پاکستان کا وہ علاقہ جہاں آج سعودی عرب سے بھی پہلے عید منائی جا رہی ہے، ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں بدھ کی صبح کچھ علاقوں سے ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جہاں لوگ نئے کپڑے پہننے مساجد سے باہر نکل رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہنستے مسکراتے مل رہے ہیں۔ یہ تصاویر سابق قبائلی علاقے وزیرستان کے متعدد علاقوں کی ہیں جہاں آج سعودی عرب سے بھی پہلے عید منائی جا رہی ہے۔

مقامی صحافی نور بہرام نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں حیدر خیل کے علاقے سے چاند نظر آنے کی گواہی موصول ہونے کے بعد عید منانے کا اعلان ہوا۔ جن علاقوں میں عید کی نماز کے اجتماعات ہوئے ان میں شمالی وزیرستان کا ہیڈکوارٹرز میران شاہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کم سروبی، میر علی غلام خان، سیدگی، منظر خیل، بویہ لانڈ، اور سید آباد میں بھی آج عید منائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا وزارت سائنس پاکستان کو ایک عید دے سکے گی؟

مسجد قاسم علی خان کی تاریخ اور چاند دیکھنے کی روایت سے اس کا تعلق

شہادتیں یا سائنس: مفتی منیب کے جانے اور نئی رویت ہلال کمیٹی کے آنے سے کیا کچھ بدلے گا؟

چاند حیدر خیل سے ہی کیوں نظر آتا ہے؟

عید منانے کی گواہی گذشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے میر علی میں حیدر خیل علاقے کا ایک خاندان دیتا آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی جب پشاور کی مسجد قاسم علی خان سے مرکزی روایت ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کیے بغیر عید کا اعلان ہوتا تھا تو اس کی بنیاد بھی شمالی وزیرستان کے علاقے حیدرخیل سے موصول ہونے والی گواہیاں ہی ہوتی تھیں۔

نور بہرام کے مطابق حیدر خیل کا یہ خاندان 25 رمضان کے بعد چاند نظر آنے سے متعلق اپنے کام کا آغاز کر دیتا ہے اور پھر وہ ہر روز یہ بتاتے ہیں کہ اب چاند گردش کرتے ہوئے فلاں علاقے تک پہنچ چکا ہے۔

ان کے مطابق مقامی افراد ان کی اس گواہی کو سائنسی حقیقت کی طرح قبول کرتے ہیں۔

’سعودی عرب سے قبل عید منفرد واقع ہے‘

نور بہرام کے مطابق یہ تو سچ ہے کہ حیدرخیل سے موصول ہونے والی گواہی کی روشنی میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں دیگر پاکستان سے قبل عید منائی جاتی تھی مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سعودی عرب سے بھی پہلے عید کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس کی ایک وجہ مقامی سیاست بھی ہے، جہاں جعیت علمائے اسلام نے سرکاری کمیٹی کو مشکل میں ڈالنے کے لیے عید منانے سے متعلق مقامی افراد کی گواہیوں کو ترجیح دینے کے لیے مہم چلائی۔

عید منانے والوں میں سے ایک پاکستان کی پارلیمنٹ کے رکن محسن داوڑ بھی ہیں۔

عید کی گواہی اور اعلان کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

بی بی سی کے بلال خان کے مطابق شمالی وزیرستان میں چاند نظر آنے سے متعلق گواہی دینے والوں اور بدھ کو عید کا اعلان کرنے پر مولانا مفتی رفیع اللہ سمیت دیگر افراد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ تاہم مقامی افراد کے مطابق ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں نو افراد کو ’جھوٹی گواہی‘ دینے اور اس گواہی کی بنیاد پر عید کا اعلان کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ان نو افراد کے اس عمل سے عوام میں بدامنی کا احتمال پیدا ہوا ہے، جو امن عامہ کے حق میں نقصان دہ ہے۔

ان افراد کے اس عمل کو احترام رمضان آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

ماضی میں عید کے تنازع کے باوجود سعودی عرب سے پہلے عید نہ منانے پر اتفاق رہا

خیبر پختونخوا میں چاند دیکھنے کی روایت عام ہے اور اکثر دیہاتوں میں لوگ شوقیہ ہر ماہ چاند دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں اور انھیں اس میں کافی مہارت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود کبھی سعودی عرب سے پہلے انھوں نے چاند نظر آنے کی گواہی نہیں دی۔

ہر سال کی طرح گذشتہ برس حکومتی رویتِ ہلال کمیٹی کے برعکس پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں ایک غیر سرکاری کمیٹی نے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں عید کا چاند دیکھنے کے حوالے سے اجلاس شروع کیا تو سعودی عرب میں عید کا چاند نظر نہ آنے کے اعلان کے ساتھ ہی یہ اجلاس بھی ختم کر دیا گیا۔

پشاور میں قائم قدیم مسجد قاسم علی خان کا ایک خصوصی تعلق چاند دیکھنے کی روایت سے کئی عشروں سے جڑا ہوا ہے اور یہ روایت اس تاریخی مسجد کی منفرد خصوصیت شمار ہوتی ہے۔ سال میں خاص طور پر دو یا تین مرتبہ جب رمضان کا چاند یا عید کا چاند دیکھا جاتا ہے تو اس وقت ملک میں دو عیدیں یا دو مختلف تاریخوں پر روزہ رکھنے کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔

اس سے قبل تو پاکستان میں شاید مسجد قاسم علی خان ہی وہ واحد مسجد تھی، جہاں مسجد کی انتظامیہ چاند کے بارے میں فیصلہ کرتی تھی اور اسے صوبے میں تسلیم بھی کیا جاتا تھا مگر اس بار یہ معاملہ پشاور سے نکل کر سیدھا حیدرخیل تک پہنچ گیا جہاں اب عید کا فیصلہ ایک مقامی خاندان اپنی دانش کے مطابق کرتا ہے اور لوگ اسے تسلیم بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں رویت ہلال پر تنازع

پاکستان میں رمضان اور شوال کا چاند ہمیشہ سے ہی مختلف تنازعات کی زد میں رہتا ہے، کبھی کسی ایک صوبے میں عید کا اعلان پہلے کر دیا جاتا ہے تو کبھی ’سائنس بمقابلہ مذہب‘ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔

رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر پورے ملک میں عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے گذشتہ برس کی عید سے قبل جب سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، جن کے پاس اب وزارت اطلاعات کا قلمدان ہے، نے سائنس کی مدد سے پانچ سال کا قمری کیلینڈر جاری کرنے کا اعلان کیا تو رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب نے فواد چوہدری کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔

تقریباً دو دہائیوں کے بعد رویت ہلال کمیٹی سے مفتی منیب کی چھٹی کرا دی گئی ہے مگر حیدرخیل سے آنے والی گواہی میں اس قدر تیزی آئی ہے کہ اب سعودی عرب سے بھی تیز ہو گیا ہے۔

فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’مسئلہ منیب الرحمنٰ صاحب کا نہیں اس تشریح کا ہے کا جو ہمارا ایک مذہبی طبقہ کرتا ہے، جس کی رو سے علم اور ٹیکنالوجی کو رد کیا جاتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp