ایک ایس ایچ او کی طاقت تم کیا جانو

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک مقدمے میں جج صاحب نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بخشو پر الزام ثابت نہیں ہوسکا اس لیے بخشو کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ بخشو نامی بوڑھے نے جو کٹہرے میں سر جھکائے اپنی قسمت کا فیصلہ سن رہا تھا نے سر اٹھایا اور جج کو دیکھتے ہوئے دعا دی کہ اللہ تمہیں ترقی دے اور تم بھی بڑے افسر بن کر ایس ایچ او لگ جاو۔ تو جج کو بوڑھے بخشو کی سادگی پر ہنسی آ گئی اور جج صاحب نے بخشو کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بابا بخشو آپ کو شاید علم نہیں ہے کہ ایک جج ایک ایس ایچ او سے بڑا افسر ہوتا ہے۔ مگر بابا بخشو جج صاحب کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا اور انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ نہیں جج صاحب ایک ایس ایچ او بڑا افسر ہوتا ہے تو بابا بخشو کی ضد کو دیکھتے ہوئے جج صاحب نے پوچھا کہ اچھا بتائیں کہ ایک ایس ایچ او کیسے بڑا افسر ہوتا ہے تو بابا بخشو نے کہا کہ ایس ایچ او نے مجھے کہا تھا کہ مجھے دو ہزار روپے دے دو میں معاملہ یہیں پر ختم کر دیتا ہوں میں چونکہ بے گناہ تھا میں نے ایس ایچ او کی بات نہیں مانی اور اس نے میرے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ آج عدالت نے دس سال بعد مجھے بے گناہ قرار دیا ہے جو کام ایس ایچ او پانچ منٹ میں کر رہا تھا اس کو کرنے میں عدالت کو دس سال لگے لہذا جج صاحب ایک ایس ایچ او بڑا افسر ہوتا ہے۔

روزمرہ کے معاملات کو اگر بغور دیکھیں تو بخشو کے پاس ایک ایسی مضبوط دلیل تھی جس کو رد کرنا آسان نہیں تھا۔ اور ہمارے گردوپیش کی حقیقت بھی یہی ہے جس کا ادراک سینیٹر فیصل واوڈا کو بخوبی ہے۔ اگر فیصل واوڈا کو عصر حاضر کا بخشو کہا جائے تو غلط نا ہوگا مگر یہ پڑھا لکھا اور پیسے والا بخشو ہے۔ اور آج کا بخشو موقع پر معاملہ حل کرتا ہے اس لیے تو اس نے ڈھائی سال تک اپنی دوہری شہریت کے معاملے کو الجھائے رکھا اور بالآخر قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی اور سینیٹر بن گیا۔ اس لیے بخشو کا کہنا ٹھیک اور حقیقت پر مبنی ہے کہ ترین اور اس کا پورا گروپ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ ٹاک شو کا اینکر اس بات سے انکار کرتا رہا مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ایک ایس ایچ او کتنا طاقتور ہوتا ہے۔ لامحدود اختیارات کا حامل ایک ایسا افسر جو جب چاہے اور جس کو چاہے ایک منٹ میں حوالات میں بند کر کے جو چاہے منوا سکتا ہے تو پھر ایک ایس ایچ او کے سامنے ترین اور اس کے گروپ کی کیا حیثیت ہے۔

بخشو کے اس حقیقی طاقت کے اعتراف کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا سات دہائیوں کے بعد بھی ملک میں کسی سیاسی اختلاف کو مکالمے یا دلیل کی بجائے روایتی سیاست کے تسلسل میں ایک ایس ایچ او سے ہی حل کرایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اب بھی مکالمے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہماری منتخب نمائندے اور قانون ساز اداروں کے معزز اراکین کے پاس اگر سیاسی مسائل کا یہی حل موجود ہے تو مطلب ہم نے گزشتہ ستر سالوں میں آگے کا سفر نہیں کیا۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہم آج بھی مختلف سیاسی سوچ اور سیاسی نظریے یا اختلاف رائے کو طاقت سے حل کرنے کے حامی اور خواہاں ہیں۔ سینیٹر فیصل واوڈا کا بیان بنیادی طور پر حکمران طبقے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اور یہ سوچ آج کی نہیں ہے بلکہ جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں اس کے بعد اسی سوچ کے طابع ہو کر وقت گزار رہے ہیں۔

ریاستی مشینری کے بنیادی اہلکاروں میں پٹواری اور ایس ایچ او کا شمار ہوتا ہے۔ عوام کا سب سے زیادہ واسطہ انہی اہلکاروں سے ہوتا ہے اور ہر حکومت میں انہی اہلکاروں کے ذریعے عوام پر جبر کیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کی بیخ کنی کی گئی ہے۔ جھوٹے مقدمات اور جائیدادوں میں ہیر پھیر کر کے ہر مخالف کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیصل واوڈا قصور وار نہیں ہے یہ سوچ ہر عہد کے حکمران طبقے کے افراد میں پائی گئی ہے۔ فیصل واوڈا تو محض اس سیاسی اشرافیہ کی ذہنی عکاسی کر رہا ہے۔ برطانیہ کے دیے گئے نظام میں آزاد ہونے کے بعد ہم بہتری تو کوئی نہیں لا سکے مگر جگہ جگہ اس میں رخنہ اندازی کر کے اور مرضی مسلط کر کے اس کو مزید بے رحم بنا دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پٹواری اور ایس ایچ او یا پھر پولیس کی اصلاح کی جائے تو جواب یہ ہے کہ ان کی اصلاح بھی ضروری ہے مگر سب سے پہلے سیاسی اشرافیہ کی اصلاح کی جائے۔ اراکین اسمبلی کا اپنے تھانوں میں من پسند ایس ایچ اوز لگوانے اور حلقہ جات میں پٹواری لگوانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت اگر کچھ اور نہیں کر سکتی تو کم سے کم اس قبیح فعل کو تو بند کرا سکتی ہے۔ اگر منتخب نمائندوں کا دباو نہیں ہوگا تو کم سے کم جھوٹے مقدمات کی تعداد میں واضح کمی ہو جائے گی۔ اس کے بعد محکمہ جاتی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ اچھے افسران کا انتخاب وقت کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

اچھے کام کو کبھی تو شروع کرنا پڑے گا تو کیوں نا آج سے اس کام کی ابتدا حکومت کردے اور پولیس اور محکمہ مال کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کردے اگر ایسا ہو گیا تو آئندہ چند سالوں میں واضح بہتری نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ مگر المیہ تو یہ ہے کہ کس سے مدد مانگیں کس سے منصفی چاہیں اس حکومت سے بہتری کی امید رکھیں جس کے کریڈٹ پر رانا ثنا اللہ کا منشیات کیس بھی ہے اور سانحہ ساہیوال بھی۔ لاہور کے چوک یتیم خانہ پر پولیس کا تشدد کون بھولے گا۔ پاکستانی عوام کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ تبدیلی کے نام پر قائم ہونے والی حکومت بھی کوئی انقلابی نہیں بلکہ ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہے۔ ایک ایسا تسلسل جس میں سیاسی اشرافیہ کے لیے تو سب کچھ ہے مگر عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words