کشمیری والد جو اپنے بیٹے کی تلاش میں جگہ جگہ زمین کھود رہے ہیں

ماجد جہانگیر - صحافی، سرینگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلے سال اگست کی بات ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انڈین فوجی کو اغوا کیا گیا تھا۔

اس فوجی کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے والد مسلسل اپنے بیٹے کی باقیات تلاش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جس دن منظور احمد کو پہلی بار اپنے بیٹے کے اغوا کی خبر ملی اگلے ہی دن پولیس نے ان کی کار کو جلا ہوا پایا۔ وہاں سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سیب کے باغ سے ان کی خون سے بھری بھوری قمیض اور کالی ٹی شرٹ کے کچھ پھٹے ہوئے حصے ملے۔ اس کے بعد سے انھیں اپنے بیٹے کے بارے میں مزید کوئی معلومات نہیں ملی۔

دو اگست سنہ 2020 کی شام کو 24 سالہ شاکر منظور عید منانے اپنے گھر شوپیاں پہنچے تھے۔ شوپیان سیب پیدا کرنے والا ضلع ہے۔ شاکر کے اہل خانہ نے بتایا کہ کچھ کشمیری علیحدگی پسندوں نے اس وقت ان کی کار روکی جب وہ اپنے گھر سے 17 کلومیٹر دور واقع فوجی اڈے کی طرف لوٹ رہے تھے۔

شاکر کے چھوٹے بھائی شاہنواز منظور نے واقعے کے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان میں سے کچھ علیحدگی پسند شاکر کی کار پر بیٹھ کر چلے گئے تھے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئے۔ شاہنواز قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد میں انھوں نے شاکر کی کار کو دوسری سمت سے آتے دیکھا تھا۔

شاہنواز اس وقت اپنی موٹرسائیکل سے گھر لوٹ رہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ شاکر کی کار اجنبیوں سے بھری ہوئی تھی۔

شاہنواز نے اپنی بائیک کو روک کر پوچھا کہ ‘کہاں جارہے ہو؟’ تو اس کے بھائی شاکر نے کہا ‘ہمارا پیچھا نہ کرنا’ اور وہ چلے گئے۔ اس واقعے کو نو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کے والد منظور ابھی بھی شاکر کی لاش تلاش کر رہے ہیں۔ جہاں شاکر کے کپڑے ملے تھے اس گاؤں سے تلاش شروع کر کے وہ تقریباً 50 کلو میٹر کے دائرے میں ہر جگہ اپنے بیٹے کی تلاش کر چکے ہیں۔

اس علاقے میں سرسبز و شاداب باغات، پانی کے چشمے، گھنے جنگل اور کچھ دیہات بھی آتے ہیں۔ شاہنواز نے اپنے والد کی مدد کے لیے گذشتہ سال کالج چھوڑ دیا تھا۔ کئی بار انھوں نے کھدائی کرنے والے یومیہ مزدوروں کی مدد لی تاکہ اس علاقے سے گزرنے والے ہر چھوٹی بڑے پانی کے نالے کو کھودا جا سکے۔

شاہنواز کا کہنا ہے کہ جب ہمیں کسی نئی جگہ کا اشارہ ملتا ہے تو نہ صرف ہمارے دوست بلکہ ہمارے پڑوسی بھی پھاوڑے اور کدال لے کر آجاتے ہیں۔ شاکر کے لاپتہ ہونے کے کچھ دن بعد ان کے گھر والوں کو ایک لاش ملی تھی جو گاؤں کے ہی ایک بزرگ کی تھی۔ پولیس کے مطابق انھیں بھی علیحدگی پسندوں نے اغوا کر کے قتل کردیا تھا۔

ابھی بھی تلاش جاری ہے

مقامی پولیس چیف دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ شاکر کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔ لیکن وہ اس تلاش کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کرتے ہیں۔ بی بی سی نے دلباغ سنگھ اور ڈی آئی جی کشمیر وجے کمار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ مقامی قوانین کے مطابق ایک شخص کو اس کے لاپتہ ہونے کے سات سال بعد ہی مردہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاکر منظور ابھی بھی سرکاری کاغذات میں ’لاپتہ‘ ہیں۔

شاکر کے والد منظور احمد کہتے ہیں: ‘میرے بیٹے نے اس ملک کے لیے سب سے بڑی قربانی دی ہے۔ اگر وہ شدت پسندوں سے جا ملا ہے تو حکومت کو اس کا عوامی طور پر اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ اور اگر وہ صرف شدت پسندوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے تو اس کی شہادت کو کیوں بدنام کیا جارہا ہے؟’

کشمیر کے حالات میں کسی کا بغیر کوئی سراغ چھوڑے غائب ہونا غیر معمولی بات نہیں ہے۔

پچھلے 20 سالوں میں ہزاروں افراد وادی سے غائب ہوگئے ہیں۔ لیکن شوپیاں جیسے قصبے میں جہاں فوج کی اچھی خاصی موجودگی ہے اور جو سری نگر سے صرف 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے وہاں اس طرح سے کسی فوجی کو کھو دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

اعتماد کا مسئلہ

منظور احمد ایک متوسط طبقے کے کسان ہیں وہ ان کشمیریوں کے اہل خانہ کے حالات کو بیان کرتے ہیں جو ‘لائن آف ڈیوٹی’ میں مارے جاتے ہیں۔ کئی بار انھیں نہ صرف اپنے معاشرے میں بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بہت سارے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈین سکیورٹی انتظامیہ کبھی بھی ان پر مکمل اعتماد نہیں کرتی ہے۔

منظور احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے کو انڈین فوج میں شامل ہونے سے منع کیا تھا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی۔

وہ مزید کہتے ہیں: ‘شاکر کو انڈین فوج میں شامل ہونے کا جنون تھا۔ وہ کبھی بھی ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتا تھا۔’

شاکر کا کنبہ اب باباؤں، فقیروں اور مزاروں کی طرف دیکھ رہا ہے۔

جب میں سری نگر میں منظور احمد سے ملا تو وہ بہت تھکے ہوئے نظر آئے۔ وہ کسی فقیر سے مل کر واپس آئے تھے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس کچھ ‘غیبی طاقت’ ہے جو ان کے بیٹے کی لاش کو تلاش کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

‘اپنی کوشش جاری رکھیں گے’

منظور احمد اپنی اہلیہ عائشہ سے کہتے ہیں کہ ‘میں ان باباؤں سے اپنا اعتماد کھو رہا ہوں۔

وہ غصے سے کہتے ہیں: ‘اس فقیر نے مجھ سے کہا کہ میں اسے اس جگہ ڈھونڈوں جہاں شاکر کے کپڑے ملے تھے۔ گویا ہم نے ابھی تک ایسی کوشش نہیں کی ہے۔’

شاکر کی والدہ عائشہ کا کہنا ہے کہ ‘پورے کشمیر میں شمال سے جنوب تک شاید ہی کوئی فقیر بچا ہو جس سے ہم نے ملاقات نہ کی ہو۔ میری بچیوں نے اپنے سونے کے زیورات بھی مساجد اور مزار کو نذر کر دیے۔ لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔’

منظور احمد کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انھیں کوئی سراغ ملے گا وہ ایک بار پھر اپنے بیٹے کی لاش کی تلاش میں کھدائی کریں گے۔

انھوں نے کہا: ‘اوپر والے نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ ہمیں اسی دن معلوم ہوگیا تھا کہ شاکر اب اس دنیا میں نہیں ہے جب ہمیں اس کے کپڑے ملے تھے۔ ہم نے اس کے نام کی فاتحہ بھی پڑھ لی۔ لیکن جب تک میں زندہ ہوں میں اسے تلاش کرنا بند نہیں کروں گا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp