سلمی اعوان کا ناول: تنہا

سقوط ڈھاکہ کو پچاس سال مکمل ہو چکے ہیں۔پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پہ یہی موضوع زیر بحث ہے۔اس موضوع کو لے کے فلمیں اور ڈرامے بنائے جا رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ہر تکلیف، ہر دکھ کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔لیکن یہ ایک ایسازخم ہے جس پہ کھرنڈ نہیں جم سکا۔جس کے لئے کوئی مرہم کارگر ثابت نہیں ہوا۔تکلیف کااحساس پہلے دن کا سا ہے۔ چند دن پہلے اسی موضوع پہ "سلمی اعوان صاحبہ” کے

Read more

سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین

سیرو سیاحت کا شوق گھٹی میں پڑا ہے۔ جہاں تک رسائی ہو پہنچ جاتے ہیں۔ اور جہاں حدود و قیود اور بے بسی حائل ہو وہاں کتابوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کتابیں بھی کیا عجب شے ہیں۔ دیکھنے میں سیاہی بھرے چند صفات۔ لیکن ایک جہاں آباد کیے ہوئے۔ چند دن پہلے سلمی اعوان صاحبہ کا سفرنامہ ”حیرت بھری آنکھ میں چین“ نظر سے گزرا۔ سرورق اتنا خوبصورت کہ کتاب پڑھنے کو جی چاہے۔ شروع کیا تو انداز بیاں

Read more

خود کشی کا بڑھتا رحجان

"کراچی کے مشہور شاپنگ مال لکی ون کی تیسری منزل سے ایک بے روزگار نوجوان نے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔” کراچی میں فیڈرل بی ایریا میں 6 بچوں کے باپ نے بیروزگاری اور معاشی تنگدستی سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ یہ وہ خبریں ہیں جو ہمیں آئے روز سننے کو ملتی ہیں۔پاکستان میں خود کشی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین نفسیات نے انکشاف کیا ہےکہ گزشتہ 2 برس میں ملک میں خودکشی کی شرح

Read more

ایک خط

پیارے گراہم!

حیران ہوں، زندگی کے کس موڑ پر تمہاری یاد آئی اور بے طرح آئی۔ 102 سال گزر جانے کے بعد ۔ جھریوں زدہ جسم، رعشہ زدہ ہاتھ۔ جھکی کمر۔ سفید بال۔ مدت گزر چکی منہ دانتوں سے خالی ہے۔ میں جو تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی، ساری زندگی گزار دی اور کبھی ایسا وقت بھی گزرا کہ تمہارا خیال تک نہ آیا۔

Read more

ویساکھی کی یاد میں

آج 11 اپریل ہے۔ ویساکھی (اسے بیساکھی بھی کہا جاتا ہے ) کی آمد آمد ہے۔ ذہن کے دریچوں میں وہ دن جگمگانے لگے ہیں جب اپریل کے آغاز سے ہی ویساکھی کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ ہماری زمینوں میں بھی گندم کی فصل اگائی جاتی تھی۔ رشتے داروں ہمسائیوں کو کٹائی کی دعوت دی جاتی۔ سورج نکلنے سے پہلے تمام لوگ کھیتوں میں پہنچ جاتے۔ کٹائی شروع ہو جاتی۔ پھر ویساکھی کی خاص الخاص چیز ”جلیبی“ منگوائی جاتی۔

Read more

فنی تعلیم اور ہمارا نظام تعلیم

یوں تو میں پچھلے چند برسوں سے درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوں۔ لیکن گزشتہ ہفتے پہلی دفعہ جماعت نہم اور دہم کے طلبا کو پڑھانے کا اتفاق ہوا اور اپنے نظام تعلیم کے پسماندہ ہونے کا احساس شدت سے ہوا۔ ساڑھے پانچ پانچ فٹ سے نکلتے قد، توانائیوں سے بھرپور نوجوان۔ اور ہم ان کو کتابیں رٹنے پہ لگا دیتے ہیں۔ باالفاظ دیگر انہیں سوچنے سمجھنے، مشاہدہ کرنے سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر وہ رٹا شدہ سبق کو پرچوں پر اتارتے ہیں۔

وہی رٹا ان کی ذہانت، قابلیت جانچنے کا معیار ٹھہرتا ہے۔ (کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ بات) بچے اپنی ساری توانائیاں اے پلس، اے گریڈ لینے میں صرف کرتے ہیں۔ (اسی چکر میں ان کی قابلیت دب کر رہ جاتی ہے) ہم انہی لیبلز کے ساتھ انہیں ڈگریاں عنایت کر دیتے ہیں۔ وہ انہیں ہاتھوں میں لئے نوکریوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں لعن طعن کا ایک طویل سلسلہ۔

ہم نے تعلیم حاصل کرنے کو صرف اور صرف پیسے کمانے کا، نوکری کے حصول کا ایک ذریعہ سمجھ لیا ہے جب کہ تعلیم حاصل کرنا اور پیسہ کمانا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ تعلیم کا مقصد شخصیت کی تعمیر ہے اور پیسہ ضروریات زندگی پورا کرنے کا ایک ذریعہ۔

پیسے کمانے کے لئے کسی ہنر کا، فن کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن ہم ماسٹرز تک اپنے بچوں کو کوئی ہنر نہیں سکھاتے۔ انہیں صرف کتابیں یاد کروائی جاتی ہیں۔ یوں وہ زمانہ جو ان کے سیکھنے کا سب سے بہترین زمانہ ہوتا ہے، بے کار گزر جاتا ہے ۔

اب سے کچھ عرصہ قبل ہمارے سکولوں میں ایک بہت اچھا نظام تھا۔ جس میں ششم جماعت سے ہشتم تک طالبات کے لئے ہوم اکنامکس کا مضمون تھا، جس میں کھانا پکانا اورسلائی کڑھائی سکھائی جاتی تھی۔ طلبا کے لئے زرعی تعلیم کا مضمون تھا جس میں بیج بونا، پودے لگانا، کھیتی باڑی کرنا سکھایا جاتا تھا۔ چوں کہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے، جس کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے۔ یہ بہت اچھی تعلیم تھی جو مستقبل میں بچوں کے کام آ سکتی تھی۔ اب مدت ہوئی ان دونوں مضامین کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔ ان کے نعم البدل کے طور پر کوئی مضمون نصاب میں شامل نہیں کیا گیا۔

اب وقت اور اس کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ لیکن ہم ابھی تک اسی بوسیدہ نظام کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی معاشرے میں صرف ڈاکٹرز، انجینئرز، بینکرز، لائرز، جج درکار نہیں ہوتے۔ بلکہ الیکٹریشن، پلمبرز، ٹیکنیشن بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنے مندرجہ بالا شعبہ جات۔ یا شاید ان سے زیادہ ضروری۔ لیکن ہم فنی تعلیم کو تعلیم ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کو کسی قدر کم درجے پہ رکھتے ہیں۔

دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ اب اگر ہم ان ممالک کے نظام تعلیم کا جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہو گا کہ ہم کس قدر پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی نئی نسل کو ”ڈگریوں“ کے پیچھے بھگانے کے بجائے ”ٹیکنیکل“ کرنا شروع کر دیا ہے۔

فن لینڈ میں بچوں کو لیکچر دینے یا روایتی طریقے سے پڑھانے کے بجائے ایکٹویٹی بیسڈ یا Experiential learning پہ زور دیا جاتا ہے۔ یعنی پڑھنے اور یاد کرنے کے بجائے بچے کو زیادہ سے زیادہ اور دلچسپ ترین سرگرمیاں کرنے کو دی جاتی ہیں۔

چند سال قبل میٹرک لیول پر مضامین کا تصور ختم کر دیا گیا ہے۔ یعنی مضامین کے بجائے موضوع اور عنوانات منتخب کیے جاتے ہیں ، اس طرح پروجیکٹ بیسڈ سٹڈی کا تصور دیا گیا ہے۔ مثال کے طور اگر کوئی طالب علم بزنس مین بننا چاہتا ہے تو اسے بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس، مارکیٹنگ اور کمیونیکشن اسکلز کے پروجیکٹ دیے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ عملی طور پر چیزیں سیکھتا ہے۔ اس سارے عمل میں رٹا لگانے کی نوبت آتی ہے نہ ہی گنجائش نکلتی ہے۔ یوں اضافی اور غیر ضروری مضامین پڑھنے کا بوجھ بھی طلبا  کے سر سے اتر جاتا ہے۔

جاپانی سکولوں میں تین سال تک روایتی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ ان برسوں میں بچوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور ان کو اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں۔ چوتھی کلاس تک کوئی امتحان نہیں ہے بچوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور وہ گھٹن سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس عمر میں انہیں جاپانی کیلیگرافی اور پینٹنگ سکھائی جاتی ہے۔

جنوبی کوریا کے تعلیمی ادارے تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ کنڈرگارٹن، مڈل و ہائی، یونیورسٹی۔ کنڈرگارٹن میں دو سال کا بچہ داخل کرتے ہیں، جو کہ سات سال تک کنڈرگارٹن میں رہتا ہے۔ کنڈرگارٹن پیپر، بورڈ اور پلاسٹک سے بچوں میں نئی چیزیں بنانے کا رجحان پیدا کرتے ہیں۔ کنڈرگارٹن کے لیول سے ہی بچوں کو ڈانس، گانا، کھانا بنانا، پہاڑوں پہ چڑھنا، قانون کی پابندی، ٹریفک قوانین کی پابندی اور مذہب سے روشناس کروا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کراٹے، تیراکی، کمپیوٹر گیمز اور جسمانی کھیل اور صحت کے نظام سے بھی متعارف کروا دیا جاتا ہے ، اس طرح سات سال کی عمر تک بچہ اپنے اردگرد اور جدید دنیا کے ماحول سے واقف ہو چکا ہوتا ہے۔

ہم ابتدائی تعلیم میں بچوں کو ا، ب۔ A، B، C اور 1,2,3 میں ہی الجھائے رکھتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے۔ اور میٹرک تک بھی اپنے بچوں کو ایسی تعلیم نہیں دے پاتے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ فنی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنائیں تاکہ جب طلبا تعلیم سے فارغ ہوں تو نوکریوں کے لیے دھکے نہ کھائیں بلکہ اپنے ہنر کو استعمال میں لا کے ضروریات زندگی کو پورا کریں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب قول ہے کہ ”میں کڑیل جوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے اچھا لگتا ہے اور جب مجھے کہا جائے کہ اس کے پاس کوئی ہنر نہیں ہے تو وہ میری نظروں سے گر جاتا ہے۔‘‘

Read more

مجسمہ بنانے پر عوامی رویہ: حوصلہ شکن لوگ

مولانا رومی کی ایک حکایت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل جا رہے تھے کہ انھوں نے ایک چرواہے کی آواز سنی۔ وہ اونچی اونچی آواز میں کہہ رہا تھا ”اے میرے جان سے پیارے خدا! تو کہاں ہے۔ ؟ میرے پاس آ میں تیرے سر میں کنگھی کروں، جوئیں چنوں، تیرا لباس میلا ہو گیا ہے تو دھوؤں، تیرے موزے پھٹ گئے ہوں تو وہ بھی سیؤں، تجھے تازہ تازہ دودھ پلاؤں، تو بیمار ہو جائے تو

Read more

لاہور میں طالبہ کی پراسرار موت،قصوروار کون؟

پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر گردش کر رہی ہے۔ (لاہور میں ایک لڑکی کی موت سے متعلق خبر ہے،تفصیل میں نہیں جاؤں گی) لوگ واقعے کی تفصیل کے ساتھ لڑکیوں کے لیے لمبے چوڑے نصیحت نامے لکھ رہے ہیں۔ گویا لڑکیوں کے لئے دنیا میں رہنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ مشکل۔ ذرا سی لغزش، کوتاہی ان کی زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ٹھہریے!

Read more

ایمانداری کا عہد

آج 15 اگست ہے۔ آزادی کی تمام رونقیں مانند پڑ چکی ہیں۔ سبز و سفید جھنڈیاں جابجا بکھری ہیں۔ فضا جو کل تک قومی ترانوں سے گونج رہی تھی آج خاموش ہے۔ بیجز اتار کر اگلے سال کے لئے سنبھال کر رکھے جا چکے ہیں۔ زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چل پڑی ہے۔ یہی کہانی ہے جو ہر سال ذرا سے ردوبدل کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔ یکم اگست سے 14 اگست تک اہل وطن، وطن سے محبت کے جذبے

Read more

5 اگست: کشمیر میں لاک ڈاؤن کا ایک برس

” اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انھی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں گنہگار ہیں، اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔“ سورہ انفال کی یہ آیت پڑھی تو میں ٹھہر سی گئی۔ دوبارہ پڑھی، سہ بار پڑھی۔ اور اس آیت کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھنے لگی۔ 5اگست 2020 ء کو کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ ایک سال۔ ۔ ۔ یعنی 365 دن۔

Read more

انسانی جان سب سے سستی۔ ۔ ۔

چی گویرا کہتے ہیں کہ ایک انسانی جان کی قدر و قیمت دنیا کے امیر ترین شخص کی دولت کے لاکھوں گنا سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ انسان زندگی کے بارے میں وہی رائے رکھتا ہے جیسے اسے زندگی نے برتا ہو۔ شعور سنبھالنے سے آج تک میں نے سب سے زیادہ سستی انسانی جان ہی دیکھی ہے۔ حکومتیں آتی ہیں، جاتی ہیں۔ مہنگائی بڑھتی ہے، ٹیکس لگتے ہیں۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ لیکن

Read more

بلوچستان کے عوام کی آواز سنی جائے

چند دن پہلے ایک خبر نظروں سے گزری اور میں کئی دن تک اس کے اثر سے با ہر نہ نکل سکی۔ ”بلوچستان کی ایک لڑکی نے بھائی کی طویل گمشدگی سے دلبرداشتہ ہو کے خود کشی کر لی“ خوبصورت اور پیاری لڑکی درد کی تصویر بنی تھی۔ سوچ رہی ہوں کہ اس خود کشی کا محرک کیا صرف بھائی کی گمشدگی تھا؟ ایک انسان کب اس نہج پہ آتا ہے کہ اسے زندگی سے زیادہ موت پیاری لگنے لگتی

Read more

قحط

سشانت سنگھ کی خود کشی کی خبر سنی۔ دل دکھ سے بھر گیا۔ کیا گزری ہو گی اس باپ پہ جس نے جوان بیٹے کی خود کشی کی خبر سنی۔ ماں باپ تو بچوں کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کرتے۔ یہ دکھ کیسے سہا جائے گا۔ اور یہ صرف دکھ نہیں روگ بن گیا ان کے لئے عمر بھر کا روگ۔ طبعی موت پہ تو صبر کیا جا سکتا ہے اس موت پہ صبر آئے بھی تو کیونکر۔

چشم تصور میں اس شخص کا چہرہ آ رہا ہے۔ جو نہ جانے ذہنی ابتری کے کس درجے پہ ہو گا کہ زندگی کو ، اپنی تمام تر خوبصورتیوں سمیت، اتنا ارزاں سمجھا۔ باپ، بہن بھائی، کیرئیر سب کچھ پس پشت چلا گیا۔ کوئی خواہش باقی رہ گئی تو موت کی خواہش۔ ۔ ۔ اور وجہ کیا تھی؟ ڈپریشن، ذہنی عارضہ۔

Read more