سمندر میں جلتے جہاز نے سری لنکا کا ساحل آلودہ کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سری لنکا کی نیوی کا ایک سپاہی ساحل سے پلاسٹک کے جلے ہوئے ٹکڑے ہٹا رہا ہے۔ 27 مئی 2021

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے ساحلی علاقے سے جلے ہوئے پلاسٹک کے ٹکڑے صاف کرنے کی مہم جمعے کے روز بھی جاری رہی، جو سمندر میں کھڑے ایک جلتے ہوئے مال بردار بحری جہاز سے ٹوٹ کر بہتے ہوئے ساحل پر پہنچ رہے ہیں۔

ایم وی ایکس۔پریس پرل نامی سنگاپور کے اس جہاز سے کالے دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہو رہے ہیں، جسے بچانے کی بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔ یہ خدشہ ہے کہ کولمبو کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر کھڑے اس جہاز کے ڈوبنے سے اس میں موجود 278 ٹن تیل پانی کی سطح پر پھیل سکتا ہے، جس سے ساحلی علاقے اور سمندری حیات کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

جمعے کے روز جہاز کو بچانے کی کوششیں اپنے 9ویں روز میں داخل ہو گئی تھیں۔

حفاظتی لباس میں ملبوس نیوی کے اہل کار کولمبو سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ساحلی تفریح گاہ نیگومبو سے جلے ہوئے تیل اور دیگر آلائشوں سے اٹے پلاسٹک کے لاکھوں ٹکڑے چننے میں مصروف ہیں۔

نیگومبو کی ساحلی تفریح گاہ مچھلی کے شکار کی وجہ سے سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے، لیکن اب اسے لوگوں کی آمد ورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے سے پانیوں میں دور کھڑے ہوئے جہاز کو دیکھا جا سکتا ہے جس پر سے دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہو رہے ہیں۔

طیارے سے لی جانے والی تصویر میں مال بردار بحری جہاز شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ 26 مئی 2021
طیارے سے لی جانے والی تصویر میں مال بردار بحری جہاز شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ 26 مئی 2021

کارکن بلڈوزروں کی مدد سے پولی تھن کے ان ٹکڑوں کو اٹھا رہے ہیں جن کا وزن ٹنوں میں پہنچ چکا ہے۔ یہ پلاسٹک جہاز پر لدے ان آٹھ کنٹینروں میں تھا جو منگل کے روز سمندر میں گر گئے تھے۔

عہدے داروں نے بتایا ہے ان کی معلومات کے مطابق جہاز پر پلاسٹک کے 28 کنٹینز لادے گئے تھے ۔ یہ خام پلاسٹک مصنوعات کی پیکنگ کرنے والے کارخانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مال بردار جہاز میں آگ 20 مئی کو اس وقت لگی، جب وہ کھلے سمندر میں کولمبو کی بندرگاہ میں داخلے کی اجازت ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق جہاز پر 1500 کنٹینر لدے ہیں جن میں 25 کنٹینروں میں نائٹرک ایسڈ ہے جب کہ باقی ماندہ میں نامعلوم مقدار میں ایتھنول اور پٹرولیم مصنوعات ہیں ۔

سری لنکا کے ساحلی علاقے جا ایلا میں لوگ جہاز سے بہہ کر آنے والے ایک ٹکڑے کو ہٹا رہے ہیں۔ پس منظر میں جہاز سے دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔26 مئی 2021
سری لنکا کے ساحلی علاقے جا ایلا میں لوگ جہاز سے بہہ کر آنے والے ایک ٹکڑے کو ہٹا رہے ہیں۔ پس منظر میں جہاز سے دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔26 مئی 2021

سری لنکا کے سمندری ماحول سے متعلق ادارے ایم اے پی اے کے حکام کا خیال ہے کہ جہاز میں آگ نائیٹرک ایسڈ کے لیک ہونے سے لگی۔ یہ واقعہ 11 مئی کو پیش آیا تھا، جس کا جہاز کے عملے کو علم تھا۔

ایم اے پی اے کی چیئرمین دھرشنی لہند پورا کا کہنا ہے کہ جہاز کا عملہ لیک کرنے والے کنٹینروں کو سمندر میں پھینک کر یا انہیں اس بندرگاہ پر اتار کر جہاں سے انہیں لوڈ کیا گیا تھا، اس تباہی سے بچ سکتا تھا۔

دھرشنی نے خدشہ ظاہر کیا کہ سری لنکا کے ساحلی علاقے کو تیل سے آلودہ ہونے کے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ مون سون کی تیز ہواؤں کی وجہ سے جہاز پوری طرح شعلوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور وہ ٹوٹ کر بکھر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب جہاز میں آگ بھڑکی تو اس پر 278 ٹن تیل اور 50 ٹن پٹرول موجود تھا۔

سری لنکا کی نیوی نے جمعرات کے روز کہا کہ آگ ٹھنڈی پڑنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

آگ بجھانے کے لیے بین الاقوامی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بھارت کے چار بحری جہاز ان کوششوں میں سری لنکا کی مدد کر رہے ہیں جب کہ امدادی کارروائیوں کی قیادت ایک ڈچ کمپنی ایس ایم آئی ٹی کر رہی ہے۔

مال بردار جہاز کے 25 رکنی عملے کو منگل کے روز نکال لیا گیا تھا جن میں سے دو معمولی زخمی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *