے۔ ایسا دیکھا گیا تھا کہ جب دونوں ممالک کے درمیان سرحد بند کی جارہی تھی اس سے قبل بھارت سے ہزاروں نیپالی تارکین وطن اچانک اس ضلع میں داخل ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ کے پی اولی حکومت کو اس لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ کوویڈ 19 کے پھیلنے کے باوجود انھوں نے لوگوں کو ہمالیہ کی چوٹیوں پر چڑھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔ پچھلے مہینے یہ خبر آئی تھی کہ یہ وبا ایورسٹ بیس کیمپ تک پہنچ چکی ہے، حالانکہ حکام نے اس کی تردید کی ہے۔

کوہ پیماء کہتے رہتے ہیں کہ انفیکشن کی لہر کو چھپایا جارہا ہے۔ نیپال نے اس سیزن میں 740 کلائمبنگ پرمٹ جاری کیے ، جن میں سے 408 ایورسٹ کے لیے تھے۔

نیپال کی حکومت کیا اقدامات کررہی ہے؟

کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق، نیپال کے وزیر صحت نے تمام تنقید کے بعد کہا ہے کہ انتظامیہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے کا کام کر رہی ہے اور حکومت نے ہار نہیں مانی۔

لمبی چھٹیوں پر گئے ہیلتھ ورکرز کو واپس بلایا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی نیپال آرمی نے ریٹائرڈ میڈیکل سٹاف کو بھی کہا ہے کہ وہ واپس کام پر آنے کو تیار ہوجائیں۔

ڈسٹرکٹ کووڈ کرائسز مینیجمنٹ سینٹر نے کھٹمنڈو میں لاک ڈاؤن کو مزید 15 دن بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ اگلے احکامات تک دسویں اور بارہویں کے امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں۔

نیپال کے وزیر صحت ہردیش ترپاٹھی نے گذشتہ ہفتے میڈیا کو بتایا تھا کہ حکومت متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا سے 40 ہزار سیلنڈر درآمد کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ نیپال نے پیر کو 800 آکسیجن سیلنڈر اور دیگر طبی سامان لانے کے لیے ایک جیٹ طیارہ چین روانہ کیا ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ گیاولی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق چین کی جانب سے عطیہ کیا گیا ضروری میڈیکل سازو سامان بیجنگ میں نیپال کے سفارتکار کو سونپ دیا گیا ہے۔

https://twitter.com/roshankhadka3/status/1391719449066049538

نیپال بین الاقوامی مدد کا خواہاں ہے۔ وزیر اعظم اولی کے خصوصی اقتصادی مشیر موتی لال ڈووگر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومت نجی اور سرکاری اسپتالوں میں وارڈ بڑھانے کے کہہ رہی ہے۔ سرکاری عمارتوں کو آئسولوشن وارڈز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق نیپال نے روس سے ویکسین کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ 20 لاکھ سپٹنک فائیو کے حفاظتی ٹیکوں کا آرڈر دیا گیا ہے اور کوڈ ویکسین کے لیے ہندوستان اور چین کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال کے آخر تک کم سے کم 60 سے 70 فیصد آبادی کو ویکسین لگا دی جائے۔

اگرچہ نیپال کا مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا ہے ، لیکن نیپال بھی ایک سیاسی بحران سے دوچار ہے ، جو ملک کو معاشی بحران کی طرف لے جارہا ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے پیر کو اعتماد کا ووٹ گنوا دیا ، جس کے بعد ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ نیپال کا سیاسی مستقبل توازن میں لٹک رہا ہے اور اس سے کورونا سے نمٹنے کی امیدوں کو مجروح کیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19457 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp