ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے گراہم!

حیران ہوں، زندگی کے کس موڑ پر تمہاری یاد آئی اور بے طرح آئی۔ 102 سال گزر جانے کے بعد ۔ جھریوں زدہ جسم، رعشہ زدہ ہاتھ۔ جھکی کمر۔ سفید بال۔ مدت گزر چکی منہ دانتوں سے خالی ہے۔ میں جو تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی، ساری زندگی گزار دی اور کبھی ایسا وقت بھی گزرا کہ تمہارا خیال تک نہ آیا۔

لیکن اب!

اب 2020 ء نے تمہاری یاد کے سمندر میں ایسا دھکیل دیا ہے کہ جان کنی کا عالم ہے۔ ذہن کے دریچوں سے تمام منظر یوں جھانک رہے ہیں کہ جیسے کل کی بات ہے جب تمہاری مجھ سے شادی طے ہوئی تھی۔ میں جاگتے سوتے سپنے دیکھتی تھی۔ اور تم!

تمہاری کیفیت بھی تو کچھ مختلف نہ تھی، چھٹی پہ گھر آنا تو مجھ سے ملنے کے بہانے تلاش کرنا، ہمارے گھر کے چکر لگانا، تمہاری نظروں کی تپش۔ میں آج بھی محسوس کر سکتی ہوں۔ اور وہ ایک سال۔ جب تم جنگ پہ گئے تھے، صدیوں پر محیط ہو گیا تھا۔

پھر انتظار ختم ہوا اور تم آ گئے۔ شادی کی تاریخ رکھ دی گئی۔ تم ہمارے گھر بھی آئے، اپنے تایا سے ملنے، میں نے بھی چھپ کر تمہیں دیکھا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہسپانوی فلو نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، تمہیں زکام کی شکایت ہوئی جو چند گھنٹوں میں اتنی بڑھی کہ تم بستر سے لگ گئے، تمہارا نیلا پڑتا جسم اور لمحہ بہ لمحہ نکلتی روح۔ اور ہماری بے بسی۔ پھر تم چلے گئے۔ ہمیشہ کے لئے۔ دل کی باتیں دل میں ہی رہ گئیں، نہ کچھ کہا، نہ سنا۔ تب میں سوچتی تھی کہ کاش دنیا نے ترقی کی ہوتی، کوئی ایسی دوا بنی ہوتی جس سے تم بچ جاتے۔

اب 2021 ہے۔ 100 سال کا عرصہ گزر گیا۔ دنیا نے ترقی کر لی۔ چاند تک رسائی ہے، لیکن بے بسی وہی ہے، 1919 کی۔ ہسپانوی فلو نے دنیا کو بے بس کر دیا تھا کیوں کہ اس وقت طب اور سائنس آج کے مقابلے میں بہت محدود تھی۔ دنیا میں صحت کا کوئی عالمگیر نظام وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ جب کہ تم آج کی دنیا دیکھو تو ششدر رہ جاؤ۔ طرح طرح کی مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں۔ پھر بھی۔ پھر بھی کوئی بھی اس بیماری کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ کرونا نے بھی دنیا کو بے بس کر دیا ہے۔ آج سے سو سال پہلے کی طرح۔

میں ایک کمرے میں قید ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ 1919 میں واپس آ گئی ہوں، سب نے ملنا جلنا چھوڑ دیا ہے، تنہائی ہے اور تمہاری یاد۔ باقی سب کچھ بھول چکا ہے، وہ چند سال صدی پر حاوی ہو گئے ہیں۔ اب صرف انتظار ہے۔

تمہاری جینیفر


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments