عید الفطر اور تکبیر رب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ایک معاشرتی وجود ہے۔ انسان میں موجود صلاحیتیں تبھی پھلتی پھولتی ہیں جب یہ ایک معاشرے میں باہمی تعامل اور تعاون کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر انسان کو معاشرے سے بالکل الگ تھلگ کر دیا جائے تو اس کے اندر موجود صلاحیتیں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ اس کے برعکس معاشرے سے علیحدگی اختیار کرنے کے نتیجے میں یہی صلاحیتیں ٹھٹھر کر رہ جائیں گی۔

اگرچہ لوگوں کی ایک قلیل تعداد نے معاشرے سے دور جنگلوں بیابانوں اور غار گپھاوں کی راہ لے کر بھی اپنی ایک خاص پہچان بنائی، لیکن معاشرے کا سواد اعظم ہمیشہ معاشرے کے ساتھ وابستہ رہ کر ہی کوئی خاطر خواہ کام کر پایا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک انفرادی شخصیت کے معاشرے کے ساتھ گھل مل کر رہنے سے اس کی کارکردگی کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

البتہ عام مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان ہر آن اور ہر صورت میں ایک ہی انداز میں جڑے نہیں رہتے۔ جڑے رہنے کی کیفیت ہر لمحہ تغیر پذیر رہتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ خرید و فروخت اور کاروبار کرتے وقت لوگوں کا جڑنا ایک قسم کی مجبوری ہوتی ہے۔ تاہم خوشی و غم اور سیر و تفریح کے مواقع پر لوگ جذباتی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ اس طرح انسان مل کر خوشی مناتے ہیں اور غم سہار لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

جہاں شادی بیاہ کی تقریبات معاشرے کے حسن کو برقرار رکھتے ہوئے مسکراہٹوں کا سامان کرتی ہیں وہیں انسانوں کا یکے بعد دیگرے جہان عدم کا مسافر بننا معاشرے کے ایک معتدبہ حصے کو حزن و ملال میں مبتلا کرتا ہے۔

تاہم انسانی معاشرے کے لئے تہوار ایسے مواقع ہوتے ہیں جو اس کو مجموعی طور پر خوشی و شادمانی سے سرشار کرتے ہیں۔ تہواروں کے دوران ایک قوم کسی خاص قدر کے ساتھ اپنی وابستگی کا کچھ اس طرح اظہار کرتی ہے کہ پوری قوم شاداں و فرحاں ہوتی ہے۔ قوم کا ہر فرد، بلا لحاظ رنگ و نسل، اس مشترکہ قدر کو اپنا اثاثہ سمجھتا ہے اور اس کے دوام کا خواہشمند ہوتا ہے۔

جب ہم تہواروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تہوار مختلف انواع و اقسام کے ہوتے ہیں۔ کچھ تہوار کسی قومی شخصیت کے ساتھ خاص ہوتے ہیں تو کچھ کا تعلق موسموں کے تغیر و تبدل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ تہوار فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح کئی تہوار مذہبی عقائد کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔

اسلام میں عیدین کا تعلق بے شک عقیدہ توحید کے ساتھ ہے۔ دراصل جب نبی (ص) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو وہاں پر یہود بھی اپنے مذہبی اور قومی تہوار مناتے تھے اور اہل مدینہ کے بھی دو خاص تہوار مقرر تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی جگہ عیدین کے دو تہوار مقرر فرمائے۔ ان میں سے عید الاضحٰی کی نسبت ابراہیم (ع) کی توحید کی خاطر دی گئی عظیم قربانیوں کے ساتھ ہے، جبکہ عید الفطر کا تعلق رمضان المبارک کے روزوں اور قرآن کی ہدایت کے ساتھ ہے۔

یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنیادی طور پر دونوں کی بنیاد اور اصل ایک ہی ہے، یعنی اللہ تعالٰی کی نعمتوں پر اللہ تعالٰی کی بڑائی کا اجتماعی اعلان و اظہار کرنا۔ جہاں تک عیدالفطر کا تعلق ہے تو اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ نبی (ص) نے فرمایا کہ ”روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کو افطار (فطر، روزہ کھولتے وقت) ہوتی ہے اور ایک خوشی اس کو اللہ تعالٰی کے ساتھ ملاقات کے وقت ہوگی۔“

