عمران خان، رنگ روڈ اور جہانگیر ترین
رنگ روڈ روالپنڈی اسکینڈل نے حکومتی حلقوں میں ہل چل مچا دی ہے۔ خبروں کے مطابق وزیر ہوا بازی چوہدری غلام سرور اور وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری اس اسکینڈل کی زد میں ہیں۔ الزام ہے کہ رنگ روڈ بڑھا کرپرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پنچایا گیا۔ اس سلسلے میں زلفی بخاری نے استعفی دے کر خود کو انصاف کے کہٹرے میں کھڑا کر دیا۔ اپوزیشن بھی حکومت کوآڑے ہاتھوں لے رہی ہے، اس کے ساتھ جہانگیر ترین گروپ بھی تشکیل پا گیا ہے جو وفاقی اور پنجاب حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگرچہ اس گروپ نے حکومت کو وفاقی بجٹ منظور کرانے میں حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کا ترین گروپ سے کوئی تعلق نہیں، شہباز شریف نے کہا ہے کہ رنگ روڈ کی توسیع خود عمران خان نے کرائی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کی عمران حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اس تناظر میں چودہدری پرویز الہی کا بیان حکومت کے مفادات میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ہماری طرف سے کبھی عدم اعتما د نہیں آئے گی ان کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور تحریک انصاف میں موجود ہیں، ترین کا معاملہ اندرونی ہے۔ اس کے ساتھ پرویزالہی نے شکایت بھی کر ڈالی کہ تحریک انصاف نے ہمارے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا فضل الراحمن کا معاملہ ہمارے سامنے ہے اور یہ معاملہ ہم نے عمران خان کے کہنے پر حل کیا۔ سنیٹ انتخاب میں جہانگیر ترین اورولید اقبال کی ہمشیرہ کو کامیاب کرایا۔
ان کا کہنا تھا جہانگیر ترین اپنی زبان سے کہ چکے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ ابھی وہ کچھ نہیں کر رہے اور جب کچھ کریں گے تو پتہ چلے گا کہ کتنے ارکان ان کے ساتھ ہیں۔ اس کے ساتھ تحریک انصاف کے رہنما فیصل وڈا نے ترین گروپ کے ممبران کو ایک پولیس وین کی مار کہا ہے جواب میں ترین گروپ کے وزیر نے پریس کانفرنس کر کے فیصل وڈا کو کھری کھری سنا دی۔ یہ تو احوال ہے تحریک انصاف کے وزرا اور اتحادیوں کے بیانات۔
ان بیانات سے یوں لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ رنگ روڈ اسکینڈل ہو یا پھر مولانا فضل الرحمن کی خواہاشات ہوں حکومت کو گرانے کے لیے کافی نہیں۔ یوں لگتا ہے اپوزیشن کی بڑی سیاسی پارٹیاں نون لیگ اور پیپلز پاڑٹی حکومت کو مکمل وقت دینا چاہتی ہیں۔ اور اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ عوامی فیصلے کرتی ہے یا پھرنا اہلی اور اندرونی خلشاری کا شکار ہو کر عوام کو مہنگائی کے سمندر میں دھکیل دیتی ہے۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو کا بیان قابل ذکر ہے کی اگر حکومت کو پورا وقت دیا جائے تو یہ نہ ہو کہ ملک دیوالہ ہو جائے۔
بلاول کا کہنا تھا کی ملک کو خیراتی طرز پر چلانے کا تجربہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک اتنی تباہی نہیں ہوئی جتنی عمران خان کے دور میں ہوئی ہے۔ بلاول کا بیان پی پی کے حلقوں میں اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے وگرنہ 8002 سے لے کر 3102 تک کے عرصے میں پیپلزپاڑٹی کی حکومت نے عوام کا جوس نکال دیا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ سارے سیاسی کھلاڑی بیانات کی حد تک محدود ہیں اور عمران حکومت ایک اسکرپٹ پر چل رہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ اسکرپٹ کب تک چلتا ہے اور دوسرے سیاسی کھلاڑیوں کو کب موقع ملتا ہے؟
اس سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نظر چوہدری فواد کے بیان پر، ان کے مطابق عثمان بزدار مشکلات سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ عثمان بزدار کو ہٹا کر خود پاور میں آ جائیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا جہانگیر ترین گروپ تحریک انصاف میں بہت پہلے سے موجود تھا اور یہ ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے عمران خان پنجاب حکومت کے بل بوتے پرمرکز میں مضبوط حکومت کے خواہشمند ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ جہانگیر ترین کے مطالبات کو مان لیں اور آنے والے دو سال بھی نکال لیں مگر عوام کو کیا جواب دیں گے؟


