جموں و کشمیر میں رمضان کا آغاز پاکستان کے ساتھ: کشمیری حکام ’آزاد‘ رویتِ ہلال کمیٹی کیوں چاہتے ہیں؟

جموں و کشمیر میں جب بدھ کو یہ اعلان کیا گیا کہ رمضان کا آغاز جمعہ کو ہوگا تو لوگوں نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان میں اعلان ہوتے ہی جمعرات کو ہی پہلی روزہ رکھا۔

Read more

پشاور – تاریخ اور حال پارٹ2 

یادگار چوک ؛ یہ چوک مسجد مہابت خان کے پاس ہی واقع ہے جہاں 1892 میں جنرل ہیسٹنگ کی یاد میں ایک یادگار بنائی گئی تھی جسے ہیسٹنگ میموریل کہا جاتا ہے۔ 1930 میں قصہ خوانی بازاز کے خونریز سانحے کے بعد یہ یادگار ان شہدا کے نام کر دی گئی۔ موجودہ دور میں یہ جگہ مذہبی و سیاسی اجتماعات کے لیے بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ کننگھم ٹاور ؛ پشاور کی کئی تاریخی عمارتیں اس کے ماضی کی شان و

Read more

’میرا دل یہ پکارے آ جا۔۔۔‘ عائشہ کا وائرل ہونا کچھ لوگوں کو کیوں نہیں بھا رہا؟

عائشہ کو اپنی وائرل ویڈیو پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اُنھیں پروگرام میں بلانے پر میزبان ندا یاسر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔  

Read more

پھر شہادتیں ناکافی رہیں، پھر عیدیں تین ہی ہوئیں

روزہ اور عید الفطر اکثر رویت کے حوالے سے متنازعہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ تنازعہ اٹک کے اس پار نہیں بلکہ اس پار ہوتا ہے۔ سال کے دیگر دس مہینے کوئی رویت کا تنازعہ نہیں ہوتا اور نہ یہ جو ایک دن کا فرق رہ گیا ہوا ہوتا ہے وہ پورا سال چلتا ہے بلکہ زیادہ لمبا نہیں عید بقر یا دس ذی الحج پر کبھی بھی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا۔ دراصل اس مسئلے کے کئی جہات ہیں اور

Read more

پاکستان میں عید کے چاند پر تنازعہ: پشاور کی مسجد قاسم علی خان کا چاند دیکھنے کی روایت سے تعلق کتنا پرانا ہے؟

پشاور میں قائم قدیم مسجد قاسم علی خان کا ایک خصوصی تعلق چاند دیکھنے کی روایت سے کئی عشروں سے جڑا ہوا ہے. لیکن مسجد قاسم علی خان کی تاریخ کیا ہے؟

Read more

افغانستان: ایک اور درد ناک کہانی کا آغاز

انتقام یا بدلہ افغانوں کی جبلت کا طاقت ور ترین رویہ ہے۔ یہ گماں لہٰذا احمقانہ خام خیالی ہوگا کہ طالبان اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد ان تمام افراد کو کھلے دل سے معاف کردیں کہ جو ان کی دانست میں گزشتہ 20برسوں سے انہیں دربدر کرنے والوں کے سہولت کار رہے۔ عام افغانوں کو اس حقیقت کا بخوبی احساس ہے۔ اسی باعث جو طیارے کابل ایئرپورٹ سے پرواز کو تیار تھے ان میں سوار ہونے کی ہر ممکن

Read more

طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ: کون سے رہنما اہم، قیادت کس کے ہاتھوں میں ہے؟

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ابھی جاری ہی تھا کہ کابل طالبان کے قبضے میں آ گیا اور اس بڑی پیش رفت کے بعد اب افغانستان کا منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔

امریکہ ہنگامی بنیادوں پر کابل سے سفارتی عملے کو نکال رہا ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ طالبان کی قیادت کون کر رہا ہے، کون کس عہدے پر فائز ہے اور طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہے؟

Read more

کابل کے ذرائع سے براہ راست – حماد حسن کی زبانی

کابل کے موجودہ اور قابل توجہ منظر نامے میں اس وقت طالبان کے تین لوگ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان تین لوگوں میں مولوی ہیبت اللہ اخوند زادہ کو امیر المومینین کا درجہ حاصل ہے جو بنیادی طور پر طالبان کی رہبر شوری (لیڈر شپ کونسل) کے سربراہ کا عہدہ ہے۔ مولوی ہیبت اللہ کا تعلق قندھار سے ہے وہ روس افغان جنگ میں ایک اہم کمانڈر کی حیثیت سے سامنے آئے تھے اور گوریلا جنگ کے حوالے

Read more

ملا عبد الغنی برادر، ہیبت اللہ اخونزادہ: طالبان تنظیم کے اہم رہنما کون ہیں جو مستقبل میں قیادت سنبھال سکتے ہیں؟

طالبان نے تقریبا پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امیر اللہ صالح ملک چھوڑ چکے ہیں۔

Read more

مفتی عزیز الرحمان سکینڈل: کیا علمائے کبار چپ رہیں گے؟

مفتی عزیز الرحمان کے سکینڈل نے مدارس میں بچوں کے تحفظ کو نکتہ بحث بنا دیا ہے۔ اس معاملے پر عوامی ردعمل نہایت شدید تھا مگر علمائے کبار کی جانب سے ایک مکمل اور مہیب خاموشی دکھائی دی۔ دینی حلقوں سے جڑے نوجوانوں نے اس معاملے پر عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ ان کی رائے یہی دکھائی دی کہ وہ مسجد و مدرسے کو یوں بدنام کرنے پر مفتی عزیز الرحمان سے شدید ناراض ہیں۔

Read more

علامہ ہشام الہی ظہیر نے مفتی عزیز کو سنگسار کرنے، مفتی پوپلزئی نے سخت سزا کا مطالبہ کر دیا

علامہ ہشام الہی ظہیر نے آج اپنے خطبے میں مفتی عزیز الرحمان کو سخت سزا دینے اور سنگسار کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں ایسا کرنے والے کو سنگسار کرنے، پہاڑ سے گرانے یا زندہ جلا دینے کی سزا دی جاتی ہے۔ جبکہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے مفتی عزیز الرحمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔

Read more

ملالہ اور ہم پاکستانی عوام

ملالہ یوسفزئی کے بیان پہ بہت بحث ہو چکی ہے۔ اس سارے قضیے میں مفتی پوپلزئی اور ملالہ کے والد کی ٹویٹر چیٹ پڑھنے والی ہے۔ مفتی صاحب نے  نہایت مناسب الفاظ میں سوالات پوچھے جس کے جواب میں ملالہ کے والد نے خوش اخلاقی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا جیسا سمجھا گیا اور ویسے بھی اس کی بات کو سیاق سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔ ملالہ نے دیسی ماؤں کی بچیوں کی شادی کو لے کر فکرمندی پہ بات کی تھی کہ اماں کہتی رہتی ہیں کہ فلاں کا رشتہ آیا ہے فلاں کا رشتہ آیا ہے جواب میں ملالہ نے یہ بات کی کہ پارٹنر کو پانے کے لیے نکاح نامے پہ دستخط ضروری تو نہیں۔

Read more

پاکستانیوں کو ملالہ سے کیا پریشانی ہے؟

خیبر پختون خوا اسمبلی میں ملالہ یوسف زئی کے بیان پر وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امن انعام یافتہ 23 سالہ ملالہ نے برطانوی میگزین ’ووگ‘ کو ایک انٹرویو میں شادی، پارٹنر شپ اور محبت کے موضوع پر بات کی تھی۔ ملالہ جولائی کے ’ووگ‘ میگزین کےسرورق پر جلوہ افراز ہوں گی۔ جریدے نے ان کی کچھ تصاویر جاری کی ہیں اور طویل انٹرویو کے کچھ حصے نیٹ پر شائع کئے ہیں۔ لیکن پاکستانی قارئین ’ملالہ شادی

Read more

متھیرا بنام ملالہ: ماں سے زیادہ چاہے۔۔۔

ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کے ”ووگ میگزین“ کو انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے یقینا اس میں سے بہت کچھ پاکستانی معاشرے کے لیے قابل ہضم نہیں ، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو اسے سوال کا جواب دیا جائے نہ کہ اس کا منہ نوچا جائے یا روح کو کھرونچا جائے۔ کہ پھر وہ سوال کرنا ہی چھوڑ دے۔سندھ کے ایک دانشور عزیز اللہ بوهیو صاحب نے اپنی کتاب ”ادب جا فکری محرک“ (ادب

Read more

‘ملالہ کے انٹرویو کو بد نیتی اور منفی تاویلات کے ساتھ پیش کیا گیا’

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی کے شادی سے متعلق حالیہ بیان پر جہاں بحث جاری تھی وہیں ان کے والد نے ملالہ کے بیان کی وضاحت کی ہے۔

ملالہ نے برطانوی فیشن میگزین ‘برٹش ووگ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنی ہے؟ اگر آپ کسی شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہے؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔

Read more

آخر مفتی پوپلزئی ہی درست نکلے

جو اعلان پشاور کی مسجد قاسم خان کے مفتی پوپلزئی 23 شہادتوں کے حوالے سے اندھیرا پھیلتے ہی کر چکے تھے، اسی نتیجہ تک پہنچنے کے لئے مولانا عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چھ گھنٹے کی طویل مشقت سے گزرنا پڑا۔ تب جاکر یہ دریافت ہوسکا کہ عید کا جمعرات کومناناہی صائب ہوگا۔ یہ بحث پاکستان تو کیا عالم اسلام میں بھی کبھی ختم نہیں ہوسکے گی کہ چاند دیکھنے اور اس کے مطابق اسلامی

Read more

پاکستان میں رواں برس بھی ایک سے زائد عیدوں کی روایت برقرار

پشاور — پاکستان میں رواں برس بھی تین مختلف دنوں میں عید الفطر منانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بدھ کی شام اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں چاند کے شواہد ملنے کے بعد عید کے بارے میں فیصلہ اور اعلان کیا جائے گا۔ البتہ شمالی وزیرستان میں بدھ کو عید منا لی گئی ہے۔

Read more

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں آج سعودی عرب سے بھی پہلے عید منائی جا رہی ہے، ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج

آج پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شمالی وزیرستان کے متعدد علاقوں میں عید منائی جا رہی ہے۔ پولیس نے عید کی گواہی دینے اور ان گواہیوں کو منظور کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

Read more

میوزک سٹریمنگ سروس سپوٹی فائی پاکستان میں لانچ کر دی گئی

سویڈن میں قائم کی جانے والی سپوٹی فائی کمپنی نے دو روز قبل اعلان کیا کہ وہ دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک میں 36 سے زیادہ زبانوں میں اپنی سروسز کو متعارف کروا رہی ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اور اس کے بعد اب وہ دنیا کے 170 ممالک میں فراہم کی جا رہی ہے۔

Read more

مفتی منیب: کیا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی تبدیلی سے پاکستان میں چاند سے متعلق تنازع ختم ہوگا؟

پاکستان میں رمضان اور شوال کا چاند ہمیشہ سے ہی مختلف تنازعات کی زد میں رہتا ہے، کبھی کسی ایک صوبے میں عید کا اعلان پہلے کر دیا جاتا ہے تو کبھی ‘سائنس بمقابلہ مذہب’ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔

Read more

یک نہ شد دو شد

یہ کہاوت سب سے پہلے میں نے اپنے والد صاحب سے تب سنی جب وہ کسی کو ڈانٹ رہے تھے۔ میں سمجھا شاید یہ بھی اپنی نوعیت کا ”ہندکو“ زبان میں کوئی خاص جملہ ہے۔ جو کوئی خاص مفہوم رکھتا ہے، جس کا جاننا شاید مضر ہو، اس لئے کسی سے پوچھنے کی جرات نہ کر سکا۔ پھر اس کے بعد بھی کسی نہ کسی موقع پر یہ کہاوت سننے کو ملتی، پھر ایک دور وہ بھی آیا جب مجھے پہلی دفعہ اس کا مفہوم سمجھ آیا اور پھر ترقی ہوئی اور پس منظر بھی سمجھ آ گیا۔ لیکن ایک آخری مسئلہ یہ باقی رہا وہ یہ کہ اس کہاوت کے فٹ کرنے تجربہ کب ہوگا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ دن بھی نصیب ہوا۔ وہ اس طرح کہ تبدیلی کے سونامی کی ڈھیر ساری مہربانیوں نے یہ موقع فراہم کیا اور کیا خوب کیا۔

آپ کو یاد ہو تو ہماری وزارت اطلاعات پر بڑے منجھے ہوئے لوگ گزشتہ 2 برس میں دیکھنے کو ملے، یا یوں سمجھ لیجیے کہ وزارت اطلاعات بڑی نکھری نکھری لگی۔ ڈاکٹر صاحبہ کے تو کیا کہنے۔ لیکن ان سے پہلے بھی ایک مایہ ناز شخصیت جو اس وزارت کا حسن رہی ہم ان کی بات کر رہے ہیں۔ اللہ کا کرنا کہ وزارت اطلاعات کی جان ان سے چھوٹ گئی۔ ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہمیں کہیں سے اڑتی اڑتی خبر ملی کہ اب محترم ہماری سائنس کو سہارا دینے جا رہے ہیں، محترم نے عہدہ سنبھالا اور یوں لگا کہ فرما رہے ہوں ”ہور کوئی ساڈے لائق خدمت“ بس پھر کیا تھا آخر اس سائنس کو بھی تو چار چاند لگنے تھے، سو لگ گئے۔

Read more

مبارک ہو چاند ہوا ہے

ابھی عید الفطر پہ ملنے والا زخم تازہ تھا کہ نیا گھاؤ مل گیا، یہ کیا کیسے اور کیوں ہوگیا، تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ اب تو لگتا ہے تبدیلی سر پہ ہی سوار ہوگئی ہے۔ یہ کیا غضب کہ ملک اس مسئلہ پر ایک ہوتا نظر آ رہا ہے جس مسئلہ ٔ پر دو صوبوں کے مفتی کبھی نہ ایک ہو سکے۔ میں چاند ڈھونڈنے کے مسئلہ ٔ کی بات کر رہی ہوں۔ کہ اب یہ مسئلہ ٔ مسئلہ

Read more

زرتاج گل بمقابلہ فواد چوہدری

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا اندازہ قائم کرنا قطعی ممکن نہیں کہ کب تک سوشل میڈیا کی حکمرانی انسانی اقدار اور اقوام کی سوچ پر حاوی رہے گی، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حقیقتاً بہت پرانے گم ہوئے روابط اسی سوشل میڈیا کی مرہون منت بحال ہوئے۔ بچپن کے ساتھی پچپن برس میں دوبارہ سے ایک

Read more

کیا عوام جاہل ہیں؟‎

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مایوسی اور غصے کی انتہائی حالت میں لاہور کے عوام کو جاہل کیا کہہ دیا سیاست کی ہنگامہ خیز فضا میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سنا ہے انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کرلی ہے مگر جو طوفان ان کے اس فرمودے سے سے اٹھا تھا اب وہ تھمتے تھمتے ہی تھمے گا کہ سیاست کے پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر میں یہی چلن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب سیاست میں

Read more

مفتی منیب الرحمان بمقابلہ فواد چوہدری: اختلافات اور حقیقت

مفتی منیب الرحمان اور فواد چوہدری کے درمیان قضیے میں پہلی اختلافی بات : رویت ہلال میں اصول مذہب ہے نہ کہ سائنس اور اختلاف کی صورت میں اعتبار مذہبی تعلیمات کا کیاجائے گا نہ کہ سائنس کا۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تمام علوم کا حامل ہونے کے باوجود روزے اور عید کا سبب رویت کو قرار دیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے علم دو قسم کا ہوتا ہے ؛ایک قطعی اور یقینی

Read more

رویت ہلال اور مفتی منیب الرحمٰن پر اعتراضات کا جواب

ویسے تو اس بار چاند کے معاملہ پر مفتی منیب بمقابلہ فواد چودھری کا ”ٹرینڈ“ زیر گردش رہا مگر معاملہ فواد چودھری تک محدود نہیں ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن کا نجانے اس معاملے پر کس کس سے مقابلہ ہوتا ہے۔ کبھی یہ ٹرینڈ مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی ہو جاتا ہے، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سلیم صافی، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سوشل میڈیا، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سائنس اور جانے کیا کیا۔

اگر بات مفتی منیب الرحمٰن سے شروع کی جائے تو مفتی منیب الرحمٰن کی ذات نہ صرف مسلکی، علاقائی و گروہی عصبیتوں سے پاک نظر آتی ہے بلکہ بارہا ایسے مواقع آئے جب تمام مسالک کی قیادت نے مفتی منیب الرحمٰن پر نہ صرف مکمل اعتماد کا اظہار کیا بلکہ ان کی تقرری بطور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کو بھی جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اگر کوئی محض تعصب کا شکار ہو کر مفتی صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو یہ اس کی تربیت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔ اگر دین و شریعت اور رویت ہلال سے متعلق چند بنیادی اصولوں کا سرسری سے بھی مطالعہ کر لیا جائے تو علم ہو جاتا ہے کہ اس ساری لڑائی میں کون درست ہے اور کون غلط، کون شرعی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھ رہا ہے اور کون اپنی خواہش نفس اور انا کی تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

Read more

عید کا چاند اور پاکستانی رویے

ماضی کی طرح اس بار بھی ہمارے فیصلہ سازوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا اور اس بار پھر پاکستانی حکومتی انتظامیہ کے مختلف اداروں میں چاند کے بارے میں فیصلہ سازی کا عمل ٹی وی کی سکرین پر کیا جا رہا ہے۔ صرف ایک ترقی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پہلے کی طرح علما کے دو گروپ نہیں۔ یعنی پشاور کے مولانا پوپلزئی اور رویت ہلال کے چیئرمین منیب الرحمن اس بار آمنے سامنے نہیں بلکہ آج رویت ہلال کمیٹی بمقابلہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی جس میں وزیر محترم انسانی ترقی کو دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے موجودہ سائنسی آلات کی بنیاد پر رویت ہلال کا فیصلہ چاہتے ہیں جبکہ مولانا منیب الرحمن کی سربراہی میں مذہبی طبقہ روایتی طریقے پر عمل کرنا چاہتا ہے چاہے اس میں شہر کی بلند ترین چھت پر دوربین کے استعمال کا تڑکا ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔

Read more