ملالہ کا بیان پرملال: تیغوں کے سائے میں ہم“ پڑھ” کر جواں ہوئے ہیں
اگرچہ فلسطین کے خلاف اسرائیلی حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں لیکن ان حملوں کی بازگشت اب تک سنائی دے رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کی نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی نے فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کے تناظر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ، ”غزہ میں خواتین اور بچوں پر اسرائیل کے فضائی حملے، مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنانا، جبری بے دخلی، تشدد اور ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ دنیا بھر کے عوام جن میں مسلمان، مسیحی اور یہودی شامل ہیں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”میں خاص طور پر بچوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں، ایک فلسطینی بچے کو کلاس روم میں بیٹھا ہونا چاہیے نا کے ملبے کے ڈھیر پر۔“ ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ، ”عالمی رہنماؤں کو اس حوالے سے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔“
ملالہ یوسفزئی کا یہ بیان یقیناً ہر پاکستانی اور ہر صاحب دل انسان کے ضمیر کی آواز ہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ صرف اسرائیل کی حامی طاقتیں، افراد اور ادارے بلکہ ہم جو کہ حصول تعلیم کے سلسلے میں ان کے حامی و ہمدرد ہیں وہ بھی ان سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ، ”بی بی آپ جو کہ بہ ذات خود اپنے وطن سے باہر حصول علم کے جرم کی پاداش میں جلاوطنی کی سزا بھگت رہی ہیں اس پس منظر میں آپ اس قسم کا مطالبہ کیسے کر سکتی ہیں؟“
ہم میں سے کوئی بھی نہیں بھولا کہ آپ اگر آج پاکستان سے باہر تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو بہ حالت مجبوری کر رہی ہیں جب کہ آپ کا مقصد حیات دستیاب معلومات کے مطابق، تعلیم وتعلم ہے اور خاص طور پر بچیوں کی تعلیم۔ لیکن آپ کو ا ن لوگوں کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنا پڑا جو کہ بزعم خویش ”طالب علم“ کہلاتے ہیں۔
اور ہمیں یہ بھی یاد ہے کے کسی زمانے میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں خواتیں کی شرح تعلیم پختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد) میں سب سے زیادہ تھی۔ اور اس اطلاع کے بعد اس صوبے کی بچیوں کی تعلیم کو شاید کسی کی نظر کھا گئی اور باقی سب تاریخ /تاریک ہے!
افغانستان کی آزادی، جہاد اور دیگر مختلف دلکش نظریوں اور مقدس نعروں کے تسلسل میں پاکستان خاص طور پر پختونخوا میں فلسطین ہی کی طرح کتنے ہی تعلیمی اداروں کو ملبے کی ڈھیر میں تبدیل کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ، 16 دسمبر 2014 ء کو انہی نام نہاد طالب علموں کے 7 دہشت گرد ایف سی (فرنٹیئر کور) کی وردی میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں پچھلی طرف سے داخل ہو گئے اور ہال میں جا کر اندھا دھند فائرنگ کی اس کے بعد کمروں کا رخ کیا اور وہاں پر بچوں کو گولیاں ماریں، سربراہ ادارہ کو زندہ جلا دیا۔ نو اساتذہ، تین فوجی جوانوں کو ملا کر کل 144 شہادتیں ہوئیں، اور 113 سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا۔
مملکت خدا داداسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں کہ ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور ان کو موت کے دہلیز تک پہنچا دیا گیا، وہاں ان کی خودساختہ یا پھر گورنمنٹ کی رٹ کی کمزوری کہ باعث اختیار کی جانے والی جلاوطنی کے تقریباً ایک دہائی کے بعد بھی اب تک تعلیمی ادارے محفوظ نہیں۔ اور تعلیم بدستور خطرات وخدشات کے سائے میں حاصل کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال یونہی رہی تو ہمارے بچے تعلیم کی تکمیل بعد یوں کہ سکیں گے :
”تیغوں کے سائے میں ہم“ پڑھ ”کر جواں ہوئے ہیں“
دہشت گردوں کے کی جانب سے تعلیمی اداروں پر جاری حملوں کا نیا سلسلہ 2020 ع سے پھر سے جاری ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال پشاور اور کابل کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے دھماکوں میں درجنوں طلبہ اور اساتذہ قتل اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور حالیہ دنوں میں کابل سے امریکی انخلا کی اطلاعات کے ساتھ ہی مئی کی پہلے عشرے میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملہ اور اس کارروائی کی دوران 85 بچیوں کی ہلاکت اور 150 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی خبریں بھی گردش میں تھیں۔
اس قسم کی تباہیوں کے علاوہ پاکستان بھر میں کتنے ہی ایسے علاقے بھی ہیں جہاں کہ تعلیمی ادارے اوطاقوں، ڈیروں، مہمان خانوں، شادی ہالوں، باڑوں اور گوداموں کے طور پر استعمال کیے جار ہے ہیں۔ یا پھر وہ آوارہ کتوں کے مسکن ہیں یا منشیات کی عادی لوگوں کی آماجگاہ!
اسی طرح کہیں لوگوں، خاص طور پر خواتین کو مذہب کے نام پر تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے اور کہیں ثقافت کے نام پر۔ جب کہ خواتین صنفی امتیاز کے باعث بھی تعلیم سے محروم رکھی جا رہی ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو تعلیم کے حوالے پاکستان میں بھی صورتحال کوئی آئڈیل صورتحال نہیں ہے۔ موجودہ وقت میں کچھ سکون ہے تو شاید کورونا کی تعطیلات کے باعث، دوسری صورت میں پاکستان میں بھی شاید وہی کچھ ہو رہا ہوتا جو کہ افغانستان میں ہو رہا ہے۔ اور ان سب میں جہاں ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں وہاں امریکا جیسے عالمی داداگیر کی داداگیری، جسے کہ وہ اپنی ”دادگیری“ قرار دیتا رہا ہے، بھی اس کی اہم وجہ ہے۔ جو ایک بار پھر افغانستان میں عدم استحکام، کشیدگی اور فساد پھیلا کر بھاگنے پر تلا ہے اور اس کے نتائج کا ہدف ایک بار پھر افغان اور پاکستانی عوام ہوں گے۔ جب کہ تعلیمی اداروں کے کھلنے کی صورت میں ان کو بھی ”تختہ مشق“ بنیا جائے گا۔
اور ہمارے حکمران جو کہ اپنے بچوں کو تو تحفظ اور تعلیم فراہم کرنے ذمہ داری نبھا نہیں پا رہے دعویٰ کرتے پھریں گے کہ، ”ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔“ لیکن کوئی ان کو ”دشمن کے بچے“ کیسے کہہ سکتا ہے جب کہ نہ صرف ضیاع الحق بلکہ نصیرا للہ بابر بھی انہیں اپنے بچے قرار دے چکے!
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم تعلیمی امن کے سلسلہ میں غلط ہیں اور مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں تو ہمیں غلط کہنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو وطن میں تحفظ فراہم کیا گیا ہوتا تو کیا وہ غیرملک میں حصول تعلیم کے لیے جاتیں؟
ملالہ جو مطالبہ عالمی رہنماؤں سے کر رہی ہیں ہم وہی مطالبہ اپنے پاکستانی حکمرانوں اور رہنماؤں سے کر تے ہیں کہ ایک پاکستانی بچے کو کلاس روم میں ہونا چاہیے نہ کہ ملبہ کے ڈھیر پر۔ بچہ دنیا کے ہر کونے میں بچہ ہوتا ہے اور ملبے کا ڈھیر بھی دنیا کے ہرخطے میں ملبے ڈھیر۔ غیرقانونی بستی غیرقانونی ہوتی ہے چاہے فلسطین میں واقع غزہ میں ہو یا کراچی میں واقع ملیر کے کی قصبے یا گاؤں میں یا پاکستان بھر میں بلڈر یا بلڈی مافیا ز کی ”قبضہ گاہوں“ میں۔
اس کے علاوہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی جن عالمی رہنما ؤں کی بات کر رہی ہیں، وہ اپنے ہوں یا بیگانے، ان سے کچھ کہنا عبث ہے کہ اپنوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں اور بیگانوں کی اکثریت ہاتھ میں سرخ کپڑا لیے اسرائیل کے سے ارنے بھینسے کو بھڑکا بھڑکا کر فلسطینیوں کے پیچھے چھوڑ رہی ہے، جب کہ ا ن کے ہاتھوں میں یا تو زیتون کی ڈالی ہونی چاہیے یا پھر سفید چھڑی!

