پیہم دواں ہے زندگی

تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جوں ہے زندگی رحم مادر سے باہر آتے ہی انسان کے منہ سے جو چیخ نکلتی ہے، وہ شاید اس تحیر کی ترجمانی کرتی ہے جو وہ ”تین تاریکیوں،“ جنہیں قرآن نے ”ظلمات ثلاث“ کہا ہے، سے نکل کر دنیا کی چکاچوند میں پہنچتے ہی محسوس کرتا ہے! علم جنین اور علم نفسیات کی رو سے بچہ رحم مادر کے اندر ہی خواب دیکھنا شروع کرتا

Read more

مولانا رومی

مولانا جلال الدین رومی کی پیدائش ( 1207 عیسوی) ایک ایسے وقت میں ہوئی اور انہوں نے ایک ایسے دور میں اپنا مخصوص اور غیر روایتی درس و تدریس کا عمل جاری رکھا جب دنیائے اسلام کو منگولوں نے تہہ و بالا کرنا شروع کیا تھا۔ 1258 عیسوی میں بغداد کی بربادی اسی منگول یلغار کی انتہا تھی۔ مولانا کے کلام، چاہے وہ ”مثنوی“ ہو یا ”دیوان“ یا پھر ”فیہ ما فیہ“ ، میں قنوطیت کے انداز نے بہت سارے

Read more

  دیدہ ہائے اشک فشاں :معاشرے کی مسکراتی اداسیاں

اسلام نے خاتون کو علم کے حصول میں اس قدر منہمک اور اس سے نتائج حاصل کرنے میں اس حد تک با حوصلہ اور بے باک بنا دیا کہ خلیفہ ثانی، سیدنا عمر (رض) جیسے حکمراں عادل کے سامنے ایک بوڑھی خاتون اٹھ کر خلیفہ کے اس فیصلے پر اعتراض کرتی ہیں کہ انہوں نے کس بنیاد پر عورتوں کا حق مہر متعین (فکس) کر دیا، جبکہ قرآن کی رو سے مرد یہ حق ڈھیر (قنطارا) کی صورت میں بھی

Read more

فرات کنارے : سیدنا حسین (رض) کی داستان عزیمت

شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے سماجی اور معاشی ارتقاء کی چہارگانہ درجہ بندی کی ہے، جنہیں انہوں نے اتفاقات کا نام دیا ہے۔ پہلے ارتفاق میں ظاہر ہے کہ انسان ناتجربہ کار تھا اور اپنی گزر اوقات شکار پر کرتا تھا اور غاروں گپھاوں کو اپنا مسکن بناتا تھا۔ دوسرے درجے میں انسان خانہ بدوشی کی صورت میں اپنا مسکن تبدیل کرتا رہتا تھا۔ اسے جہاں کہیں نخلستان، چراگاہیں اور پانی ملتا وہ اپنے ریوڑ وہاں منتقل کرتا رہتا تھا۔

Read more

جبین نیاز اور شخصیت کے خدوخال

اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جبین یا پیشانی میں انسان کی شخصیت کے تمام رموز موجزن ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ”چہرہ دماغ کا اشاریہ ہے یعنی فیس از دی انڈکس آف مائنڈ“ لیکن اگر چہرے کا بھی کوئی انڈکس (اشاریہ) ہے تو وہ جبین ہی ہے۔ انسان کی ”پر اسرار شخصیت“ کے اندر موجزن مختلف قسم کے جذبات و احساسات ہر آن پیشانی کے ذریعے آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی کے

Read more

ذبح عظیم اور توحید کی بازیافت

صحابہ (رض) اگرچہ رسالت مآب (ص) سے بہت کم سوال کیا کرتے تھے، لیکن قربانی کے بارے میں جب آپ (ص) سے استفسار کیا جاتا تھا کہ: ”ما ہذہ الاضاحی، یا رسول اللہ (ﷺ) ؟“ اے اللہ کے رسول (ص) ! ہم جو یہ قربانی کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ رسول اللہ (ﷺ) جواباً فرمایا کرتے تھے کہ ”سنت ابیکم ابراہیم (ع) !“ یعنی یہ آپ کے باپ، ابراہیم (ع) کی سنت ہے! مطلب صاف ظاہر ہے کہ صحابہ (رض)

Read more

کشمیر میں روحانیت کے نقیب میر سید علی ہمدانی (یوم وصال 6 ذوالحجہ)

قوموں کی تاریخ میں ایسے بھی فیصلہ کن مراحل آتے ہیں جب اگر سمت سفر کا صحیح تعین نہ کیا جائے تو قوم اپنا مقصد وجود کھو بیٹھتی ہے اور اس کے نقوش تاریخ عالم کے دفتر سے کچھ اس طرح محو ہوتے ہیں کہ انسانیت کے مجموعی اور مشترکہ حافظے سے اس کی یاداشت بالکل مٹ جاتی ہے! یعنی کسی بھی قوم کو اپنی قومی حیات کو جاوداں بنانے کے لئے ایسے معماروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے جو

Read more

عرفان حق اور معرکہ خرد و جنوں

اللہ تبارک و تعالٰی نے انسان کو عقل و فکر، نطق و بیان اور جذبات و احساسات کی صلاحیتوں سے مالا مال فرما کر باقی مخلوقات سے ممیز کر کے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز فرمایا۔ ظاہر ہے کہ یہ صلاحیتیں کسی خاص انسانی گروہ یا نسل کا امتیاز نہیں ہیں، بلکہ یہ کسی بھی تفریق کے بغیر انسانیت کو بالمجموع عطا فرمائی گئیں ہیں۔ ان صلاحیتوں سے نسل و رنگ یا جغرافیہ و وطن کی بنیاد پر کسی

Read more

خود سوزی: زندگی سے فرار کیوں؟

حیات عالم کے بحر ناپیدا کنار میں انسان کی زندگی اس حباب کی مانند ہے جس کا سطح آب پر پیدا ہونا ہی اس کے ناپید ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ اگرچہ حباب کا بھنور کی نذر ہونا طے ہوتا ہے، لیکن پھر بھی یہ اپنی حیات منوا کے ہی دم لیتا ہے! حباب اپنے ہونے کا احساس دلا کر ہی فنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو بھی اپنے ”ہونے“ کا عکس چھوڑ کر ہی ملک عدم کا مسافر ہونا ہوتا ہے۔ یہی کچھ وقفے کے لئے انسان کا ”ہونے“ کے بعد ”نہ ہونے“ پر راضی رہنا ہی اس کا اصل امتحان ہے۔

Read more

عالمی وبائیں اور بے بس انسان

دنیا وقفے وقفے سے کئی ایک وبائی بیماریوں کا شکار ہوتی رہی ہے۔ ہر وبا کی اپنی ایک خاص نوعیت رہی ہے اور ہر ایک نے روئے زمین کے تھوڑے یا بہت حصے کو متاثر کیا۔ انسان نے مختلف وباوں سے گزر کر بہت سارے جانی و مالی نقصان کے بعد وبا سے محفوظ رہنے کا طریقہ ضرور ڈھونڈ لیا، لیکن ان وباوں کے ذریعے خالق کائنات کی طرف سے یہ اعلان بار بار دہرایا گیا کہ: ان یشاء یذھبکم

Read more

عید الفطر اور تکبیر رب

انسان ایک معاشرتی وجود ہے۔ انسان میں موجود صلاحیتیں تبھی پھلتی پھولتی ہیں جب یہ ایک معاشرے میں باہمی تعامل اور تعاون کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر انسان کو معاشرے سے بالکل الگ تھلگ کر دیا جائے تو اس کے اندر موجود صلاحیتیں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ اس کے برعکس معاشرے سے علیحدگی اختیار کرنے کے نتیجے میں یہی صلاحیتیں ٹھٹھر کر رہ جائیں گی۔ اگرچہ لوگوں کی ایک قلیل تعداد نے معاشرے سے دور جنگلوں بیابانوں

Read more

قرآن، تقوی اور رمضان

اللہ تبارک و تعالٰی نے انسان کو ایک عظیم منصوبے کے تحت زمین پر بسایا۔ اس منصوبے میں انسان کے لئے رشد و ہدایت کا حصول ممکن بنا کر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا گیا۔ ان صلاحیتوں میں سماعت، بصارت اور فہم و ادراک کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انسان ہدایت کے ذرائع تک پہنچتا ہے اور ہدایت کی راہ پر گامزن رہ کر اس کو نہ صرف عرفان حق ہوتا ہے

Read more

آں کتاب زندہ، قرآن حکیم

صاحب (ص) قرآن کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن مقدس بھی زمانہ نزول سے ہی منکرین اور معاندین حق کی طعن و تشنیع کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دراصل جہل مرکب کے مریضوں نے سیدالانبیاء (ص) کے اعلان بعثت کے ساتھ ہی اپنے آپ کو علم کے زعم باطل میں صرف اس وجہ سے مبتلا کیا کہ نور حق سے ان کے دلوں کا انشراح تو نہ ہوسکا، لیکن ان کی آنکھیں ضرور چندھیا گئیں۔ حسد و عناد نے

Read more

بہار اور سیاحت کا پاکیزہ تصور

انسان پیدا ہوتے ہی فطرت کے اسرار ہائے سربستہ جاننا شروع کرتا ہے۔ شاید انسان کا اس دنیا میں آتے ہی چیخنا، چلانا اور اپنے ہاتھ پاؤں مارنا اسی بات کے غماز ہیں۔ انسان کو قدرت نے یہ صلاحیت ودیعت فرمائی ہے کہ وہ آفاق و انفس میں مخفی رازوں سے ہمیشہ پردہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہے۔ یہی صلاحیت آگے چل کر انسان کو کہیں محقق اور سائنس داں بنا دیتی ہے اور کہیں سیاح، غواص اور کوہ پیما۔

Read more

معراج النبی ﷺ : عبدیت کا عروج

سید الانبیاء ﷺ کی جہد مسلسل دس برس سے جاری و ساری تھی۔ اس دوران آپ ﷺ نے اگرچہ دعوت کے کئی میدان سرکولیے تھے لیکن قریش بھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے نت نئے حربے آزما رہے تھے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اس مدت کے دوران بنو اسماعیل کے بیشتر سلیم الفطرت افراد رسول اللہ ﷺ کی آغوش ہدایت میں آ چکے تھے لیکن سرداران قریش اب بھی دعوت حق کے اس شجر کو بیخ و بن

Read more

تانیثیت ( فیمینزم ) اور حقوق نسواں

زمانہ جدید میں تانیثیت ( فیمینزم ) کے علم برداروں نے خاتون کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ قرنوں سے مرد کے پنجہ استبداد میں جکڑی ہوئی ہے۔ بات خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی عزت کی بحالی کی خاطر کی جاتی تو معاملہ بڑا ہی حوصلہ افزاء ہوتا کیوں کہ معاشرے کے نصف حصے کو کسی بھی صورت میں دیوار سے لگائے رکھنا کوئی خوش کن بات نہیں ہے۔ لیکن سارے معاملے کو

Read more

محبت فاتح عالم

سولہویں صدی کے انگریزی شاعر جان للی کا یہ محاورہ، جو اس نے Euphues میں برتا ہے، کہ ”الفت اور عداوت میں سب کچھ جائز ہے یعنی Everything is fair in love and war اکثر زبان زد عام رہتا ہے۔ تاہم اس محاورے کا اطلاق اور استعمال اکثر اوقات میں دھوکہ دہی اور فریب کاری کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ باور کیا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ کسی بھی اصول کی پابندی اور پاسداری سے ماورا

Read more

قلم و قرطاس اور تحفیظ علم و اخلاق

اصل علیم و حکیم ذات اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ اسی ذات نے انسان کو تخلیق کر کے جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔ علم کے ذریعے ہی انسان کو اپنی ذات کے عرفان کے ساتھ ساتھ خدا کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ علم نہ ہو تو انسان کو نہ صرف دنیا ورطۂ حیرت میں ڈالے رہتی ہے بلکہ اس کے لئے اپنی ذات بھی اجنبی بنی رہتی ہے۔ خدا کی ذات کا تعارف بھی اسی علم سے

Read more

سلیم علی ۔۔۔ بھارت میں چڑیوں، کبوتروں اور دوسرے پرندوں سے محبت کرنے والا

پچھلے ماہ راقم کو گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج، کپوارہ، کشمیر کی اکائی برائے نفسیاتی راہنمائی و مشاورت کی طرف سے ”امید“ کے موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ اس گفتگو کے چند مندرجات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ مشرقی معاشروں میں بالعموم اور مسلم معاشروں میں بالخصوص اگر کوئی جملہ اکثریت کا تکیہ کلام بنا رہتا ہے تو وہ ہے : ”امید پر دنیا قائم ہے!“ یہ جملہ کچھ اس طرح زبان زد عام رہتا

Read more

کلیمان بے تجلی، مسیحان بے صلیب

”کلیم بے تجلی“ اور ”مسیح بے صلیب“ کی تراکیب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے لئے استعمال کی ہیں۔ علامہ کا اشارہ غالباً اس حقیقت کی طرف ہے کہ اشتراکیت کا یہ بانی مفکر ”داس کپیتال“ کی صورت میں ایک ایسا نسخہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جس پر اشتراکیت کا پورا قصر تعمیر ہوا۔ کئی ایک جدلیاتی فلاسفہ نے مارکس ہی کے فکر سے متاثر ہو کر کئی ایک ممالک میں اشتراکیت کی تخم ریزی کی۔ چوں کہ اس

Read more

نالہ ہائے شرر بار: غالب کی علامات آتش

27 دسمبر کو محبان غالب اور غالبیات مرزا نوشہ کا یوم پیدائش منایا۔ اس دن کی مناسبت سے غالب کے فکروفن پر بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ البتہ ماہرین غالبیات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ غالب کو ان کی اپنی سطح پر سمجھنا اور سمجھانا ایک کار گراں ہے، کیوں کہ ایک طرف غالب ایک مختلف الجہات فنکار ہیں تو دوسری طرف ان کی برتی گئی علامات میں غالب کے نام اور فن کی طرح اتنی

Read more

کووڈ۔ 19 اور 2020ء

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ کووڈ۔ 19،  وبا کی ابتدا چائنا کے شہر ووہان سے 2019 کے اواخر میں ہوئی اور چند ماہ کی مدت میں اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فروری مارچ کے مہینوں میں اس وبا  نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ دنیا کی اکثر حکومتیں اس وبا کے تئیں کوئی مبنی بر عقل رد عمل پیش کرنے میں ناکام رہیں۔ بیشتر حکومتوں  نے الل ٹپ لاک ڈاؤنوں کا

Read more

مکافات عمل اور قانون دفع

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔ یہ اصول سائنسی طور پر بھی ثابت شدہ ہے اور اس پر تاریخ نے بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ یہ بات جس طرح فرد کے کردار اور اس کے نتائج کے لحاظ سے مبنی بر اہمیت ہے، بالکل اسی طرح اس کا اطلاق اجتماعی اور قومی معاملات پر ہوتا ہے۔ انسان کا یہ ایک آزمودہ تجربہ ہے کہ نہ صرف موذی فرد کو اپنی

Read more

ذوق تجلی اور شوق ادراک

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے حکیم الامت کا یہ شعر فکر و ادراک کی وادی میں سرگرم انسان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے کہ انسان کا وجود خاکی محض فکر کی جولانیوں سے مطمئن ہو سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ خاک کا یہ پتلا، جو عقل و دل کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، ادراک کی

Read more

آزادیٔ اظہار رائے، مغرب اور دنیائے اسلام

والٹئر کے مطابق ”اگر آپ مجھ سے بحث کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی اصطلاحات کو واضح کریں!“ معاملہ بالکل قابل فہم ہے کہ یہ اصطلاحات ہی ہیں جو اگر واضح ہوں تو کسی کے نقطہ نظر یا بالفاظ دیگر فلسفے کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں اور اگر گنجلک اور مبہم ہوں تو ذہنی الجھنیں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔ اب اگر نظریات پہلے سے ہی باہم برسر پیکار ہوں تو ٹکراؤ ایسی صورت اختیار کرلیتا ہے کہ

Read more

ربیع الاول: اصلی عالمی بہار

یہ ایک ایسا دور تھا جب انسانیت کو بہیمیت نے شکست سے دو چار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جب فطرت انسانی کے حسن کو درندگی نے بد نما کیا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جب سرسبز و شاداب مسکن انسانی کو بنی آدم کی حرص نے خون بنی آدم سے لالہ زار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا، جس میں آدم کے بیٹے نے حوا کی بیٹی کو، اپنی ہوا و ہوس کا شکار بنایا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جس میں بنی آدم کے ضعیفوں کو، بنی آدم کے متکبرین نے اپنا تر نوالہ بنایا تھا۔

یہ ایک ایسی ثقافت تھی، جہاں موسیقی کی دل دادہ طبیعت انسانی کو صرف تلوار کی جھنکار مسرور کرتی تھی۔ یہ ایک ایسا رہن سہن کا طریقہ تھا جس میں ایک معصوم بچی زندہ درگور ہونے کے لئے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ یہ ایک ایسی سیاست تھی جس میں بازنطینی اور ساسانی سلطنتیں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس طرح محو جنگ و جدل تھیں کہ باقی نسلیں حشرات الارض کی طرح ان کے پیروں کے نیچے مسلی جا رہی تھیں۔ الغرض یہ انسانیت کے لئے ایک ایسا نازک اور فیصلہ کن وقت تھا، جب قابیل اپنے شانوں پر ہابیل کی نعش اور ناموس لیے لیے پھر رہا تھا۔

Read more

اصول تغیر پذیری

تبدیلی فطرت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ کائنات کی ہر طرح کی اشیا پر اس اصول کا مساوی اطلاق ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اشیا پر اس اصول کی کار فرمائی ذرا نمایاں ہوتی ہے، جب کہ کچھ تغیر اور تبدل کے اس عمل مسلسل سے دو چار تو ہوتی ہیں لیکن ان میں تبدیلی کی رفتار ذرا سست ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی اصول ہے، جو ہر آن جاری و ساری رہتا ہے۔ در اصل خالق کائنات نے اس اصول کے ذریعے نا صرف اپنی خلاقیت کے بحر نا پیدا کنار کو جاری کر کے کائنات کے عناصر ترکیبی کے اندر ایک حسین نظم و ضبط پیدا کیا ہے، بلکہ کائنات کے تکمیل کی طرف سفر کو اسی اصول کے اندر پوشیدہ رکھا ہے۔

آفاق و افلاک کی مختلف اشیا میں یہ تغیر انسان کی مقدار حیات کے مقابلے میں اتنا سست ہے کہ انسان اس کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ انسان کبھی کبھار اس اصول کو اس لئے بھی سمجھ نہیں پاتا کہ یہ اصول ”بکھراو“ اور ”بناو“ کے پس پردہ کام کرتا رہتا ہے۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس اصول کی عمومیت اس کو ایسا پردہ فراہم کرتی ہے کہ انسان کی چشم باریک بین اس کا مشاہدہ تو کر لیتی ہے، لیکن اس کا تجزیہ کرنے میں نا کام ہو جاتی ہے۔

Read more

حرمین کے پھولوں سے حضرت بل کی اذان تک

عصر کی اذان ہو رہی تھی اور عارفہ نے عدیل کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں حرمین سے لایا ہوا گلدستہ تھما دیا۔ عارفہ کو علم تھا کہ عدیل اس کا ہاتھ مانگنے کی ہمت کرنے سے قاصر ہے۔ عدیل کو حسرت تھی کہ عارفہ پھولوں سے پہلے اس دامن کی بھیک دیدے جو عدیل نے بیتے ہوئے تین برسوں میں اپنے آنسوؤں سے خوب بھگویا تھا۔ عدیل عارفہ کی اس اوڑھنی کا متمنی بھی تھا جس سے

Read more

ڈل کنارے

جب ہم مختلف انسانی تہذیبوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تقریباً سبھی اہم تہذیبیں بڑے بڑے آبی ذخائر کے کناروں پر پروان چڑھیں اور فروغ پائیں۔ یہ بات ان تمام تہذیبوں کے لئے کہی جا سکتی ہے جنہوں نے انسانیت پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ آبی ذخائر ان تہذیبوں کے لئے نہ صرف غذائی اجناس کی فراوانی کا سامان کرتے تھے بلکہ یہی ان کی آمد و رفت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے۔ بیرون دنیا کے ساتھ روابط بھی ان ہی ذخائر کے ذریعے استوار ہوتے تھے۔ کبھی کبھی یہی ذخائر طغیانی لے کر آتے تھے اور ان تہذیبوں کو خستہ حالی میں مبتلا کرتے تھے۔

تہذیبوں کی یہ داستان کہیں پر دجلہ اور فرات (بابل اور سمیریا) نے رقم کی تو کہیں پر یہی کہانی دریائے سندھ (ہڑپہ اور موہنجوداڑو) نے تحریر کی۔ یہ تہذیبیں بالعموم شرک اور بت پرستی کی سرپرست رہی ہیں۔ لیکن ان ہی کی ایک تہذیب (بابل) میں اس شرک اور بت پرستی پر مبنی تہذیب کا توڑ پیدا کیا گیا۔ اس توڑ سے ہماری مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جنہوں نے آدم علیہ السلام کو سکھائی گئی توحید کو دنیا کے مختلف گوشوں میں پھر سے متعارف کرایا۔ دریائے اردن اور دریائے نیل کے کنارے آنجناب نے اپنی سعئی جانگسل سے توحید کے بیج کی از سر نو تخم ریزی کی۔ آگے چل کر اسی آبی ذخیرے (دریائے اردن ’شام عظیم، گریٹر سیریا) کے کناروں پر ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں سے بنو اسرائیل نے اس سفر کو جاری رکھا۔

Read more