اب جہاں تک افطار کا تعلق ہے تو مومن رمضان المبارک میں ہر روز افطار کرتا ہے اور اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس کو یہ خوشی اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ اسے روزہ کھولنے کے بعد کھانے پینے کی چھٹی مل جاتی ہے۔ دراصل اس کو خوشی اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ اس نے اللہ تعالٰی کا ایک حکم بجا لاکر اللہ تعالٰی کی رضامندی کا سامان کیا۔ اس خوشی میں اس وقت کئی گنا اضافہ ہوتا ہے جب پوری مسلم قوم عید الفطر کے روز مجموعی طور پر افطار کرتی ہے، یعنی عید کا تہوار مناتی ہے۔

یہاں پر بھی اس غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ خوشی کھانے پینے کی کھلی چھوٹ ملنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ فرحت اور شادمانی دراصل اللہ تعالٰی کے حکم کی بجاآوری کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں پر علماء کرام نے یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ جس دوسری خوشی کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے کہ وہ روزہ دار کو خدا سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی، تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ بندہ مومن دنیا کی تمام آزمائشوں اور بندشوں سے آزاد ہو کر خدا کی دہلیز پر کھڑا ہوگا اور خدا کی خوشنودی کا منتظر ہوگا!

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ تہوار تبھی تہوار کہلائے گا جب اس میں قوم کا ہر فرد شریک ہو سکے گا۔ اس لئے مساکین اور مفلوک الحال لوگوں کو اس خوشی میں شریک کرنے کے لئے ہر روزہ دار پر زکوٰۃ الفطر، جس کو عرف عام میں صدقہ فطر کہا جاتا ہے، عائد کیا گیا۔ اس بارے میں ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ صدقہ فطر دراصل روزہ کے دوران روزہ دار سے سرزد ہوئی کوتاہیوں کا کفارہ ہوتا ہے جو ضرورت مندوں کے لئے عید کی خوشی میں شریک ہونے کا باعث بنتا ہے۔

تاہم عید کے دن خوشی کے اظہار کو دین کی مجموعی روح کے ساتھ کچھ اس طرح ملایا گیا ہے کہ خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس اللہ تعالٰی کی بڑائی بیان کی جاتی رہے جس نے صوم اور قرآن کے ذریعے اپنے بندے کی ہدایت کا سامان کیا۔ عید کی زائد تکبیرات کے ساتھ نماز دراصل اسی بڑائی کے اعلان کا بہترین انداز ہے۔

یہاں پر یہ واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ اللہ تعالٰی کی بڑائی بیان کرنے کا یہ انداز ہر لحظہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، چاہے وہ کھانے پینے کی ستھری چیزوں کو حلال کرنے پر اللہ کی بڑائی کا اعلان کرنا ہو یا دیگر رموز بندگی سکھانے پر اس کی کبریائی بیان کرنے کا سوال ہو! نبی (ص) کو اللہ تعالٰی کی کبریائی کا اعلان و اظہار کرنا اس طرح سکھایا گیا ہے :

”اے کپڑا اوڑھنے والے۔ کھڑے ہو جائیے اور ڈرائیے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کیجئے۔“ (المدثر: 1۔ 3 )

اس طرح دین سر تا سر خدا کی بڑائی کا اعلان اور اظہار ہے۔ اسی لئے چاہے اذان ہو یا اقامت، صلوٰۃ ہو یا صوم، حج ہو یا ذبیحہ کے ذریعے اکل حلال کا حصول، ہر جگہ اللہ کی کبریائی بیان ہوتی رہتی ہے تاکہ انسان کی طرف سے کسی بھی ممکنہ استکبار کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے جس سے مستقبل کا کوئی بھی نمرود و، فرعون، ہامان، قارون، ابو جہل اور ابو لہب بر وقت متنبہ ہو کر ہوش کے ناخن لے! عیدالفطر بھی اللہ تعالٰی کی اسی کبریائی کے بیان کا سالانہ عالمگیر اور آفاقی دن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *