فلم آنند: زندگی بڑی ہونی چاہیے، لمبی نہیں


فلم آنند: زندگی بڑی ہونی چاہیے، لمبی نہیں
ابراہیم لنکن نے کہا تھا ”آپ کی زندگی میں سال نہیں،
بلکہ سالوں میں زندگی گنی جاتی ہے ”۔

سوچ رہا ہوں کہاں سے شروع کروں۔ کوئی ایک مخصوص نقطہ تو ہے نہیں، جو میں ایک دم سے قلم بند کرلوں۔ بلکہ یہاں تو ہر چیز میں زندگی بھری ہوئی ہے۔ چاہے وہ ڈائیلاگ ہوں یا موسیقی۔ بہرحال پھر بھی کوشش کر کہ دیکھتے ہیں۔

غریب بیمار ہو جائے تو پریشان، امیر کو کوئی بیماری نہ ہو تو پریشان۔ غریب دوائی سے دور رہنے میں خوش جبکہ امیر دوائی کھانے پر مطمئن۔ ڈاکٹر جو دوائی کی چٹھی کے دونوں اطراف کالے کرے وہ کامیاب جو ایسا نہ کرے وہ ناسمجھ۔ امیر دن میں ہر آدھے گھنٹے بعد رنگ برنگی دوائیاں کھانے پر خوش۔ ڈاکٹر جب تک صاحب حیثیت انسان میں زبردستی کوئی بیماری دریافت نہ کر لے تب تک وہ ڈاکٹر سے ناخوش۔ جبکہ غریب کے پاس ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے تک کی کوئی گنجائش نہیں۔

کچھ ایسے ہی مناظر سے شروع ہوتی ہے اس شاندار فلم کی کہانی۔

معلوم ہے ہر کام کرتے، اچھے بھلے، ہٹے کٹے، چلتے پھرتے، ہنستے کودتے انسان کو ایک بیماری ہوتی ہی ہے۔ اور وہ ہوتا ہے اس کا جسم جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ختم ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر انسان موت کی فکر کرتے ہوئے اپنے اس موجودہ وقت، موجودہ لمحے کو ضائع کیوں کرے۔ یہی ڈائیلاگ ڈاکٹر کے چکاس والے کمرے میں طوفان کی طرح داخل ہوتے آنند سہگل (راجیش کھنا) کی زبان سے نکلتے ہیں جس کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں اور وہ چھ ماہ میں مرنے والا ہوتا ہے۔

بالی ووڈ کی یہ شاہکار فلم 1971 میں رلیز ہوئی۔ اس میں ایک ایسے انسان کی کہانی دکھائی گئی ہے جو ایک خطرناک بیماری کے آخری اسٹیج پر ہے اور اس کے پاس جینے کو صرف چھ مہینے بچے ہیں۔ فلم کی کہانی، ڈائیلاگ، موسیقی، اداکاری سب لاجواب، بے مثال اور شاہکار ہیں۔ فلم میں راجیش کھنا بطور آنند سہگل، امیتاب بچن بطور ڈاکٹر بھاسکر، رمیش دیو بطور ڈاکٹر پرکاش کلکرنی اور سمیتا سنیال بطور رینو مرکزی کردار نبھاتے نظر آتے ہیں۔

اس فلم کا ایک ایک ڈائیلاگ زندگی سے بھرپور ہے اور انسان کو جینے کی اتساہ دیتا ہے۔

”کیا فرق ہے ستر سال اور چھ مہینوں میں، موت تو ایک پل ہے، آنے والے چھ مہینوں میں، میں جو لاکھوں پل جینے والا ہوں اس کا کیا۔ زندگی بڑی ہونی چاہیے، لمبی نہیں۔ موت کے ڈر سے اگر زندہ رہنا چھوڑ دیا تو موت کسے کہتے ہیں“ ۔

”جب تک زندہ ہوں تب تک مرا نہیں، جب مر گیا سالہ میں ہی نہیں تو پھر ڈر کیسا۔“
”اگر زندہ رہنا ضروری ہے تو آدمی جہاں ہنس کر رہے وہیں رہنا چاہیے“ ۔

”ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم آنے والے غم کو کھینچ تان کر آج کی خوشی پر لے آتے ہیں اور اس خوش میں زہر گھول دیتے ہیں“ ۔

اپر آپ نے جو ڈائیلاگ ملاحظہ فرمائے وہ اسی فلم سے لئے گئے ہیں۔
اچھا ایک اور بات کہ فلم کی موسیقی بھی شاندار ہے، جیسے ؛
میں نے تیرے لئے ہی سات رنگ کے سپنے چنے،
کہیں دور جب دن ڈھل جائے،
زندگی کیسی یہ پہیلی کبھی یہ ہنسائے کبھی یہ رلائے۔

چھ مہینے کی بقیہ زندگی کا ایک ایک پل آنند بھرپور طریقے سے جیتا ہے۔ جسے چاہے مل لیا، جو بھی چاہا کر لیا، بغیر کل کی فکر کیے، ہر ایک دن ہر ایک لمحہ بھرپور جی لیا تاکہ بستر مرگ پر یہ پچھتاوا نہ رہے کہ زندگی اسی ایک لمحے کی فکر میں کھودی۔

فلم میں گلزار کی لکھی گئی اور امیتاب بچن کی کہی گئی ایک کویتا بھی شامل ہے۔ جو ہے ”موت تم ایک کویتا ہو، مجھ سے ایک کویتا کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو،

ڈوبتی نبضوں میں جب درد کو نیند آنے لگے،
زرد سا چہرا لئے جب چاند افق تک پہنچے،
دن ابھی پانی میں ہو رات کنارے کے قریب،
نہ اندھیرا نہ اجالا نہ ابھی رات نہ دن،
جسم جب ختم ہو اور روح کو سانس آئے،
مجھ سے ایک کویتا کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو ”۔

زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ ہے۔ اسے نہ تو آپ بدل سکتے ہیں نہ میں۔ ہم سب تو رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں، جن کی ڈور اپر والے کی انگلیوں میں بندی ہوئی ہے۔ کب، کون، کیسے اٹھے گا یہ کوئی نہیں بتا سکتا اسی آواز کے پس منظر میں آنند کی بھرپور زندگی کا اختتام ہوتا ہے۔

خاص کر ان وبائی دنوں میں، میں اپنے تمام قارئین کو یہ فلم دیکھنے کا مشورہ دوں گا۔

یہ فلم ہمیں سکھاتی ہے کہ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ کتنا قیمتی ہے اور ہم اسے ایک دن آنے والے ایک لمحے جس کو موت کہتے ہیں کی فکر میں گزار دیتے ہیں۔ یہ فلم ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی میں آنے والی تکلیفوں، اداسیوں کا کیسے ہنس کر سامنا کرنا چاہیے۔ یہ فلم دیکھنے کے بعد آپ کو واقعے یہ احساس ہونے لگے گا کہ ”زندگی بڑی ہونی چاہیے، لمبی نہیں“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words