مزاحمت سے مفاہمت کا راستہ: کس سے لڑائی اور کس سے دوستی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان جمہوری تحریک نے ایک بار پھر محتاط احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی اب اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں ہیں اس لئے سربراہی اجلاس میں ان پارٹیوں کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔ آج پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر امیر حیدر ہوتی نے چارسدہ میں پی ڈی ایم کے ساتھ اشتراک عمل کے امکان کو مسترد کر دیا تاہم ان دونوں لیڈروں کے بیانات میں بھی باہمی تصادم میں اضافہ سے گریز کیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیے اور تسلیم کرنا چاہیے کہ ہر پارٹی کو اپنے نظریہ اور منشور کے مطابق کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں اگرچہ ایک جگہ پر جمع نہیں ہیں لیکن ان کے درمیان بہت سے معاملات میں اتفاق رائے رہا ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک و قوم کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور صحافیوں پر حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور امیر حیدر ہوتی نے وسیع تر سیاسی تعاون پر زور دیا۔ اے این پی کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’پی پی پی اور اے این پی موجودہ سیاسی حالات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہم مختلف امور پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے‘ ۔

پیپلز پارٹی اور اے این پی کے قائدین نے اگرچہ اپوزیشن اتحاد سے علیحدہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن بین السطور متعدد امور پر وسیع تر تعاون کی بات کی گئی ہے۔ خاص طور سے جلد ہی قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں تعاون کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں بھی ایسے ہی اشارے سامنے آئے تھے۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے ایک طرف مستقبل میں احتجاجی جلسے کرنے کے شیڈول کا اعلان کیا تھا تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے بجٹ پر تمام پارلیمانی پارٹیوں کے درمیان ہم آہنگی و اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سیمینار کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو یہ سیمینار منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس سیمینار کا مقصد بجٹ سیشن میں حکومتی تجاویز کی مخالفت کرنا اور متفقہ فارمولا تیار کرنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی بلاول بھٹو زرداری کی طرح صحافیوں پر حملوں کی مذمت کی اور کہا ہم ہر طرح صحافیوں اور میڈیا کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں گے۔

واضح رہے کہ شہباز شریف گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے کی کوششیں کرتے رہے تھے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک عشائیہ بھی دیا تھا جس میں یہ دونوں پارٹیاں بھی مدعو تھیں۔ عشائیہ میں بلاول بھٹو زرداری تو شریک نہیں ہوئے لیکن پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈروں کا ایک وفد اس موقع پر موجود تھا۔ اس عشائیہ کے فوری بعد شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز نے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے سخت بیان دیے تھے جنہیں شہباز شریف کی مفاہمانہ کوششوں کو زائل کرنے کی سعی کہا گیا تھا۔ شہباز شریف نے اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے کوئی راستہ تلاش کرنے کی بات بھی کی تھی۔ گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس میں شہباز شریف کے علاوہ مریم نواز بھی شامل تھیں۔ اس طرح اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ مسلم لیگ (ن) میں پھوٹ پڑ گئی ہے یا پی ڈی ایم اپنی افادیت کھو چکی ہے۔

شہباز شریف کی قیادت میں بجٹ کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ حکمت عملی کے لئے سیمینار کے انعقاد کا اعلان کر کے مولانا فضل الرحمان نے جو اشارہ دیا ہے اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک شہباز شریف پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے درمیان پل بنانے کی کوششوں میں مکمل طور سے ناکام نہیں ہوئے۔ دوئم پی ڈی ایم کی قیادت اگرچہ بظاہر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے اتحاد میں واپسی کے لئے پرامید نہیں ہے لیکن اس نے غیر رسمی تعاون کا راستہ بھی بند نہیں کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور امیر حیدر ہوتی کی میڈیا گفتگو سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں اگرچہ اپوزیشن اتحاد میں تو دوبارہ شامل نہیں ہوں گی لیکن باہمی تعاون اور اشتراک کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس صورت حال کو کسی حد تک شہباز شریف کی سیاسی ہنر مندی قرار دیا جاسکتا ہے۔

ملک کے مشکل اور پرشور سیاسی ماحول میں یہ اشارے مثبت ہیں اور انہیں اپوزیشن قیادت کی ہوشمندی کا ثبوت سمجھنا چاہیے۔ پی ڈی ایم میں اسمبلیوں سے استعفوں کے سوال پر پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا ایک افسوسناک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں میں اس تصادم کی وجہ سے ملکی سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوا تھا جو حکمران تحریک انصاف کی طرف سے اپوزیشن مخالف پر جوش حکمت عملی کی وجہ سے پہلے ہی مکدر تھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات کا تبادلہ تو قابل فہم ہو سکتا ہے لیکن کسی حکومت کے خلاف مشترکہ رائے رکھنے والی پارٹیاں بھی اگر آپس میں دست و گریبان ہوجائیں تو اس سے سیاست بے معنی لگنے لگتی ہے اور سیاسی لیڈروں کے بارے میں منفی رائے مستحکم ہوتی ہے۔ ملک میں سیاسی مباحث، آزادی رائے اور جمہوری عمل کے مخالف عناصر اس صورت حال کو مفاد کی جنگ قرار دے کر تمام سیاسی پارٹیوں کو عوام دشمن اور جمہوریت کو رائیگاں مشقت قرار دینے لگتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حالیہ لڑائی کے دوران یہ جمہوریت دشمن رجحان نوٹ کیا گیا تھا۔ اس پہلو سے بھی اگر اپوزیشن لیڈر باہمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لئے احترام سے بات کرنے کا پیغام عام کر رہے ہیں اور متفقہ امور پر مل کر چلنے کے اشارے دیے جا رہے ہیں تو اس سے ملک کے جمہوری عمل میں اختلاف رائے کی ضرورت و اہمیت اجاگر ہوگی۔ جمہوریت میں اختلاف کرنا ایک مثبت اور صحت مند رویہ ہے لیکن اگر اسے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہ مفاد کی جنگ کہلاتی ہے۔ اس سے جمہوری تصور متاثر ہوتا ہے اور لوگوں کا سیاسی عمل سے اعتبار اٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔ پی ڈی ایم کے علاوہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کے تازہ بیانات اس حوالے سے ایک صحت مند سیاسی ماحول کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ملک میں جمہوری استحکام کے لئے اختلاف کے ساتھ احترام کا ایسا ہی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو یہ باور کروایا جاسکے کہ سیاست دان صرف اقتدار کے لئے ایک دوسرے کی گردن دبوچنے پر آمادہ نہیں رہتے۔

اس وقت پی ڈی ایم کے تحت جمع 8 پارٹیوں اور اس سے علیحدہ ہونے والی پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان اتفاق اور اختلاف کی صورت حال اب واضح ہو چکی ہے تاہم قیادت نے اسے شخصی لڑائی بنانے کی بجائے اس سے سیاسی طور سے نمٹنے کا اشارہ دیا ہے۔ اگر دونوں گروہ اس مقصد میں کامیاب رہے اور ایک بار پھر ایک دوسرے کو نشانہ بنانے پر آمادہ نہ ہو گئے تو اس سے دو سال بعد ہونے والے انتخابات تک ملک میں صحت مند سیاسی مکالمہ کا آغاز ہو سکے گا۔ اس طرح حکومت مخالف عناصر کو دلیل کی بنیاد پر یہ واضح کرنے کا موقع ملے گا کہ وہ کیوں تحریک انصاف کی حکومت کو ملک و قوم کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حکومت الزام تراشی کا ماحول پیدا کرنے کی جیسی بھی کوشش کرے، اگر اپوزیشن باہمی اختلافات سیاسی ڈائیلاگ کی حد تک محدود رکھنے میں کامیاب رہے تو تحریک انصاف کو بھی بالآخر سیاسی مقدمہ کا جواب دلیل اور حجت سے دینا پڑے گا۔ اسی ماحول میں دراصل ووٹر کو رائے بنانے اور بہتر منشور رکھنے والی پارٹی کو منتخب کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں یہ منزل حاصل کرنے کے لئے ابھی طویل انتظار اور سخت محنت کی ضرورت ہے لیکن اختلاف میں احترام کا ماحول اس کٹھن راستے کو آسان بنا سکتا ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں میں اختلافات کا آغاز موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے طریقہ پر ہوا تھا۔ اب بھی پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اصرار کیا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کرنا ہی سب سے اہم ہے لیکن سب سیاسی عناصر اب یہ نوشتہ دیوار بھی پڑھنے لگے ہیں کہ دو سال بعد انتخابات متوقع ہیں۔ ان دو سالوں میں کسی ایسی قومی تحریک کو منظم نہیں کیا جاسکتا جو حکومت کے زوال کا سبب بن سکے۔ نہ ہی عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت تبدیل کر کے کوئی بھی قومی پارٹی مختصر مدت میں کچھ ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہوگی جس کی بنیاد پر وہ انتخابات میں عوام کی حمایت حاصل کرسکے۔ اس لئے مرکزی حکومت کے خلاف کوئی ’مہم جوئی‘ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

البتہ بجٹ کے بعد پنجاب میں تبدیلی کی ایک نئی کوشش ضرور دیکھنے میں آ سکتی ہے تاکہ انتخابات کے دوران ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی ڈھانچے پر تحریک انصاف کا شکنجہ کمزور کر کے بہتر انتخابی نتائج کی امید کی جائے۔ اس تبدیلی کا انحصار البتہ اس بات پر ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کیا یہ دونوں تحریک انصاف کے سیاسی زوال کو حقیقت بنانے کے لئے تعاون پر آمادہ ہوں گے۔ ان میں سے ایک پنجاب کے سب سے مقبول سیاسی لیڈر ہیں اور دوسرے کی مرضی کے بغیر کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ اس سوال کا جواب اس سال کے آخر تک ہی مل سکے گا۔ تاہم شہباز شریف کی سیاسی سرگرمیاں اور کسی حد تک کامیابیاں اور نواز شریف کی مسلسل خاموشی معنی خیز ضرور ہے۔

گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مریم نواز سے صحافی نے سوال کیا کہ مسلم لیگ (ن) مفاہمت کی سیاست کرے گی یا مزاحمت کی؟ مریم کا جواب تھا کہ اگر مزاحمت ہوگی تو ہی مفاہمت ہو گی۔ ’پاور ٹاکس ٹو پاور‘ ۔ یاد رکھیں پاور کمزور سے بات نہیں کرتی ’۔ اس جواب پر غور کیا جائے تو مسلم لیگ (ن) میں شہباز اور نواز گروپ کے اختلافات کی حقیقت اور پارٹی کی حکمت عملی سمجھی جا سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا ایک طاقت دوسری طاقت سے بات کرنے پر آمادہ ہوگی یا دونوں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1875 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *