عدالتی اصلاحات ترجیحی ایجنڈا ہونا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت، سیاست اور نظام کی شفافیت کے لیے اصلاحات بنیادی کنجی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیونکہ بنیادی طور پر جمہوریت، پارلیمانی طرز سیاست، قانونی کی حکمرانی میں انقلاب کی بجائے اصلاحات کی بنیاد پر شفافیت پر مبنی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اصلاحات کا عمل بتدریج آگے بڑھتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بہتر نتائج دیتا ہے، یہ ہی اصلاحات پر مبنی ایجنڈا سیاسی اور جمہوری نظام کی ساکھ بھی قائم کرتا ہے اور مجموعی طور پر یہ نظام لوگوں کی توقعات پر پورا اترتا ہے۔

اسی بنیاد پر ریاست، حکومت اور اداروں کا عوام میں اعتماد بڑھتا ہے اور سیاسی نظام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کا سیاسی نظام اگرچہ اصلاحات کے ایجنڈا پر قائم ہے مگر اس میں اول تو اصلاحات کے ایجنڈے کو ترجیحی بنیادوں پر فوقیت نہیں دی جاتی۔ لیکن اگر کہیں اصلاحات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو یہ مصنوعی انداز سے آگے بڑھایا جاتا ہے او ر عملدرآمد کا نظام عدم شفافیت پر مبنی ہوتا ہے۔

سیاست اور جمہوریت کی کامیابی کی ایک بڑی شرط ”انصاف کا شفافیت پر مبنی نظام“ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر لوگوں کو سب سے زیادہ شکایات کا سامنا ہی انصاف کے نظام سے ہوتا ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کا عدالتی یا انصاف کا نظام میں جو خامیاں، خرابیاں یا نقائص ہیں اس نے لوگوں کا انصاف سے جڑے اداروں پر اعتماد کو کم کیا ہے۔ انصاف کے نظام میں تاخیر، سیاسی مداخلتیں، کمزور اور طاقت ور میں تفریق، تفتیش کا غیر موثر نظام، بار اور بنچ میں تنازعات یا گٹھ جوڑ جیسے مسائل کی موجودگی میں حقیقی اور شفاف انصاف کی حصول بس ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ آپ عمومی طور پر عام یا خاص آدمی سے ملک کے اہم مسائل پر سروے کی مدد سے ان کی رائے کو جانچنے یا سمجھنے کی کوشش کریں تو ادارہ جاتی عمل میں ہمیں انصاف کے نظام پر لوگوں کا اعتماد سب سے کم نظر آتا ہے۔

بدقسمتی سے یہاں سیاسی قیادتیں جمہوریت اور سیاسی نظام کی کامیابی کے لیے اصلاحات کو بنیاد بنا کر بہت کچھ کرنے کا دعوی کرتی ہیں۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کا ایجنڈا اصلاحات سے زیادہ روایتی انداز میں پہلے سے چلنے والا نظام ہی ہوتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ پہلے سے چلنے والا نظام ہی ان کی سیاسی طاقت ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اصلاحات سے زیادہ پہلے سے موجود نظام کو بنیاد بنا کر اپنے اقتدار کے کھیل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کا بھی بنیادی نعرہ اصلاحات کا ایجنڈا تھا۔ ان کے بقول ہم اقتدار میں آنے کے بعد پولیس، مقامی حکومت، ایف بی آر، بیوروکریسی، تعلیم، صحت جیسے معاملات پر جدید اور نئی اصلاحات لاکر نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کو لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت بھی تین برسوں میں یا تو اصلاحات کے ایجنڈے پر مخلص نہیں یا پہلے سے موجود روایتی نظام اس حد تک مضبوط ہے کہ اسے توڑنا ان کی حکومت کے لیے ممکن نہیں۔

پارلیمانی نظام سیاست میں پارلیمنٹ سے اہم ادارہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری پارلیمانی سیاست اور پارلیمنٹ میں سب کچھ ہوتا ہے۔ اگر کچھ نہیں ہوتا تووہ حقیقی اصلاحات کا ایجنڈا یا قانون سازی نہیں ہوتی۔ اگرچہ شفاف اصلاحات کا کام پارلیمنٹ نے نہیں کرنا تو پھر اس ملک کے سیاسی نظام میں پارلیمنٹ کا سیاسی بوجھ کیوں سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ سیاسی نظام، سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ کے ارکان کی خوبی یا ان کی سیاسی کمٹمنٹ اسی بات سے جڑی ہوتی ہے کہ وہ پارلیمان کو موثر بنائیں اور ملک و قوم کی توقعات کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔ وگرنہ دوسری صورت میں سیاست، جمہوریت، پارلیمانی نظام یا پارلیمنٹ عوام میں اپنی ساکھ کھو دیتی ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر یہ کہنا کہ یہ کام ممکن نہیں درست نہیں۔ سیاسی نظام کی خوبی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ برے سے برے حالات میں بہتری کا راستہ تلاش کرتی ہے اور لوگوں کا سیاسی نظام پر اعتماد قائم کرتی ہے۔

ہمارا مجموعی طور پر عدالتی نظام میں اصلاحات یا تبدیلی کا عمل ناگزیر ہو گیا ہے۔ کیونکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے جو ہمیں داخلی یا خارجی یا گلوبل سطح پر جو چیلنجز ہیں ان سے نمٹ کر ہی ہم اپنے ملک کے عدالتی نظام کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم عالمی سطح پر اپنی ملکی عدالتی حیثیت کو دیکھیں تو اس کے لیے ورلڈ جسٹس رپورٹ 2020 جائزہ لینا ہوگا۔ اس رپورٹ کے بقول پاکستان 128 ممالک کی درجہ بندی میں سے 120 ویں نمبر پر جبکہ ساوتھ ایشیا میں سے ہم چھ میں سے پانچویں نمبر پر ہیں۔

یہ رپورٹ او راس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام او راس کی شفافیت کا نظام عالمی درجہ بندی میں کہاں کھڑا ہے۔ ہمیں اس تصور کو بھی ختم کرنا ہوگا کہ ”یہاں نظام ہمیں محض کتابوں میں ہی سرگرم یا اچھا نظر آتا ہے اور عملی طور پر یہ نظام طاقت ور کے گرد ہی گھومتا ہے یا یہ نظام طاقت ور لوگوں کے ہاتھوں عملی طور پر یرغمال بنا ہوا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں ہم نے عدالتی نظام میں ہونے والے بڑے اہم فیصلوں، بار اور بنچ میں ٹکراو، وکلا میں تشدد کے رجحانات دیکھے ہیں۔ خاص طور پر وکلا تحریک کے بعد جو کچھ تشدد کے مناظر ہمیں عدالتی نظام میں دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ قابل گرفت ہے۔ بڑے فیصلوں میں ہم کو قانون کی حکمرانی سے زیادہ سیاسی رجحانات یا گروپ بندی کے معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ملک کی پالیسی سازی یا پالیسی سازوں میں جن بڑی اصلاحات کی بات بڑی شدت سے کی جا رہی ہے ان میں عدالتی نظام سے جڑی اصلاحات کا عمل بھی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ عدلیہ کی خود مختاری بڑی اہمیت رکھتی ہے او راس میں بار و بنچ کے معاملات کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ یہ ہی عمل اس تاثر کی بھی نفی کرے گا کہ بڑے مقدمات میں قانون سے زیادہ سیاست کو برتری ہوتی ہے۔ اسی طرح دو اہم معاملات بھی زیر بحث ہیں اول ججوں کی تقرری کا نظام موثر اور شفاف ہونا چاہیے۔ موجودہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں او ر لگتا ہے کہ یہ طریقہ کار شفافیت سے زیادہ پہلے سے موجودہ دھڑے بندیوں کو طاقت دیتا ہے۔ دوئم ججوں کے احتساب کا طریقہ کار بھی واضح اور ہر سطح پر شفاف ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ تاثر عدالتی نظام سے آگے بڑھنا کہ ججز یا ان کے خاندان کے افراد ہر سطح پر احتساب یا جوابدہی کے عمل سے آزاد ہیں، درست نہیں۔

ہمیں اپنی عدالتی اصلاحات میں بنیادی نقطہ کو اہمیت دینی ہوگی کہ آئین اور قانونی نظام میں شہریوں میں جو برابری کا تصور ہے اس کو ہر سطح پر مضبوط بھی کیا جائے او راسی بنیاد پر قانون اور انصاف کو پرکھا جائے۔ اسی طرح اس نقطہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک متحرک، فعالیت اور شفافیت پر مبنی عدلیہ یا عدالتی یا انصاف کا نظام 1973 کے ستور کے تحت جمہوریت، اچھی حکمرانی، سیکورٹی، تحفظ، معیشت کی ترقی اور مساوات سمیت ادارہ جاتی عمل کو بھی مضبوط بنانے کے عمل کو ایک بڑی طاقت فراہم کرتا ہے۔

یہ جو ہمارے معاشرے میں محرومی کی سیاست، معاشی تفریق، امیر اور غریب میں بڑھتا ہوا فرق، ریاست اور شہریوں کے درمیان کمزور رشتے، خود سے بدلہ لینے یا انصاف کی خواہش، جرم کی دنیا میں عام آدمی کی شمولیت جیسے مسائل بھی ایک مضبوط عدلیہ اور شفاف انصاف کے نظام نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمارے عدالتی نظام سے جڑی قیادت، وکلا، بار، بنچ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ دور میں ہمارا عدالتی نظام لوگوں یا ریاستی توقعات کے برعکس ہے۔

اسی طرح ہمارے ملک میں جو بہت زیادہ سیاسی ماحول میں عدم اعتماد یا بہت زیادہ محاذ آرائی پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے بھی عدالتی فیصلوں پر سیاست کا عنصر منفی یا مثبت یعنی مخالفت یا حمایت کی صورت میں نظر آتا ہے۔ بالخصوص منفی عمل کی سیاست عدلیہ جیسے اداروں کو تنقید کے زمرے میں لاتی ہے اور یہ عمل ہماری عدالتی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کیا ہماری حکومت، ادارے، پارلیمنٹ، حزب اختلاف اور عدلیہ سے جڑے افراد عدالتی اصلاحات کو اپنی ترجیحات کا اہم ایجنڈا بنا سکیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارا انصاف کا نظام جو پہلے ہی اپنی ساکھ کھو چکا ہے مزید غیر اہم ہوتا جائے گا۔ اس لیے عدالتی نظام کی اصلاح ہماری اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *